- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک خاتون فوت ہو گئی ہیں۔ وہ وراثت میں کافی سارا زیور چھوڑ کر گئی ہیں۔ ان کے ورثاء میں چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ تو یہ سونا ان کے درمیان کس طرح سے تقسیم ہو گا ؟ کیا وہ سارا زیور بیچنا ضروری ہے یا کوئی اور صورت بھی بن سکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مرحومہ کے ترکہ میں سے ہر بیٹے کو دوہرا(ڈبل) اور ہر بیٹی کو اِکہرا(سنگل) حصہ ملے گا۔ اس لحاظ سے اس سونا کے کل تیرہ حصے ہوں گے۔ ہر بیٹے کو دو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ اس سونے کو تقسیم کرنے کے کئی طریقے ہیں ، کسی ایک کو اختیار کر لیا جائے۔
(1) اگر اس سونا کے برابر حصے کرنا ممکن ہوں تو اس کو تیرہ حصوں میں تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دے دیا جائے۔
(2) تمام سونا فروخت کر کے اس کی رقم مذکورہ طریقے کے مطابق تقسیم کر دی جائے۔
(3) اس سونا کی مارکیٹ سے قیمت فروخت معلوم کر لی جائے۔ پھر اس تمام سونا کو کوئی ایک وارث مارکیٹ قیمت کے مطابق خرید کر اپنے پاس رکھ لے اور باقی ورثاء میں سے ہر ایک کو اس کے حصہ کی قیمت ادا کر دے۔
نوٹ: اگر مرحومہ کا کوئی اور ترکہ بھی ہو تو وہ بھی تیرہ حصوں میں تقسیم ہو گا، اس میں سے بھی ہر بیٹے کو دوہرا اور ہر بیٹی کو اکہرا حصہ ملے گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved