- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش (عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم) کے دن کیا کیا کام کرنا جائز ہیں؟ وضاحت فرما دیں!
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حوالے سے چند باتیں سمجھیں:
1: اس دن کو ”عید“ کہنا درست نہیں۔ شریعت میں دو ہی عیدیں مقرر ہیں۔ اسلام میں اس طرح کی تیسری عید کا کوئی تصور نہیں۔2: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا اور آپ کی آمد پر خوش ہونا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بغیر دین نا مکمل ہے۔ اس لیے سال بھر کے تمام ایام میں قولاً اور عملاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کرتے رہنا چاہیے، البتہ کسی دن کو خاص کر کے اس میں خوشی منانا اور خوشی بھی ایسی کہ خلافِ سنت افعال کیے جائیں سخت منع ہے۔3: اس دن شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب بیان کرنا، آپ کی اتباع کی بات کرنا، تلاوت ونوافل پڑھ کر اور حسبِ استطاعت صدقہ و خیرات کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایصال ثواب کرنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک کی کثرت سے بھیجنا چاہیے بشرطیکہ غلو سے بچ کر یہ کام کیے جائیں اور انہیں ضروری اور لازم بھی قرار نہ دیا جائے۔4: یہاں اس بات کی وضاحت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ماہِ ربیع الاول خصوصا ً 12 ربیع الاول کا دن مقرر کر کے اس میں میلاد منانا، مختلف مقامات پر محافل ومجالس منعقد کرنا ، اسی دن جلوس نکالنا ، کھانا کھلانے کا اہتمام کرنا، مٹھائیاں تقسیم کرنا ، اسی دن بھاری بھرکم کیک کاٹنا (بعض علاقوں میں باقاعدہ ”عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے نام پر دو رکعت نمازِ عید پڑھنا اور ایک دوسرے کو ”عید مبارک“ کہہ کر مبارک باد دینا ثابت ہے ) خواتین کا محافل میلاد منعقد کرنا اور اونچی اونچی آواز میں اسپیکر پر نعت خوانی کرنا ایسے کام ہیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں۔ اس موقع پر ان کاموں سے بھی بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved