• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

السلام علیکم کے بجائے سلام علیکم کہنے کا حکم

استفتاء

دریافت یہ کرنا ہے کہ

(1)     اگر کوئی شخص سلام کرتے وقت “السلام علیکم ” کے بجائے “سلام علیکم” کہے تو اس  طرح کہنا کیسا ہے اور اس کا جواب کس طرح دیا جائے؟

(2)     جس شخص کو سلا م کیا گیا ہو اگر وہ سلام کے الفاظ نہ سن پائے تو اس کے ذمہ جواب دینا ضروری ہے یا نہیں؟

(3)     ایک آدمی سلام کرے اور جلدی سے آگے نکل جائے تو کیا اس کے سلام کا جواب دیا جائے یا نہیں؟ جب کہ سلام کرنے والےوالا اس جواب کو نہیں سن پائے گا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوالات کے جوابات ترتیب وار دیے جاتے ہیں۔

(1)     سلام کرتے وقت     ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہنا چاہیے، یہی مسنون طریقہ ہے۔   ”السلام علیکم“ کے بجائے   ”سلام علیکم“ کہنا  خلافِ سنت ہے ، لیکن اس کا بھی جواب ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہہ کر دیا جائے گا۔

(2)     سلام کے الفاظ نہ سنے ہوں تو جواب دینا ضروری نہیں۔

(3)     سلام کے الفاظ سننے والا جواب دے، خواہ سلام کرنے والا  وہ جواب نہ سن پائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved