• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ایک حدیث کے پیشِ نظر عصمتِ انبیاء پر اشکال کا جواب

استفتاء

عصمت انبیاء علیہ السلام کے منکرین کی جانب سے ایک شبہ پیش کیا جاتا ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم‎ نے ایک حدیث مبارک میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے تمام  بیٹوں سے خطا ہو گی اور ان میں بہترین وہ شخص ہے جو خطا کے بعد توبہ کر لے۔  اس کو بنیاد بنا کر وہ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں، لہذا ان سے بھی خطائیں وغیرہ سرزد ہو سکتی ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

چونکہ اولادِ آدم کے مقام میں باہمی فرق ہے اس لئے ان کے حق میں خطا اور اس کے بعد توبہ کے مفہوم میں بھی فرق ہو گا۔ چنانچہ

عام آدمی کے حق میں خطا؛  گناہ اور نافرمانی کے معنی میں ہے اور اس کی توبہ یہ ہے کہ یہ گناہ گار آدمی معصیت فوراً چھوڑ دے، اس پر نادم ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے۔

مجتہد کے حق میں خطا بمعنی  خطائے اجتہادی ہے اور خطا سے توبہ کا معنی یہ ہے کہ جب ادلہ میں مزید غور وخوص کرنے کے بعد اسے اپنی خطائے اجتہادی کا علم ہو تو فوراً اپنے پہلے موقف سے رجوع کر کے اور صحیح موقف کو اپنا لے۔

حضرات انبیاء علیہم السلام کے حق میں خطا کا معنی خلافِ اولیٰ کام کرنا ہے اور انبیاء علیہم السلام کے حق میں توبہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس خلاف اولیٰ کام پر بھی خدا تعالی کی طرف متوجہ ہوں  اور معافی کے طلب گار بنیں۔

تو خطا اور اس کے بعد توبہ اگرچہ اولادِ آدم کے لیے ثابت ہے لیکن درجات و  مفہوم میں کے اعتبار سے ان میں فرق موجود ہے۔ اس لیے محض لفظ ”خطا“ کو دیکھتے ہوئے عصمت انبیاء علیہم السلام کا انکار کرنا درست نہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved