• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بلیک فرائیڈے کا تصور اور اس دن کم ریٹ کی سیل سے خریداری کرنے کا حکم

استفتاء

ہمارے یہاں نومبر کے آخری جمعۃ المبارک کو   ”بلیک فرائیڈے“کا نام دے کر اشیاء سستی قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔    عام افراد سال بھر اس دن کے انتظار میں رہتے ہیں کیونکہ اس دن اشیاء  80 فیصدی رعایت تک بھی فروخت ہوتی ہیں۔ یہ دن ایک دہائی سے خریداری کے اعتبار سے سال بھر کا مصروف ترین دن بنتا جا رہا ہے۔

اس دن کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1:      اس دن کو ”بلیک فرائیڈے“ کہنا کیسا ہے؟  کیونکہ ایک مسلمان تو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ جمعہ جیسے با برکت دن کو ”سیاہ جمعہ“ کا نام دے -العیاذ باللہ- کیا یہ مذہبی طور پر مسلمانوں کے خلاف کوئی منظم سازش تو نہیں جس میں ہم بے خبری میں ملوث ہو رہے ہوں!

2:      اس دن اشیاء کے  ریٹ کم ہونے کی وجہ سے ہم مسلمان ضروریات کی چیزیں خرید سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس حوالے سے قبل چند امور ملاحظہ ہوں:

[1]:       امریکہ  وغیرہ جیسے ممالک میں ایک دن منایا جاتا ہے جسے ”یومِ شکرانہ“ کہتے ہیں۔ یہ دن ماہِ نومبر کی چوتھی جمعرات کو ہوتا ہے۔  ان ممالک میں عموماً ان دنوں میں فصل کاٹی جاتی ہے اس لیے اس دن کو منانے کا مقصد  فصل اور گزشتہ سال کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہوتا ہے۔  اس دن کے آنے سے قبل فصل کٹ چکی ہوتی ہے اور لوگ فارغ ہو چکے ہوتے ہیں اس لیے اس  دن کو منانے کے لیے سرکاری طور پر تعطیل بھی ہوتی ہے۔ بعض ریاستوں میں یوم شکرانہ سے اگلا دن ”جمعہ“ بھی چھٹی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس سے اگلا دن ہفتہ اور اتوار کو تعطیل عام ہوتی ہے، اس لیے لوگوں کو تسلسل سے چار چھٹیاں مل جاتی ہے اور وہ ایک طویل ویکینڈ مناتے ہیں۔ فراغت پانے کی وجہ سے یوم شکرانہ سے اگلے دن یعنی جمعہ کو لوگ خریداری کے لیے مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں۔    اسی وجہ سے خریداروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔  تجارتی مراکز ومارکیٹوں میں خرید وفروخت پر خاص رعائتی آفرز متعارف کروائی جاتی ہیں۔ ”یوم شکرانہ“ کے بعد والے جمعہ کو یہ لوگ ”بلیک فرائیڈے“  کہتے ہیں۔

”بلیک فرائیڈے“   کی اصطلاح کے متعلق کئی تاریخی توجیہات بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں  سے چند ایک درج ذیل  ہیں:

1:      جے گولڈ اور جم فسک دو امریکی سرمایہ دار تھے۔ انہوں نے جان بوجھ کر امریکی حکومت سے جتنا سونا خرید سکتے تھے، خرید لیا۔ دونوں تاجروں کو امید تھی کہ سونے کا ریٹ بڑھنے سے انہیں بہت نفع ہو گا لیکن اگلے دنوں مارکیٹ اچانک نیچے گر گئی جس سے بہت سے لوگ دیوالیہ ہو گئے۔ یہ سن 1969ء تھا۔ اتفاق سے جمعہ کا دن تھا۔ چونکہ گولڈ مارکیٹ کے سقوط کی وجہ سے مالی بحران اسی دن پیدا ہوا تھا اس لیے اسے تاریخی طور پر ”بلیک فرائیڈے“  کا نام دیا گیا۔  اس بحران کے اگلے سال پرچون فروشوں کو بہت نفع ہونے لگا۔ نفع کی یہ شروعات چونکہ یوم شکرانہ کے اگلے دن سے ہوئی  اس لیے خریدوفروخت کے اس مصروف ترین دن کو سابقہ نام ”بلیک فرائیڈے“ سے یاد کیا جانے لگا۔

2:      ایک توجیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ پرچون فروشوں کو ابتداءِ سال یعنی جنوری سے ماہِ نومبر تک عموماً خسارے کا سامنا رہتا ہے جسے ”سرخ رنگ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔  یوم شکرانہ کے بعد ہی مارکیٹ میں خریداروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے جس سے نفع کی شرح بڑی حد تک بڑھ جاتی ہے جسے ”سیاہ رنگ“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ نومبر کا آخری جمعہ ہوتا ہے۔ اس لئے اسے ”بلیک فرائیڈے“کہا جاتا ہے۔

3:      ایک قصہ یہ بھی مشہور ہے کہ امریکی ریاست فلاڈیلفیا میں جب یوم شکرانہ کے بعد والے دن سڑکوں پر ہنگامہ آرائی ہوئی تو فلاڈیلفیا کی پولیس نے ”بلیک فرائیڈے“ کی اصطلاح ایجاد کی۔ ایک طرف یوم شکرانہ کے بعد والے جمعہ میں خریداروں کی کثیر تعداد سڑکوں پر آ گئی تو دوسری طرف اس سے اگلے دن یعنی ہفتہ میں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ کے شائقین بھی سڑکوں پر آ موجود ہوئے۔  اس رَش کی وجہ سے پولیس اہل کار اس دن چھٹی نہ کر پائے تو انہوں نے اس دن کو ”بلیک فرائیڈے“ کا نام دیا۔

ابتداء میں یہ دن محض اتفاقی طور پر سامنے آیا لیکن نومبر کے اس آخری جمعہ کو مارکیٹ میں رعایتی نرخوں پر خرید و فروخت کی روایت امریکہ سے یورپ تک پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے تجارتی مراکز بہت کم نرخوں پر اپنی اشیاء فروخت کرتے نظر آئے۔

مذکورہ تاریخی اور معروف تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ بلیک فرائیڈے کی اصطلاح مذہبِ اسلام کی مخالفت یا جمعۃ المبارک کے خلاف مذہبی سازش نہیں بلکہ کسی دن کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہوا جو بہ ظاہر خسارے کا باعث تھا تو اس دن کو ”بلیک“ کا نام دیا گیا۔ ہاں اتفاقی طور پر وہ ”جمعہ“ کا دن تھا۔ نیز جن ممالک میں یہ دن آج بھی منایا جاتا ہے وہاں کی آبادی بھی اسے مذہبی تہوار کے بجائے تجارتی دن سے تعبیر کرتی ہے۔

[2]:       جمعہ کا دن اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے ”سید الایام“ (تمام دنوں کا سردار) کہا گیا ہے۔ اس دن مسلمان ایک اہم اجتماعی عبادت یعنی نماز جمعہ بھی سرانجام دیتے  ہیں۔ احادیث مبارکہ میں اس کی بڑی فضیلت منقول ہے۔ ایک  حدیث مبارک میں ہے :

عَن اَوْسِ بْنِ اَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: “اِنَّ مِنْ اَفْضَلِ اَیَّامِکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَةِ فِیْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِیْہِ قُبِضَ وَفِیْہِ النَّفْخَةُ وَفِیْہِ الصَّعْقَةُ  فَاَکْثِرُوْاعَلَّیَ مِنَ الصَّلٰوْةِ فِیْہِ فَاِنَّ صَلٰوتَکُمْ مَعْرُوْضَةٌ عَلَّیَ.” قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ تُعْرَضُ صَلَا تُنَا عَلَیْکَ وَقَدْاَرَمْتَ؟ قَالَ: یَقُوْلُوْنَ بَلَیْتَ، فَقَالَ: “اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَجسَادَ الْاَنْبِیَائِ.”

(سنن ابی داؤ د: رقم الحدیث1047)

ترجمہ:          حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے دنوں میں بہتر جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن دوبارہ اٹھنا ہے اس لئے تم جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ تو ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے اجساد حرام کردیئے ہیں ۔ (یعنی زمین ان کو نہیں کھاتی)

اسلام میں کالا رنگ بے برکتی، سوگ یا نحوست کی علامت نہیں ہے اور ”بلیک فرائیڈے“کی اصطلاح کا استعمال بھی مذہبی رنگ میں نہیں ہوا (جیسا کہ شق اول میں تفصیل گزری) اس لیے بلیک فرائیڈے کے الفاظ سے ہرگز اس دن کے بارے میں شکوک و شبہات ذہن میں نہیں آنے چاہییں البتہ بحیثیت مسلمان ہمیں ان الفاظ سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جن سے بہ ظاہر غیر درست معنی سمجھے جا رہے ہوں۔چنانچہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں اس دن کو ”وائٹ فرائیڈے“ کے نام سے متعارف کروایا جا رہا ہے۔ بعض مسلمان کمپنیاں”بلیسنگ فرائیڈے“  (بابرکت جمعہ) کا لفظ بھی استعمال کر رہی ہیں۔ اس لیے ہماری رائے بھی یہی ہے کہ ظاہراً شبہ پیدا کرنے والے الفاظ سے بھی اجتناب کرتے ہوئے متبادل درست الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے۔

[3]:       چونکہ یہ دن مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایک تجارتی دن ہے اس لیے اس میں دی گئی رعایت آفرزسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور ضرورت کی اشیاء خریدی جا سکتی ہیں۔

چند گزارشات:

اس دن کے حوالے سے چند گزارشات پیش کی جاتی ہیں، ان پر عمل کی کوشش کریں!

1:      اس دن کو ”بلیک فرائیڈے“کے بجائے متبادل درست نام ”وائٹ فرائیڈے“ ”بلیسنگ فرائیڈے“ کے نام سے پکارا جائے۔

2:      جمعہ کے دن کے ادب اور احترام کا خیال رکھا جائے۔غسل کرنے، اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے کا اہتمام کیا جائے۔ مسجد میں جلد جانے کی کوشش کی جائے۔ اگر کسی وجہ سے مارکیٹ میں رہ گئے ہوں تو اذانِ اول کے وقت خرید و فروخت چھوڑ کر مسجد کا رخ کیا جائے۔

3:      مسلمان دکانداروں کو اور کمپنی ہولڈرز کو چاہیے کہ دیگر اسلامی مواقع (رمضان، عیدین، قربانی وغیرہ)  پر بھی اس قسم کی آفرز مہیا کریں تاکہ غریب افراد ان مواقع سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved