- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! مسئلہ یہ ہے کہ جو مرد حضرات اور خواتین بیرون ممالک میں رہتے ہیں۔ تو وہ اپنی زکوٰۃ کس ملک کے اعتبار سے زکوٰۃ نکالیں گے، پاکستان کے اعتبار سے یا جس ملک میں رہ رہے ہیں اس ملک کے اعتبار سے؟ اس مسئلہ میں رہنمائی کر دیجئے ۔ اللہ پاک آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
انسان کا مال جس ملک میں موجود ہو اسی ملک کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ چنانچہ کینیڈا میں مقیم شخص کا مال اس کے پاس کینیڈا ہی میں موجود ہے تو وہیں کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ اگر مالک خود تو کینیڈا میں مقیم ہے لیکن اس کا مال پاکستان میں ہے تو اب پاکستانی ریٹ کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر مال دونوں ممالک میں ہے تو ہر مال کا ریٹ اسی ملک کے اعتبار سے طے کیا جائے گا اور اسی کے مطابق زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
(قَوْلُهُ : وَيُقَوَّمُ فِي الْبَلَدِ الَّذِيْ الْمَالُ فِيْهِ) فَلَوْ بَعَثَ عَبْدًا لِلتِّجَارَةِ فِي بَلَدٍ آخَرَ يُقَوَّمُ فِي الْبَلَدِ الَّذِيْ فِيْهِ الْعَبْدُ بَحْرٌ.
(ردا لمحتار مع الدر المختار: ج2 ص286 کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم)
ترجمہ: جس جگہ مال ہو وہیں کے اعتبار سے ریٹ طے کیا جائے گا۔ چنانچہ اگر کسی نے اپنے ملازم کو (مال دے کر) کسی دوسرے شہر میں تجارت کی غرض سے بھیجا تو اس مال کا ریٹ اسی شہر کے اعتبار سے طے کیا جائے گا جس میں یہ ملازم موجود ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved