• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اکہری اقامت پڑھی گئی کیا نماز ادا ہو گئی؟

استفتاء

سوال ہے کہ جماعت میں شامل ایک غیر مقلد نے اکہری اقامت پڑھ دی یعنی مقدار میں کمی کردی تو کیا جماعت ہو گئی یا دوبارہ نماز پڑھنی پڑے گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر مسنون اقامت   کے بجائے اکہری اقامت کہی گئی تو نماز ادا ہو گئی، دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اگر اقامت  بالکل نہ پڑھی جائے، اس  کےبغیر  جماعت کرا لی جائے  تب بھی نماز  ادا ہو جاتی ہے،    لیکن یہ طریقہ خلافِ سنت ہے۔اذان و اقامت میں مسنون کلمات دوہرے دوہرے ہیں، صحیح احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ چند ایک احادیث مبارکہ حسبِ ذیل ہیں۔ (1) حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَاَنَّ رَجُلاً قَامَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ عَلَى جِذْمَةِ حَائِطٍ ، فَأَذَّنَ مَثْنَى ، وَأَقَامَ مَثْنَى ، وَقَعَدَ قَعْدَةً ، قَالَ : فَسَمِعَ ذَلِكَ بِلاَلٌ ، فَقَامَ فَأَذَّنَ مَثْنَى ، وَأَقَامَ مَثْنَى ، وَقَعَدَ قَعْدَةً.(مصنف ابن ابی شیبہ: حدیث نمبر2131)ترجمہ: “مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم)  نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن زید انصاری  (رضی اللہ عنہ)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یار سول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی جس پر دوسبز چادر یں تھیں، اس نے دیوار کی منڈیر پر کھڑے ہو کر اذان واقامت کہی اور ان کے کلمات دو دو دفعہ کہے اور اذان و اقامت کے درمیان تھوڑا وقفہ کیا۔ راوی کہتے ہیں سید نا بلال رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات سنے تو کھڑے ہو کر اذان و اقامت کہی اور ان کلمات کو دو دو  دفعہ  کہا اور اذان واقامت کے درمیان قدرے وقفہ کیا۔(2) حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:“سَمِعْتُ أَذَانَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَذَانُهٗ وَ إِقَامَتُهٗ مَثْنٰى مَثْنٰى”(مسند ابی عوانہ: حدیث نمبر965)ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان و اقامت سنی، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اذان و اقامت دوہرے دوہرے کلمات پر مشتمل تھی۔ (3) مشہور محدّث  امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے:” كَانَ ثَوْبَانُ يُؤَذِّنُ مَثْنَى , وَيُقِيمُ مَثْنَى “(شرح معانی الآثار: حدیث نمبر837)ترجمہ: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم) حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ اذان و اقامت کے کلمات دوہرے دوہرے کہا کرتے تھے۔ (4) حضرت عبید رحمہ اللہ (حضرت سلمہ بن اَکْوَعْ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) روایت کرتے ہیں کہ :” أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، كَانَ يُثَنِّي الْإِقَامَةَ “(سنن الطحاوی: حدیث نمبر836)ترجمہ: حضرت سلمہ بن اَکْوَعْ رضی اللہ عنہ دوہری اقامت کہا کرتے تھے۔ درج بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ اذان واقامت کے الفاظ دوہرے دوہرے کہے جائیں،  اسی طریقہ پر عمل کیا جائے ، یہی مسنون  اور اصل طریقہ ہے ۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved