• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

الکوحل ملی خوشبو اور دیگر اشیاء کے استعمال کا حکم

استفتاء

الکوحل بہت سی اشیاء میں استعمال ہوتا ہے مثلاً:  ڈیٹول،سینیٹائزر، پرفیوم وغیرہ میں۔  دریافت یہ کرنا ہے کہ کون سا الکوحل  پاک ہوتا ہے اور کون سا  ناپاک؟ نیز اس کے استعمال کی اجازت کس حد تک ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

الکوحل دو قسم  کے ہوتےہیں:

(1)      ایسا الکوحل  جو کھجور، کشمش، انگور اور چھوہارے سے کشید کر کے بنایا گیا ہو  وہ ناپاک  ہوتا ہے، اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔

(2)     ایسا الکوحل جو درج بالا اشیاء کے علاوہ دیگر سبزیوں یا پھلوں مثلاً آلو، گنا،  شہد وغیرہ  سے   تیار شدہ ہووہ پاک ہوتا ہے، اس کا استعمال جائز ہے بشرطیکہ نشہ آور نہ ہو۔

اس  تفصیل کی روشنی میں ان خوشبوؤوں  اور دیگر اشیاء کے احکام یہ ہیں:

(۱)     عام طور پر خوشبو اور ڈیٹول وغیرہ میں دوسری قسم کا الکوحل استعمال ہوتا ہے ، اس لیے ایسی خوشبو اور ڈیٹول  کا استعمال جائز ہے۔

(۲)     اگر یقین یا ظن غالب ہو کہ خوشبو وغیرہ  میں پہلی قسم کا الکوحل ملا ہوا ہے تو ایسی چیز کو استعمال کرنا جائز نہیں، اس سے احتراز ضروری ہے۔

(۳)     اگر یقین یا ظن غالب نہ ہو  تو محض اندیشہ  کی بناء پر اس چیز  کے استعمال کو حرام نہیں کہا جا سکتا، اس صورت میں وہ چیز  استعمال کر سکتے ہیں، البتہ احتیاط بہتر ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved