• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ڈاڑھی بچہ کے اطراف کے بال کاٹنے کا حکم

استفتاء

ڈاڑھی بچہ کے اطراف کاٹنا یا اکھاڑنا جائز ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیں !

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ڈاڑھی بچہ  اور اس کے اطراف والے بال دونوں ڈاڑھی  کا حصہ ہےجن کی حدود یہ ہیں:

نچلے ہونٹ کے متصل نیچے والے بال (جو ٹھوڑی سے اوپر ہوتے ہیں)

ان بالوں کے اطراف والے بال جو نچلے ہونٹ کے دونوں کناروں تک پھیلے ہوتے ہیں۔

ان بالوں کو کاٹنا یا اکھاڑنا جائز  نہیں بلکہ بدعت ہے۔ ہاں البتہ وہ بال جو دونوں ہونٹوں کے عین کنارے پر ہوں انہیں کاٹنا یا اکھاڑنا  درست ہے تاکہ کھانا کھاتے یا پانی پیتے وقت یہ بال منہ میں نہ آ جائیں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

وَنَتْفُ الْفَنِيْكَيْنِ بِدْعَةٌ وَهُمَا جَانِبَا الْعَنْفَقَةِ وَهِيَ شَعْرُ الشَّفَةِ السُّفْلٰى.

                               (فتاویٰ عالمگیری: ج5 ص438 کتاب الکراہیۃ)

ترجمہ:  ”فَنِيْكَيْنِ“ کو اکھاڑنا بدعت ہے۔ اس سے مراد وہ بال ہیں جو ”عَنْفَقَہ“ یعنی نچلے ہونٹ کے متصل نیچے والے بالوں کے ارگرد گرد ہوتے ہیں۔

یہی بات علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) نے بھی تحریر فرمائی ہے۔  (رد المحتار مع الدر المختار: ج ص671)

© Copyright 2025, All Rights Reserved