- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان؛ عیسائیوں کو اُ ن کے مذہبی دن ( کرسمس ڈے) پر مبارک باد دے سکتا ہے ؟ کیا اس موقع پر کسی عیسائی کو کیک پیش کرنا درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
غیر مسلموں کے مذہبی تہوار چونکہ غلط اعتقادات پر مبنی ہوتے ہیں اور عیسائی بھی کرسمس ڈے اپنے مذہب کے شعار کے طور پر تعظیماً مناتے ہیں اس مسلمانوں کے لیے کرسمس کی تقاریب میں شرکت جائز نہیں۔ اسی طرح کرسمس ڈے پر مبارک باد دینا بھی درست نہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: “مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ “.
( سنن ابی داؤد :رقم الحدیث 4031)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو اس کا شمار انہی میں ہو گا۔
شریعت مطہرہ میں شرکیہ یا ناجائز امور کرنا ، ان کی تائید کرنا اور کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنا ناجائز ہے۔ کرسمس کے موقع پر کسی عیسائی کو کیک دینا بھی درست نہیں کیونکہ کیک دینے کی صورت میں ان کی مذہبی رسم کی تائید ہے، لہذا اس موقع پر کیک نہ دیا جائے ۔
عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: من کثر سواد قوم فہو منہم ومن رضي عمل قوم کان شریکًا في عملہ .
(کنز العمال: ج 9 ص 11 رقم الحدیث: 24730)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی قوم کے اجتماع کو اپنی شرکت کے ذریعے بڑھائے وہ انہی میں سے ہے اور جو کسی قوم کے عمل سے خوش ہو وہ اس عمل میں ان کا برابر کا شریک ہے ۔
اگر کوئی عیسائی کرسمس کے موقع پر کیک پیش کرے تو ہرگز نہ لیا جائے۔ اگر واپس کرنے میں سخت نقصان کا اندیشہ ہو تو کسی غریب کو دے دیا جائے، خود ہرگز نہ کھایا جائے۔
یہاں ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات میں غیر مسلموں سے اچھے برتاؤ کا تاکیدی حکم موجود ہے۔ اسلامی ریاست میں بھی ان کے جان و مال اور ان کی عزت و آبرو کے تحفظ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ان کے دکھ درد میں ہمدردی اور خیرخواہی کاسبق بھی اسلام ہی دیتا ہے ۔ ان کی معاشی و معاشرتی ضروریات کو مکمل کرنا بھی اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔لیکن ان سب کے باوجود حدِ اعتدال کو ضروری قرار دیا گیا ہے، ان کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ﴾
(سورۃ الفرقان: 72)
کہ مومن وہ ہیں جو غلط محفلوں میں شریک نہیں ہوتے۔
اس کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ ”زُور“ سے مراد غیر مسلموں کے تہوار ہیں۔
چنانچہ حضرت عبدا للہ بن عباس رجی اللہ عنہما اس کی تفسیر یوں فرماتے ہیں:
أنه اعياد المشركين.
(تفسیر احکام القرآن للقرطبی:ج13 ص78)
کہ اس آیت میں ”زور“ سے مراد مشرکین کی عیدیں اور میلے ٹھیلے ہیں۔
یہاں اس بات کو بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے کہ جب ایسی محافل اور تقریبات میں محض شرکت سے ہی اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہے تو غیرمسلموں کی مخصوص مذہبی رسومات کو ادا کرنے کی کس طرح گنجائش نکل سکتی ہے؟
© Copyright 2025, All Rights Reserved