• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

انبیاء کرام علیہم السلام کے حاضر و ناظر ہونے پر ایک دلیل کا جواب

استفتاء

ایک بات پوچھنی ہے وہ یہ کہ  ایک شخص نے  کہا ہے  کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہر جگہ حاضر وناظر ہیں،  اس پر دلیل یہ دی کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے سفر میں تھے تو راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔پھر جب آپ مسجد اقصی پہنچے تو وہاں بھی آپ نے تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت کرائی تو ان میں موسیٰ علیہ السلام بھی تھے ۔پھر جب آپ معراج سے تشریف لا رہے تھے تو وہاں بھی موسیٰ علیہ السلام  سے ملاقات ہوئی۔ تو اس سے پتہ چلا کہ انبیاء کرام  ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ اب آپ ہی اس سلسلے میں میری مکمل راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس حوالے سے تین  باتیں ذہن نشین فرما لیں۔

(1)     حاضر و ناظر ہونے کا معنی یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں ہرہر  جگہ موجود ہونا اور  بہ یک وقت کائنات کی تمام اشیاء کو یکساں طور پر دیکھنا۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ   یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات میں موجود ہے، اور یہ  خاصۂِ خداوندی ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو اس صفت میں شریک ماننا شرک ہے۔

(2)     جو حاضر و ناظر ہوتا ہے وہ آتا اور جاتا نہیں، اور جو آتا اور جاتا ہے وہ حاضر و ناظر نہیں ہوتا۔   جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات  حاضر و ناظر ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ  ایک ہی وقت میں ہر جگہ اور ہر مقام میں ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ باقی تمام مخلوق میں سے ہر ہر فرد کی یہ خاصیت ہے کہ وہ ا یک وقت  میں ایک ہی جگہ موجود ہوتا ہے، ایک سے زائد جگہ موجود نہیں ہو سکتا۔

(3)      حقیقت یہ ہے کہ  سفر معراج اہلِ بدعت کی نہیں بلکہ اہل السنت کی دلیل ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تین مختلف مقامات میں الگ الگ وقت میں موجود تھے،  ایک وقت میں اپنی قبر مبارک میں، دوسرے  وقت میں بیت المقدس میں، تیسرے وقت میں آسمان پر، اور الگ الگ وقت میں الگ الگ جگہ پر  موجود ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حاضر و ناظر نہیں تھے۔ اس بات کو ایک مثال سے سمجھیے!

مثال :  میرا ایک بیان دہلی ہو، آپ وہاں آکر مجھ سے ملو، دوسرا بیان دیوبند میں ہو، آپ وہاں بھی حاضر ہو کر ملاقات کرو، تیسرا بیان اسلام آباد میں ہو ، آپ ادھر بھی آ کر ملاقات کرو، دیکھو میں جہاں بھی گیا آپ نے وہیں مجھ سے ملاقات کی ، کیا اس سے یہ ثابت ہو گا کہ آپ بھی حاضر و ناظر ہیں؟۔  آپ کو حاضر و ناظر ہرگز نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ یہ تین مختلف مقامات پہ الگ الگ ملاقات کی ہے، جب آپ دہلی میں ملے تو اس وقت اسلام آباد نہیں تھے، جب اسلام آباد ملاقات کی تو اس وقت  آپ دیوبند میں موجود نہیں تھے۔ اس لیے اس سے آپ کا حاضر و ناظر ہونا لازم نہیں آئے گا۔

سفر معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تین مختلف مقامات میں  موجود ہونا بھی اسی طرح تھا کہ  حضرت موسیٰ علیہ السلام پہلے  اپنی قبر مبارک میں تھے، اس کے بعد بطورِ معجزہ بیت المقدس میں تشریف لائے، اس کے بعد بطورِ معجزہ آسمان پہ  تشریف لے گئے تو وہاں  ملاقات ہوئی۔

حاصل کلام یہ ہے کہ جس بندے نے سفرِ معراج کے واقعہ سے حضرت موسیٰ  علیہ السلام اور اس ضمن میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے حاضر و ناظر ہونے پر استدلال کیا ہے، ان کا یہ استدلال  سراسر باطل ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved