• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ایک امام صاحب کے بعض افکار واعمال کا حکم

استفتاء

حضرت! ہماری مسجد کے امام صاحب مماتیت سے بہت متاثر ہیں۔ موصوف سنت کے بعد نوافل پڑھنے سے بہت منع کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ دو دو رکعت نفل نماز معین تعداد میں ثابت نہیں ہے۔ نیز دعا بعد از نماز کی بھی تردید کر تے ہیں۔ اس بارےمیں رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ان امام صاحب سے ان کے عقیدہ کی وضاحت پوچھی جائے۔ اگر وہ اکابرین اھل السنۃ والجماعۃ علمائے دیوبند کے عقیدہ پر کاربند ہوں تو ان کی اقتداء میں نماز ادا کی جائے اور اگر وہ اس عقیدے سے منحرف ہوں یا اسے غلط قرار دیتے ہوں تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ ایسے شخص کو امامت سے برطرف کر کے صحیح العقیدہ امام کا تقرر کیا جائے۔واضح رہے کہ اھل السنۃ والجماعۃ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اجساد عنصریہ وفات کے بعد اپنی زمینی قبور مبارکہ میں روح کے تعلق کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام اپنی قبور مبارکہ میں نمازیں پڑھتے ہیں۔ قبر پر آ کر کوئی درود وسلام پڑھے تو خود سماعت فرماتے ہیں۔ دور سے پڑھا جائے تو فرشتوں کے ذریعے ان کی خدمت میں پہنچا دیا جاتا ہے۔اگر ان امام صاحب کا عقیدہ اکابرین علمائے دیوبند والا ہو تو ان سے پوچھا جائے کہ مماتیت سے متاثر ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تاکہ اس کا بھی ازالہ کیا جا سکے۔[2]: نفل نمازوں کی حتمی تعداد اگرچہ متعین نہیں ہے لیکن نوافل پڑھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ضرور ہے۔ اس لیے ان امام صاحب کا علی الاطلاق نوافل کی نفی کرنا اور ان کی ادائیگی سے منع کرنا یقیناً غلط فعل ہے۔ اس سے انہیں اجتناب کرنا چاہیے۔نوٹ: بعض فرائض وسنن کےبعد نوافل کا ثبوت بندہ کی کتاب ”نماز اھل السنۃ والجماعۃ“ میں موجود ہے۔ اسے ملاحظہ کر لیا جائے۔[3]: نماز کے بعد دعا کرنا بھی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس پر بندہ کا ایک مدلل کلپ موجود ہے۔ اس کا لنک ارسال کیا جا رہا ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں اور ان امام صاحب کو بھی سنائیں تاکہ ان کو جو اشکال ہو وہ دور ہو سکے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved