- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دنیا بھر سے مختلف حضرات وخواتین نے کورونا وائرس سے متعلق کچھ سوالات کیے، ان کے الگ الگ جوابات بھی دیے گئے ہیں، اب قارئین کی سہولت کے لیے انہیں یکجا جمع کردیا گیا ہے۔ |
سوال1 :
محترمی و مکرمی متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ، عرض یہ ہے کہ :
كرونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر؛ منہ ڈھانپنا، ہاتھ دھونا، باہر نہ جانا، ہاتھ نہ ملانا وغیرہ ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب :
کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے طبی ماہرین کی تجویز کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا شرعی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ کسی وبائے عام کے موقع پر مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنا توکل کے ہرگز خلاف نہیں ہے۔ محکمہ صحت کی طرف سے جاری کی ہوئی تدابیر پر پوری طرح عمل کرنا شرعاً ضروری ہے۔
سوال2 :
کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے بعض ممالک میں مساجد بند کردی گئی ہیں، نماز جمعہ اور نماز با جماعت گهر میں پڑھنے کاکہا گیاہے۔ اس صورتحال میں گھروں میں نماز انفرادی طور پر پڑھیں یا باجماعت؟
جواب :
مساجد کی بندش اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی درست نہیں۔ لیکن چونکہ مساجد کو حکومت نے بند کیا ہے اس لیے آپ گناہگار نہیں، بلکہ گناہگار حکومت ہوگی۔ ہاں وہ حضرات جن کا اثر ورسوخ ہے وہ حکومتی اہلکاروں اور ذمہ داروں کو سمجھائیں۔ ایسی صورت میں باجماعت نمازوں کے لیے یہ صورت اپنائی جائےکہ نمازی سنتیں گھر سے ادا کر کے آئیں اور نماز کے بعد کی سنتیں بھی مسجد کے بجائے گھر جاکر ہی ادا کریں کیونکہ گھر میں سنتیں پڑھنا افضل ہے۔ اسی طرح نمازی حضرات وضو بھی گھر سے ہی کر کے آئیں،نمازِ جمعہ، دیگر اورعبادات کو مختصر کرنا ہی بہتر ہے۔اور اگر حاکم وقت یہ فیصلہ کر دے کہ گھروں میں نماز ادا کی جائے تو اس صورت میں گھر میں باجماعت یا انفراداً دونوں طرح نماز ادا کرنا جائز ہے۔ باجماعت ادا کرنا افضل ہے۔
سوال3:
اذان کے بعد صلوا فی بیوتکم یا صلوا فی رحالکم کہنا کیسا ہے؟
جواب :
ایسے الفاظ خاص مواقع پر کہنا حدیث سے ثابت ہے:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ٹھنڈی اور برسات کی رات میں اذان دی، پھر یوں پکار کر کہہ دیا ألا صلوا في الرحال اے لوگو! اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ لوگو ! اپنےگھروں میں ہی نماز پڑھ لو۔
صحیح بخاری،رقم الحدیث: 666
سوال4:
جمعہ کے دن بھی مساجد نہیں کھلیں گی جمعہ کی نماز، خطبہ نہیں ہوگا تو اس صورت میں ظہر ادا کرنی ہوگی یا جمعہ کی نماز؟ نیز اگر دو یا تین آدمی اپنے گھر یا کمرہ میں مل کر جمعہ کی نماز ادا کریں تو کیسا ہے؟
جواب :
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ، مساجد کی بندش اور اور جمعہ پر پابندی جائز نہیں۔ جمعہ مسجد میں ہی ادا کرنا چاہیے لیکن اگر حکومت کی جانب سے رکاوٹ ہو تو ایسی صورت میں مختلف جگہوں پر کچھ افراد جمع ہو کر جمعہ ادا کر لیں کیونکہ احناف کے ہاں جمعہ کی نماز کے لیے امام کے علاوہ تین افراد کافی ہیں لہذا ایسی صورت میں ایک شخص کو امام بنا لیا جائے اور مختصر خطبہ ہو جائے جس میں حمد و ثنا اور تقوی کا ذکر ہو۔ اگرمسجد میں جمعہ ادا کرنے کی گنجائش ہو تو اس صورت میں مسجد میں جمعہ ہی ادا کیا جائے۔
سوال5 :
گھر میں جمعہ کی نماز پڑھنی ہو تو اس کے لیے کوئی مختصر سا خطبہ بتا دیں۔
جواب :
جمعہ کے لیے مختصر سا خطبہ درج ذیل ہے:
پہلا خطبہ
اِنَّ الْحَمْدَ لِلہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا۔ وَأَشْھَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ أَمَّا بَعْدُ: فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللہِ وَخَیْرَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم۔ بَارَکَ اللہ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْقُرْآنِ الْعَظِیْمِ وَنَفَعَنَا وَاِیَّاکُمْ بِالْکِتَابِ وَالْذِّکْرِ الْحَکِیْمِ اِنَّہٗ تَعَالٰی جَوَّادٌ کَرِیْمٌ
دوسرا خطبہ
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِهٖ وَذُرِّیَّتِهٖ وَصَحْبِهٖ اَجْمَعِیْن۔ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: خَیْرُ اُمَّتِیْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ۔ انَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْيِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ
سوال6:
بیوی یا دیگر محرم خواتین کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں؟
جواب :
بیوی اور دیگر خواتین کے ساتھ جماعت کروا سکتے ہیں، ایسی صورت میں عورت اتنا پیچھے کھڑی ہوگی کہ سجدہ کی حالت میں اس کا سر امام کے پاؤں سے پیچھے رہے۔ اگر بچے بھی جماعت میں شریک ہوں تو سب سے آگے امام کھڑا ہوگا، پھر بچے (لڑکے) کھڑے ہوں گے، اس کے بعد عورت کھڑی ہوگی، اگر صرف ایک بچہ ہو تو امام کے دائیں جانب کھڑا ہوگا اور پیچھے عورت کھڑی ہوگی۔
سوال7 :
ماسک پہن کر نماز ادا کرسکتے ہیں؟
جواب :
بلا ضرورت منہ کو ماسک یا کسی کپڑے سے ڈھانپنا مناسب نہیں، البتہ کوئی مجبوری ہو یا مرض پھیلنے کا خدشہ ہو تو ماسک پہن کر نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
سوال8 :
گھروں میں اشیائے ضروریہ کا سٹاک جمع کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :
ضرورت کے مطابق سامان خرید کر رکھنا جائز ہے، البتہ اتنا زیادہ سٹاک خرید کر ذخیرہ کرنا جس سے مارکیٹ میں قلت پیدا ہوجائے، جائز نہیں۔
سوال9 :
کورونا وائرس کی وجہ سے اگر کوئی فوت ہو جائے اور حکومت اس شرط پر لاش حوالے کرے کہ اس لاش کو کھولا نہیں جائے گا بلکہ حکومت کی طرف سے جو بند لاش ملی ہے اسی کو دفنانا ہے تو اس کے غسل و کفن کی کیا صورت ہو گی؟
جواب :
میت کوغسل دینا واجب ہے،ا ور بلاعذر اس کوترک کرنا جائز نہیں ہے۔ اگرحکومت رشتہ داروں کو ایسی لاش واپس کرے جس کےکھولنے پرحکومت کی طرف سے پابندی ہواور خلاف ورزی کرنے پر سزا ملنے کا یقین یا قوی اندیشہ ہو،توایسی صورت میں درج ذیل صورتوں میں سےترتیب وار جو صورت عملاً ممکن ہو،اس صورت کواختیار کریں :
اگرہسپتال کے عملہ کے پا س احتیاط سے اس طرح کی میت کوپلاسٹک وغیرہ میں بندکرنے کےآلات موجودہیں، توان کوچاہیے کہ اس طرح کی میت کو غسل دے کر میت کے لواحقین کوحوالہ کریں،ا ور اگر ہسپتال کاعملہ غسل دینے سے انکارکرے تومیت کے بدن پر جو کپڑے ہیں، اسی کے ساتھ کسی فوارے کے نیچے رکھ کر،یادورسے پائپ وغیرہ کے ذریعے اس پر پانی بہاکر غسل دیاجائے، اور اگر میت کوپلاسٹک وغیرہ سے کھول کر پائپ وغیرہ سے بھی غسل دینے میں غسل دینے والے کوبیماری لگنے کا خطرہ ہوتو:جس پلاسٹک میں بند ہے اس کے اوپر غسل کی نیت سے پانی بہادیاجائے، کیونکہ میت کوغسل دینا اور اس پر جنازہ پڑھنا واجب ہےا ور یہ مسلمان کےذمے اس کاحق ہے، جوصرف بیماری ا ور مرض لگنے کےخطرے کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا۔
سوال 10:
اس موقع پر شریعت ہمیں کون سے اعمال کا حکم دیتی ہے جن سے ہمیں دنیا اور آخرت میں مشکلات سے نجات ملے؟
جواب:
ایسے حالات میں توبہ استغفار کی کثرت کرنی چاہیے ۔ صدقہ دیں، اپنے گلی محلے اور رشتے داروں میں بیوہ، یتیم اور مستحق افراد کو ضروریاتِ زندگی مہیا کریں۔ صدقہ ہر قسم کی بلا کو ٹالتا ہے، بری موت سے بچاتا ہے اور رزق، صحت اور عمر میں برکت لاتا ہے۔
مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں۔دعا مومن کا ہتھیا ر ہے، خیر و برکت لانے اور ہر قسم کے شر اور آفت سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ان حالات میں درج ذیل دعاؤں کا اہتمام کریں:
حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مصیبت زدہ کو دیکھے اوریہ دعا پڑھے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِی مِمَّا ابْتَلاَکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلاً
ترجمہ:
سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس مصیبت سے بچایا جس میں تجھے مبتلا کیا اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی، تو وہ زندگی بھر اس وبا سے محفوظ رہے گا۔
اس لیے جب بھی کسی کے بارے میں سنیں کہ اسے کوئی متعدی بیماری لاحق ہوئی ہے تو یہ دعا ضرور پڑھیں۔
ہر قسم کی موذی بیماری سے بچنے کے لیے یہ مسنون دعائیں مانگا کریں:
اَللّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ
ترجمہ:
ا ے اللہ! میں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بُری بیماریوں سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔
اَللّهُمَّ عافِني في بَدَني اَللّهُمَّ عافِني في سَمْعي اَللّهُمَّ عافِني في بَصَري لا إلهَ إلَّا أنتَ
ترجمہ:
اے اللہ! میرے بدن ، میری سماعت اور میری آنکھوں میں عافیت دیجیے؛ آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved