• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بہن اور سوتیلے بیٹے کو زکوٰۃ دینے کا حکم

استفتاء

1:      کوئی شخص اپنی بیوہ بہن کو زکوٰة دے سکتا ہے یا نہیں ؟ جبکہ وہ بہن مالدار بھی نہیں ہے۔

2:      کسی شخص نے بیوہ خاتون سے نکاح کیا۔ کیا وہ شخص اس بیوہ کے بیٹے کو زکوٰة دے سکتا ہے یا نہیں؟  اس بیوہ کا وہ بیٹا مالدار بھی نہیں ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بہن اور سوتیلا بیٹا اگر مستحق زکوٰۃ ہوں تو انہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

چنانچہ اگر کسی کے پاس ساڑھے سات تولے سونا (87.48 گرام) ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.36 گرام)  ہو یا سونے  اور چاندی کی مذکورہ مقدار نہ ہو یا ہو لیکن اس مذکورہ مقدار سے کم ہو تو اب دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی ملکیت میں یہ پانچ چیزیں؛ سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور گھر کا زائد از ضرورت سامان موجود ہوں یا ان میں سے بعض موجود ہوں اور ان کی مجموعی قیمت  ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوں تو   ایسا شخص زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے۔ اس صورت میں  اسے زکوٰۃ دینا جائز نہ ہو گا۔ ہاں! اگر اس کے پاس اس نصاب سے کم مال ہے تو اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

علامہ علاء الدین ابو بكر بن مسعود بن احمد الکاسانی الحنفی (ت587ھ) لکھتے ہیں:

ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم.

(بدائع الصنائع للکاسانی: ج2 ص 50)

ترجمہ:اپنے والدین اور اپنی اولاد کے دیگر رشتہ داروں، بھائیوں اور بہنوں  کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

([1] )       زائد از ضرورت سامان سے مراد وہ سامان ہے جس کے بغیر انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں۔ اس تعریف کی رو سے کھانے پینے کا سامان، رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے اور زیورات، گھریلو ضروری اشیاء (مثلاً سلائی اور دھلائی کی مشین، فریج، کھانا پکانے کے برتن وغیرہ)، تاجروں اور مزدور طبقہ کے آلاتِ صنعت و حرفت (مثلاً مشینری، فرنیچر وغیرہ) ضرورت کا سامان کہلائے گا، اور ایسا سامان، برتن اور کپڑے وغیرہ جو بنیادی ضرورت و حاجت کے نہ ہوں اور سال بھر میں ایک بار بھی استعمال نہ ہوتے ہوں تو وہ زائد از ضرورت سامان شمار ہوں گے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved