- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آج کل کورونا وائرس کی وجہ سے اموات بہت زیادہ واقع ہو رہی ہیں۔ مرنے والوں میں جہاں مسلم لوگ ہیں وہاں غیر مسلم لوگ بھی بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔ غیر مسلم کے فوت ہو جانے کی صورت میں ہمارے ہاں چند سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوال نمبر1:
اگر کوئی غیر مسلم بیمار ہو جیسا کہ آج کل کورونا کی وجہ سے لوگ بہت بیمار ہیں تو پڑوسی ہونے کے ناطے ایک مسلمان کے لیے کیا حکم ہے؟ غیر مسلم کی بیماری کے علاج کے لیے اس کی مالی معاونت کرنا اور اس کی عیادت کے لیے اس کے گھر جانا کیسا ہے؟
جواب:
دینِ اسلام امن وسلامتی اور باہمی امداد کا درس دیتا ہے۔ اسلام میں جہاں مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے وہاں غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی امداد کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ غیر مسلم کے ساتھ بحیثیت انسان؛ احسان کا معاملہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس لیے اگر کوئی غیر مسلم بیمار ہو تو اس کے علاج معالجہ کے لیے مالی امداد کرنا اور اس کی عیادت کرنا نہ صرف یہ کہ جائز بلکہ مستحسن اور اچھا عمل ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کٹھن حالات میں غیر مسلموں کے ساتھ مالی تعاون کریں، ان کی عیادت کریں اور اس بیماری کے دور ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے رہیں۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غُلَامًا لِيَهُودَ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ: “أَسْلِمْ” فَأَسْلَمَ.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 5657)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ ایک بار وہ بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اسے فرمایا: ”اسلام قبول کر لو!“ تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔
ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی (ت1014ھ) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
فيه دلالة على جواز عيادة الذمي.
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح: ج5 ص294 باب عیادۃ المریض)
ترجمہ: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ذمی (غیر مسلم) کی عیادت کرنا جائز ہے۔
سوال نمبر2:
اگر کوئی غیر مسلم فوت ہو جائے تو اس کی وفات کی خبر سن کر مسلمان ”ٳنا للہ وٳنا ٳلیہ راجعون“ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس موقع پر مسلمانوں کے لیے کیا حکمِ شرعی ہے؟
جواب:
سب سے افضل اور بہتر تو یہی ہے کہ غیر مسلم کی وفات کی خبر آئے تو خاموشی اختیار کی جائے، اس کے حق میں کوئی بات بھی نہ کی جائے ، نہ مثبت نہ منفی۔ اگر ”ٳنا للہ وٳنا ٳلیہ راجعون“ پڑھا جائے تو گنجائش ہے لیکن یہ الفاظ کہتے ہوئے بھی اپنی موت اور آخرت کو سامنے رکھا جائے۔
سوال نمبر3:
اگر غیر مسلم پڑوسی فوت ہو جائے تو اس کی تعزیت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر تعزیت کے لیے جائیں تو کون سے الفاظ استعمال کریں؟
جواب:
غیر مسلم کی تعزیت کی جا سکتی ہے۔ ان کے ہاں جا کر یہ الفاظ کہے جائیں: ”اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے اور آپ کے ساتھ بہتری والا معاملہ فرمائے۔“
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی الحنفی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
جَارٌ يَهُودِيٌّ أَوْ مَجُوسِيٌّ مَاتَ ابْنٌ لَهُ أَوْ قَرِيبٌ يَنْبَغِي أَنْ يُعَزِّيَهُ ، وَيَقُولَ: “أَخْلَفَ اللَّهُ عَلَيْك خَيْرًا مِنْهُ ، وَأَصْلَحَك” وَكَانَ مَعْنَاهُ: أَصْلَحَك اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ يَعْنِي رَزَقَك الْإِسْلَامَ وَرَزَقَك وَلَدًا مُسْلِمًا.
(رد المحتار مع الدر المختار: ج6 ص388)
ترجمہ: اگر کسی کا ہمسایہ یہودی ہو یا مجوسی ہو اور اس کا بیٹا یا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو مسلمان اس کے ساتھ ان الفاظ سے تعزیت کرے: اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے اور آپ کے حالات کو درست فرماد ے! اس کا معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام کی توفیق عطا فرما کر آپ کے حالات درست فرما ئے اور آپ کو ایسا بیٹا عطا فرمائے جو مسلمان بنے۔
سوال نمبر4:
غیر مسلم میت کی تعزیت کے لیے جائیں تو وہاں اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی جب تعزیت کریں تو ساتھ یہ بھی کَہ دیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بخشے، اس کی بخشش فرمائے وغیرہ۔
جواب:
غیر مسلم کے ساتھ اظہارِ ہمدردی، اس کی عیادت اور مالی معاونت تو جائز ہے لیکن اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ مغفرت کی دعا صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ اس لیے غیر مسلم کے لیے کبھی بھی ایسا جملہ نہ بولا جائے جس سے اس کی مغفرت طلب کرنے اور گناہوں کی معافی مانگنے کا ادنیٰ سا پہلو بھی نکلتا ہو۔ اس سے یکسر اجتناب کرنا لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ﴾
(سورۃ التوبۃ: 84)
ترجمہ: ان (کفار و منافقین) میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔
علامہ سید محمود آلوسی بغدادی الحنفی (ت1270ھ) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
والمراد من الصلاة المنهي عنها صلاة الميت المعروفة وهي متضمنة للدعاء والإستغفار والإستشفاع.
(تفسیر روح المعانی: ج10 ص155)
ترجمہ: اس آیت میں جس ”صلوٰۃ“ سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد نماز جنازہ ہے (یعنی آپ ان لوگوں کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیں) نمازِ جنازہ میں میت کے لیے دعا، مغفرت طلب کرنا اور اللہ کے ہاں اس کی سفارش کرنا سب شامل ہے (تو نماز سے منع کرنے کا معنی ان سب امور سے منع کرنا ہے)
سوال نمبر5:
جیسا کہ کورونا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کے مریض کثرت سے ہسپتالوں میں آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے۔ مریضوں کے لیے بیڈز (Beds) کم ہونے کے باعث ہسپتالوں کے برآمدوں ، سبزہ زاروں حتیٰ کہ سڑکوں پر بھی مریض نظر آ رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر مساجد کو کووِڈ سینٹر بنایا جائے -جیسا کہ بعض علاقوں کے مسلمان ایسا کر بھی رہے ہیں- تو شرعاً اس کی اجازت ہے یا نہیں؟
جواب:
مساجد کو کووِڈ سینٹر بنانے سے یکسر اجتناب کیا جائے۔ مساجد کے قیام کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ کووِڈ سینٹر بنانا مساجد کے مقاصد کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ اس میں مریضوں اور ان کے ورثاء کی آمدورفت، ادویات اور آلات کی فراہمی، مرض کے اثرات اور اموات ہو جانے کی صورت میں مسجد کی ناپاک کا قوی اندیشہ ہے۔ شریعت مطہرہ نے مساجد کو عبادت کے لیے پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس لیے بجائے مساجد کے دیگر مقامات (مثلاً سکولز، کالجز، یونیورسٹیز وغیرہ) کو کووِڈ سینٹر بنایا جائے تاکہ مطلوبہ مقاصد بھی حاصل ہو جائیں اور مساجد کا احترام بھی باقی رہے۔
واضح رہے کہ ان حالات میں مساجد کو نماز، تلاوت اور ذکر واذکار کے ساتھ آباد کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور مرض کی شدت ختم ہو۔ کووِڈ سینٹر بنانے کی صورت میں انسدادِ مرض کا یہ ذریعہ بھی کہیں فراموش نہ ہو جائے ! اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ وَمَجَانِينَكُمْ وَشِرَاءَكُمْ وَبَيْعَكُمْ وَخُصُومَاتِكُمْ وَرَفْعَ أَصْوَاتِكُمْ.”
(سنن ابن ماجۃ: رقم الحدیث 750)
ترجمہ: حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنی مساجد کو بچوں، پاگلوں، خرید وفروخت، جھگڑوں اور اپنی آوازوں کو بلند کرنے سے محفوظ رکھو۔
نوٹ: بعض ممالک میں ایسے مقامات موجود ہیں جو مسجد کے طور پر وقف نہیں کیے گئے اگرچہ وہاں پانچ وقت نماز بھی ادا کی جاتی ہے (ہمارے عرف میں انہیں ”مصلیٰ“ کہا جاتا ہے) ایسے مقامات شرعی مسجد کے حکم میں نہیں ہوتے۔ اگر ان جیسے مقامات کو کووِڈ سینٹر بنا دیا جائے تو اب بلا شبہ جائز ہو گا۔ اسی طرح بعض مساجد کے قریب ایسے ہالز ہوتے ہیں جنہیں خوشی غمی اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ہالز کو بھی کووِڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ہاں! مسجد شرعی کو اس مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
سوال نمبر6:
غیر مسلم لوگ اپنی میتوں کو انتم سنسکار (Antim Sanskar) کرتے ہیں۔ وہ اپنی میت کو لے جا رہے ہوں تو کیا مسلمانوں کو ان کا جنازہ اٹھا کر شمشان گھاٹ تک ان کے ساتھ جانا جائز ہے؟ اگر جلانے کا عمل غیر مسلم ہی کرے لیکن مسلمان وہاں کھڑے ہوئے محض ان کی دلجوئی کے لیے ان کی مذہبی رسومات میں شرکت کریں تو کیسا ہے؟
جواب:
کسی ضرورت یا مصلحت کے پیش نظر اگر غیر مسلموں سے ہمدردی کی جائے اور ان کی فوتگی پر تعزیت کی جائے تو اس حد تک درست ہے لیکن ان کی مذہبی رسومات میں مسلمان کو شرکت کرنا درست نہیں۔ ان کی میت کے ساتھ چلنا، انتم سنسکار کے عمل کے وقت وہاں کھڑے ہونا اور ان کی رسومات میں شرکت کرنا جائز نہیں۔ جس حد تک ممکن ہو ان رسومات سے دور رہنا چاہیے۔
علامہ سید محمود آلوسی بغدادی الحنفی (ت1270ھ) آیت قرآنی ﴿وَ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ﴾ [سورۃ التوبۃ: 84] کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
﴿وَلَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ﴾ … والمراد: لا تقف عند قبرہ للدفن او للزیارۃ.
(روح المعانی: ج10 ص155)
ترجمہ: اللہ کے فرمان کہ ”کسی کافر یا منافق کی قبر پہ کھڑے نہ ہوا کرو“ سے مراد یہ ہے کہ اس کے دفن کے وقت اس کی قبر پہ نہ کھڑے ہو ا کرو یا مطلب یہ ہے کہ اس کی (قبر کی) زیارت کے لیے نہ جایا کرو۔
جب دفن کے لیے کھڑا ہونا ممنوع ہے تو لاش کو جلانے کی رسم کے وقت کھڑا ہونا – جو خالصتاً ان لوگوں کے غلط عقائد ونظریات کی عکاس ہے- کہاں درست ہو گا؟ اس لیے ایسی جگہوں سے حد درجہ کنارہ کشی اختیار کی جائے۔
سوال نمبر7:
ایک اہم مسئلہ جو یہاں درپیش ہے وہ یہ ہے کہ کرونا میں ہمارے یہاں بعض غیر مسلم لوگ اپنے مرنے والوں کی لاشیں پھینک کر چلے جاتے ہیں تو مسلمانوں کی ایک تنظیم ہے جو ان لاشوں کو لے جا کر بطورِ خدمت جلا دیتی ہے۔ کیا ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ غیر مسلموں کی لاشوں کو جلائیں ؟
جواب :
کسی مسلمان کے لیے لاش کو جلانا جائز نہیں اگرچہ وہ کسی غیر مسلم ہی کی لاش کیوں نہ ہو بلکہ اسے دفن کرنا ضروری ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں:
(1): اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ باغیوں اور اسلام دشمن لوگوں کی لاشوں کا مُثلہ نہ کیا جائے۔ یعنی ان کے مرنے کے بعد ان کے جسمانی اعضاء کو کاٹنا اور لاش کی صورت بگاڑنا ممنوع ہے۔ جب غیر مسلم کی لاش کو باقی رکھتے ہوئے محض اعضاء کاٹنے سے منع فرمایا گیا ہے تو سرے سے لاش کو جلا کر ختم کر ڈالنا بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گا۔
(2): میت کو جلانا ہندؤوں کا شعار ہے ۔ ایک مسلمان کا لاش کو جلانا ہندوانہ شعار کو فروغ دینے کے مترادف ہے جو بالکل جائز نہیں۔
اس لیے اس مسلم تنظیم کو سمجھا دینا چاہیے کہ غیر مسلم میت کو جلانے کے بجائے اسے دفن کرنے کا انتظام کرے کیونکہ بحیثیت انسان میت کی عزت دفن کرنے میں ہے، نہ کہ اسے جلانے میں۔
عَنْ عَبْدِ اللّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهٰى عَنْ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 5516)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار اور مُثلہ کرنے (یعنی میت کے جسم کو کاٹنے اور اس کی صورت بگاڑنے) سے منع فرمایا۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا”. (سنن ابی داؤد: رقم الحدیث 3209)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کی ہڈی کو توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی کو توڑنا۔
شیخ الاسلام امام ابو بکر بن علی بن محمد الحداد یمنی الحنفی (ت800ھ) لکھتے ہیں:
وَإِنَّمَا تُكْرَهُ الْمُثْلَةُ بَعْدَ الظَّفَرِ بِهِمْ.
(الجوہرۃ النیرۃ: ج2 ص259)
ترجمہ: ان (مسلمانوں کے دشمنوں اور باغیوں) پر قابو پا لینے کے بعد ان کا مُثلہ کرنا مکروہ ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved