• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

عرفہ کا روزہ کس اعتبار سے رکھا جائے؟

استفتاء

”عرفہ کا روزہ“ رکھنے میں سعودی عرب کے یوم عرفہ کا اعتبار کیا جائےیا ہر ملک کے 9 ذوا لحجہ کا؟ کیونکہ آج کل بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس دن روزه رکھنا چاہیے جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوں، خواه دیگر ممالک میں اس دن کی تاریخ کچھ بھی ہو۔ کیونکہ آج کل کے تیز تر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہمیں فوراً پتا چل جاتا ہے کہ حجاج کے لیے عرفہ کا دن کب ہو گا کیونکہ حجاجِ کرام کے میدانِ عرفات میں ہونے کی خبر لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں پہنچ رہی ہوتی ہےاس لیے اسی کا اعتبار کر کے ہمیں روزہ رکھنا چاہیے۔ یہ لوگ اپنی بات پر دو دلیلیں بھی پیش کرتے ہیں:
1: احادیث میں روزے کی جو فضیلت آئی ہے وه عرفہ کے روزے کی ہے، 9 ذوالحجہ کے روزے کی نہیں ہے۔ کسی ایک حدیث میں ”9 ذوالحجہ“ کے روزه رکھنے کے الفاظ نہیں آئے اور یہ بات واضح ہے کہ ”یوم عرفہ“ صرف اسی دن کو کہتے ہیں جس دن سعودی عرب میں حجاج کرام میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔2: عام روزوں کا سبب ”چاند دیکھنا“ ہے جبکہ یوم عرفہ کے روزے کے لیے بنیاد اور سبب چاند کو نہیں بلکہ عرفہ کے دن کو بنایا گیا ہے۔برائے مہربانی صحیح موقف کی وضاحت دلائل سے فرما دیں! اور ان کی دلیلوں کا بھی جواب عنایت فرما دیں تاکہ ہم انہیں جواب دے سکیں۔ جزاک اللہ

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہم اھل السنۃ والجماعۃ کا موقف یہ ہے کہ جس ملک میں جب 9 ذی الحجہ ہوگی ، وہ دن اسی ملک کا یومِ عرفہ ہوگا اور وہاں کے لوگوں کا اسی دن کا روزہ رکھنا یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا ہی شمار ہوگا۔ یعنی روزہ رکھنے کی بنیاد چاند دیکھنے پر ہے، سعودی عرب کے ”یوم عرفہ“ پر نہیں۔اس موقف کی دلیل حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ.صحیح مسلم: رقم الحدیث 2717کہ یہ روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ کر دیتا ہے۔اس حدیث کے حوالے سے بنیادی طور پر دو باتیں سمجھنے کی ہیں:
پہلی بات: روزہ کے متعلق عمومی اصولاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں روزے کی فضیلت بتائی ہے اور روزے کے متعلق ایک عام قانون ہے کہ روزہ ؛چاند دیکھ کر ہی رکھا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے:
عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ.صحیح البخاری: رقم الحدیث 1909ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا- یا- ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو اور چاند کو دیکھ کر ہی روزوں کا اختتام کیا کرو۔یہ حدیث روزہ کے بارے میں عام ہے خواہ کوئی بھی روزہ ہو۔ اس کی رو سے ہر روزہ میں اپنے اپنے ملک کی رؤیت کا اعتبار ہوگا نہ کہ محض سعودی عرب کی رؤیت کا۔ چنانچہ رمضان کا روزہ بھی اپنے اپنے ملک کی رؤیت کے اعتبار سے ہو گا کہ جب رمضان کا چاند نظر آئے روزہ رکھ لیا جائے اور جب شوال کا چاند نظر آئے روزہ رکھنا ختم کر لیا جائے یعنی عید کر لی جائے، اسی طرح جس دن سعودی عرب میں ذو الحجہ کی 9 تاریخ ہو وہاں عرفہ کا روزہ رکھ لیا جائے اور جس دن دیگر ممالک میں 9 ذو الحجہ ہو تو اسی دن ان ممالک میں عرفہ کا روزہ رکھ لیا جائے۔دوسری بات: اختلاف مطالع کا وجود اور اعتبار!سورج اور چاند کے بارے میں یہ بات تو حقیقت ہے کہ ایک جگہ سورج طلوع ہوتاہے تو وہاں دن ہوتا ہے اور اسی وقت یہی سورج کسی دوسری جگہ غروب ہوتاہے تو وہاں رات ہوتی ہے،یہی حال چاند کاہے کہ کہیں مکمل ہوکر نظر آتاہے اور کہیں ابھی مکمل نہیں ہوتا تو نظر بھی نہیں آتا بلکہ ایک آدھ دن بعد جب مکمل ہوتاہے تو مطلع پر نمودار ہوتاہے۔ پتا چلا کہ اختلاف مطالع کا وجود ہے۔ اب اس اختلاف مطالع کا اعتبار ہے یانہیں؟ یعنی ایک علاقہ کی رؤیت دوسرے علاقہ کے لیےبھی معتبر ہوگی یا نہیں؟ تو اس بارے میں احناف کا راجح موقف یہ ہے کہ بلاد ِبعیدہ جن کےطلوع وغروب میں کافی فرق پایاجاتا ہے تو ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہے البتہ بلاد قریبہ میں معمولی فرق ہوتاہے اس لیے اسے نظر انداز کیا جائے گا اور ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر ہو گی۔ گویا بلادِ بعیدہ میں اختلاف مطالع معتبر ہے اور قریبہ میں معتبر نہیں۔اختلاف مطالع کے معتبر ہونے کی دلیل یہ حدیث مبارک ہے:
عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ ، بَعَثَتْهُ إِلٰى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا ، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ ، فَقَالَ : مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ ؟ فَقُلْتُ : رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، وَرَآهُ النَّاسُ ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ ، فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ ، أَوْ نَرَاهُ ، فَقُلْتُ : أَوَلاَ تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ ؟ فَقَالَ : لاَ ، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.صحيح مسلم: رقم الحدیث 2495ترجمہ : حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں (کسی کام کے لیے) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملک شام میں بھیجا۔ حضرت کریب فرماتے ہیں: میں شام گیا اور حضرت ام الفضل کا کام مکمل کیا۔ شام ہی میں میں نے رمضان کا چاند دیکھا۔ رمضان کا یہ چاند میں نے جمعہ کی رات کو دیکھا۔ پھر مہینہ کے آخر میں میں (اپنا کام کر کے) واپس لوٹا۔ یہاں آیا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ملک شام میں چاند کب دیکھا؟ میں نے عرض کیا کہ ہم نے وہاں چاند جمعہ کی رات کو دیکھا تھا۔ انہوں نے پوچھا:کیا تم نے خود چاند دیکھا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں میں نے بھی دیکھا اور سب لوگوں نے دیکھا، سب نے روزہ رکھا اور خود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نے تو ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے اور ہفتہ سے روزہ شروع کیا ہے، ہم تو تیس روزے پورے کریں گے یا یہ کہ چاند نظر آ جائے۔ میں نے کہا: کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے چاند دیکھنے اور روزہ رکھنے کو آپ کافی نہیں سمجھتے؟ آپ نے فرمایا: ہر گز نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔اس حوالے سے محققین کی آراء پیش ہیں جنہوں نے بلاد بعیدہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار کیا ہے:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (ت68ھ) کا موقف بیان کرتے ہوئے علامہ عالم بن العلاء الانصاری الاندرپتی الدھلوی (ت786ھ) لکھتے ہیں:
وعن ابن عباس رضی اللہ عنہما أنہ یعتبر فی حق کل بلدۃ رؤیۃ أھلھا.الفتاویٰ التاتارخانیۃ: ج2 ص269 کتاب الصوم الفصل الثانی فیما یتعلق برؤیۃ الھلالترجمہ: حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ ہر ملک والوں کے لیے ان کی رؤیت معتبر ہو گی۔ امام ابو الحسن احمد بن محمد بن احمد القدوری الحنفی (ت428ھ) کا موقف بیان کرتے ہوئے علامہ عالم بن العلاء الانصاری الاندرپتی الدھلوی (ت786ھ) لکھتے ہیں:
إذا کان بین البلدتین تفاوت لا یختلف المطالع لزم حکم أھل إحدی البلدتین البلدۃ الأخری فأما إذا کان تفاوت یختلف المطالع لم یلزم حکم إحدی البلدتین البلدۃ الأخری.الفتاویٰ التاتارخانیۃ: ج2 ص269 کتاب الصوم الفصل الثانی فیما یتعلق برؤیۃ الھلالترجمہ: جب دو ملکوں میں اتنا (کم) فاصلہ ہو کہ دونوں کے مطالع میں کوئی فرق نہ آئے تو ایک کی رؤیت دوسرے پر لازم ہوتی ہے اور اگر اتنی دوری ہو کہ مطالع میں فرق آ جاتا ہو تو ایک کی رؤیت دوسرے پر لازم نہ ہو گی۔ علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود بن احمد الکاسانی (ت587ھ) فرماتے ہیں:
هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر.بدائع الصنائع: ج2 ص83ترجمہ: یہ (اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرنا) اس وقت ہے جب دو ملکوں کا فاصلہ اتنا قریب ہو کہ مطالع کا فرق نہ پڑتا ہو لیکن اگر فاصلہ دور کا ہوتو ایک ملک کی رؤیت دوسرے پر لازم نہیں اس لیے کہ ممالک کے مطالع لمبے لمبے فاصلوں کی وجہ سے یکسر مختلف ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہر ملک کے لیے اس کے اپنے مطلع کا اعتبار ہو گا، دوسرے ملک کا اعتبار نہ ہو گا۔امام فخر الدین عثمان بن علی الزیلعی الحنفی (ت743ھ) فرماتے ہیں:
وَالْأَشْبَهُ أَنْ يُعْتَبَرَ لِأَنَّ كُلَّ قَوْمٍ مُخَاطَبُونَ بِمَا عِنْدَهُمْ.تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق: ج1 ص321ترجمہ: صحیح بات یہ ہے کہ اختلاف مطالع معتبر ہے کیونکہ ہر علاقے والوں کو ان کے اپنے اعتبار سے ہی خطاب ہوتا ہے۔ خاتم المحدثین علامہ سید محمد انور شاہ كشمیری (ت1352ھ) فرماتے ہیں:
أقول : لا بد من تسليم قول الزيلعي وإلا فيلزم وقوع العيد يوم السابع والعشرين أو الثامن والعشرين أو يوم الحادي والثلاثين أو الثاني والثلاثين فإن هلال بلاد قسطنطنية ربما يتقدم على هلالنا بيومين ، فإذا صمنا على هلالنا ثم بلغنا رؤية هلال بلاد قسطنطنية يلزم تقديم العيد.العرف الشذی علی جامع الترمذی: ج2 ص217ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ علامہ زیلعی کی بات کو ماننا ضروری ہے (کہ بلادِ بعیدہ میں اختلاف مطالع معتبر ہے) وگرنہ لازم آئے گا کہ عید 27، 28 یا 31، 32 تاریخ کو ہو، اس لیے ملک قسطنطینہ میں چاند کبھی ہم سے دو دن پہلے نظر آتا ہے۔ اگر ہم اپنے چاند کے اعتبار سے روزہ رکھ لیں پھر ملک قسطنطینہ سے چاند نظر آنے کی خبر موصول ہو تو عید پہلے کرنا پڑے گی۔مفتی محمد شفیع عثمانی (ت1396ھ) لکھتے ہیں:
آج تو ہوائی جہازوں نے ساری دنیا کے مشرق و مغرب کو ایک کر ڈالا ہے۔ ایک جگہ کی شہادت دوسری جگہ پہنچنا قضیہ فرضیہ نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول بن گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں اگر مشرق کی شہادت مغرب میں اور مغرب کی مشرق میں حجت مانی جائے تو کسی جگہ مہینہ اٹھائیس دن کا اور کسی جگہ اکتیس دن کا لازم آئے گا۔ اس لیے بلادِ بعیدہ میں جہاں مہینہ کے دنوں میں کمی بیشی کا امکان ہو اختلاف مطالع کا اعتبار کرنا ہی ناگزیر اور مسلکِ حنفیہ کے عین مطابق ہو گا۔جواہر الفقہ: ج3 ص482، ص483صحیح مسلم کی اس حدیث مبارک اور محققین کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ بلادِ بعیدہ میں جہاں مہینہ کے دنوں میں کمی بیشی کا امکان ہو وہاں اختلافِ مطالع کا اعتبار کرناضروری ہے۔ چونکہ سعودی عرب اور اس کے بلاد بعیدہ کے درمیان مطالع کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق پایاجاتاہے اس لیے بلاد بعیدہ میں سعودی عرب کے یوم عرفہ کا اعتبار کرتے ہوئے روزہ رکھنا صحیح نہیں ہوگا۔لہذا جن جن علاقوں میں 9 ذوالحجہ جس دن بنے اسی دن کا روزہ”یوم عرفہ“کا روزہ کہلائے گا، سعودی عرب کے یوم عرفہ کا 9 ذوالحجہ دوسرے ممالک کیلئے حجت نہ ہوگا۔بعض الناس کے دلائل کا جائزہ:
پہلی دلیل: احادیث میں روزے کی جو فضیلت آئی ہے وه عرفہ کے روزے کی ہے، 9 ذوالحجہ کے روزے کی نہیں ہے۔ کسی ایک حدیث میں ”9 ذوالحجہ“ کے روزه رکھنے کے الفاظ نہیں آئے اور یہ بات واضح ہے کہ ”یوم عرفہ“ صرف اسی دن کو کہتے ہیں جس دن سعودی عرب میں حجاج کرام میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔جواب نمبر1:
9 ذو الحجہ کے روزے کو ”یومِ عرفہ کا روزہ“ مدینہ منورہ کے ماحول کے حساب کے کہہ دیا گیا، اس لیے کہ مدینہ منورہ میں یومِ عرفہ 9 ذو الحجہ ہی کو ہوتا ہے۔ اس قسم کے انداز بیان خود احادیث سے ثابت ہیں۔مثلاً ایک حدیث میں ہے:عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما بين المشرق والمغرب قبلة.سنن الترمذی : رقم الحدیث 342ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق ومغرب کے درمیان تمہارا قبلہ ہے۔اب اگر کوئی پاکستان یا ہندوستان کا رہنے والا مسلمان اس حدیث کے ظاہری الفاظ کو مدنظر رکھ کر اپنے قبلے کا تعین کرنے لگے تو یقینا غلطی کر بیٹھے گا کیونکہ ان کا قبلہ مشرق ومغرب نہیں بلکہ شمال و جنوب کی درمیانی سمت میں ہے۔تو جس طرح ان ظاہری الفاظ کو مدینہ منورہ کا ماحول دیکھے بغیر دلیل بنا کر پوری دنیا میں ہر جگہ قبلے کی سمت کا تعین ایک جیسا کریں تو یقینا خطا ہو گی بالکل اسی طرح اگر ”یومِ عرفہ کے روزے“ کے الفاظ کو ماحول دیکھے بغیر محض ظاہری الفاظ کے پیش نظر ہر جگہ سعودی عرب کے 9 ذوالحجہ کے تابع بنا کر ہر ملک میں روزے کی بات کی جائے تو یہ بھی یقیناً خطا ہو گی۔جواب نمبر2:
مناسکِ حج میں کئی نام محض حج کی وجہ سے رکھے گئے ہیں مثلاً ”ایام تشریق“حج کی قربانی کی وجہ سے نام رکھا گیا ہے اور اسے حاجیوں کے لئے کھانے پینے اور قربانی کرنے کا دن بتلایا گیا ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ حاجیوں کے ایامِ تشریق اور دیگر ممالک کے ایام تشریق الگ الگ ہیں، پوری دنیا میں یہ ایام ہرملک میں اس ملک کے قمری مہینے کے حساب سے 9 ذوا لحجہ سے 13 ذوا لحجہ کو ہی ہوتے ہیں نہ کہ سعودی عرب کے اعتبار سے۔ اسی طرح”یوم عرفہ“ بھی حج کی مناسبت سے ایک نسبت ہے لیکن روزہ رکھنے کے حوالے سے اس میں بھی ہر ملک کے قمری مہینے کا حساب ہو گا کہ ہر ملک میں 9 ذوا لحجہ کے اعتبار سے روزہ رکھنے کا حکم ہو گا۔جواب نمبر3:
یہ بات کہ ”احادیث میں عرفہ کے روزے کی بات آئی ہے ، 9 ذوالحجہ کے روزے کی نہیں “ درست نہیں کیونکہ 9 ذوا لحجہ کے روزے کا ذکر خود حدیث میں موجود ہے۔ بعض ازواج مطہرات کا بیان ہے :كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ؛ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ.مسند احمد بن حنبل: ج6 ص288 رقم الحدیث 26511ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے ( پہلے ) نو دن ، عاشورہ کے دن اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے، وہ تین دن یہ ہیں: مہینے کا پہلا پیر اور اگلی دو جمعراتیں۔اس حدیث میں ذو الحجہ کے نو دنوں میں 9 ذو الحجہ بھی شامل ہے جو ازواج مطہرات کی طرف سے صراحت ہے۔ ثابت ہوا کہ ”یوم عرفہ“ کے علاوہ ”9 ذوا لحجہ“ کا ذکر خود حدیث میں ہے۔ تو جس طرح تاریخ کے اعتبار سے روزہ رکھنے میں ہر ملک کا اپنا قمری مہینہ بنیاد بنتا ہے اسی طرح 9 ذوا لحجہ کے روزہ میں بھی ہر ملک کا اپنا قمری مہینہ بنیاد بنے گا۔دوسری دلیل:
عام روزوں کا سبب ”چاند دیکھنا“ ہے جبکہ یوم عرفہ کے روزے کے لیے بنیاد اور سبب چاند کو نہیں بلکہ عرفہ کے دن کو بنایا گیا ہے۔جواب نمبر1:
اگر مکہ مکرمہ میں یوم عرفہ (جو مکہ کے اعتبار سے 9 ذو الحجہ بنتا ہے) کو بنیاد بنا کر تمام ممالک میں اسی دن روزہ کا حکم دیا جائے تو بعض ممالک مثلاً لیبیا ، تیونس اور مراکش وغیرہ ایسے ہیں جہاں چاند مکہ مکرمہ سے بھی پہلے نظر آتا ہے یعنی ان ممالک میں جب 10 ذو الحج کا دن آتا ہے تو مکہ مکرمہ میں اسی دن عرفہ کا دن ہوتا ہے۔ اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات والے دن روزہ رکھیں تو یہ گویا ان کے ہاں عید کے دن کا روزہ ہوا اور اس بات پر اتفاق ہے کہ عید کے دن روزہ ممنوع ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ.صحيح البخاری:رقم الحدیث 1991ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الفطر اورعیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔جواب نمبر2:
مکہ مکرمہ کے یوم عرفہ کو بنیاد بنائیں تو ان بے چارے مسلمانوں کا کیا بنے گا جو ان ملکوں کے رہائشی ہیں جہاں حاجیوں کے وقوف ِ عرفات کے وقت رات ہوتی ہے؟ مثلاً کیلی فورنیا سے سعودی عرب دس گھنٹے آگے ہے ،اگر سعودی عرب میں رات ہوگی تو وہاں دن اور وہاں رات ہوگی تو سعودی عرب میں دن ہوگا ۔ اسی طرح نیوزی لینڈ سعودی عرب سے نو گھنٹے آگے ہے،یہاں بھی دونوں ملکوں میں دن ورات کا فرق ہے۔ اب جن ممالک میں وقوف عرفات کے وقت رات ہوتی ہے تو کیا وہ لوگ رات میں ہی روزہ رکھ لیں؟ اگر جواب ”ہاں“ میں ہے تو یہ بالکل غلط ہے اور اگر جواب ”نہ“ میں ہے تو وقوف عرفات کے معیار بنانے کا دعویٰ غلط ٹھہرتا ہے۔جواب نمبر3:
اگر بعض الناس ”یوم عرفہ“ کو ہی روزے کا سبب بنانے پر اصرار کرتے ہیں نہ کہ چاند کو تو یہ بات واضح ہے کہ ”یوم عرفہ“ مناسک حج میں سے ہے اور مناسک حج کے لیے معیار اور بنیاد خود چاند ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
﴿یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَہِلَّۃِ ؕ قُلۡ ہِیَ مَوَاقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَ الۡحَجِّ ؕ﴾سورة البقرة: 189ترجمہ: لوگ آپ سے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں ،(ان سے)کہیں کہ یہ لوگوں کے لئے اوقات اور حج کی تعیین کا ذریعہ ہے۔جب چاند ہی یوم عرفہ کی بنیاد ہے تو اس کے روزے کی بنیاد بھی چاند ہی ٹھہرا…. تو ہر ملک میں اپنے اپنے قمری حساب سے روزہ رکھنے سے اعراض کرنا یقیناً سمجھ سے بالاتر ہے!!جواب نمبر4:
اگر بلادِ بعیدہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کیا جائے تو کیا بلادِ بعیدہ میں یہ بھی ضروری ہو گا کہ سحری اور افطاری میں بھی سعودی عرب کے یوم عرفہ کا اعتبار کریں کہ جس وقت سعودی عرب میں سحری اور افطاری کا وقت ہو عین اسی وقت باقی ممالک میں بھی سحری اور افطاری ہو حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں!! کیونکہ سعودی عرب میں جب سحری کا وقت ہو گا تو وہ ممالک جہاں طلوعِ فجر سعودی عرب کے طلوعِ فجر سے پہلے ہو جاتا ہے وہ ممالک سعودی عرب کی سحری کے وقت کسی صورت بھی سحری نہ کر سکیں گے کیونکہ ان کے ہاں سحری کا وقت ہی ختم ہو چکا ہو گا۔ اسی طرح جب سعودی عرب میں افطاری کا وقت ہو گا تو وہ ممالک جہاں غروبِ آفتاب سعودی عرب کے غروب کے بعد ہوتا ہے وہ سعودی کی افطاری کے وقت کس طرح افطاری کریں گے؟ کیونکہ سعودی عرب کی افطاری کی موافقت میں روزہ توڑنا لازم آئے گا۔ اس لیے سحر و افطاری میں سعودی عرب کے یوم عرفہ کے روزے کی موافقت بالکل ممکن نہیں۔اس لیے ہم یہ بات کہتے ہیں کہ دیگر امور کی طرح یوم عرفہ کے روزے میں بھی ہر ملک کی اپنی اپنی رؤیت کا اعتبار ہو گا تاکہ تمام امور میں یکسانیت ہو جائے اور مذکورہ خرابیوں سے بچا جا سکے جو تمام ممالک میں یوم عرفہ ہی کو بنیاد بنانے سے پیش آتی ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved