- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ایک شخص امام کے ساتھ آخری رکعت میں شامل ہوا۔ جونہی یہ شخص قعدہ میں بیٹھا تو امام صاحب نے سلام پھیر دیا۔ اس آدمی کے پاس اتنا ٹائم نہیں تھا کہ وہ التحیات پڑھتا۔ کیا ایسے شخص کے لیے التحیات پڑھنا ضروری ہے؟ اور اگر اس نے التحیات نہ پڑھی تو کیا اس کی نماز صحیح ہو جائے گی یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1: اگر اس شخص کے شامل ہوتے ہی امام نے سلام پھیر دیا تو اس شخص کو چاہیے کہ پہلے التحیات پڑھے۔ پھر کھڑا ہو جائے اور اپنی باقی ماندہ نماز مکمل کرے۔
2: اگر کسی شخص نے اس صورت میں التحیات پوری نہیں کی تو بھی نماز بہرحال ہو جائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں۔
¨ علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
وَمُقْتَضَاهُ أَنَّهُ يُتِمُّ التَّشَهُّدَ ثُمَّ يَقُومُ وَلَمْ أَرَهُ صَرِيحًا ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ فِي الذَّخِيرَةِ نَاقِلًا عَنْ أَبِي اللَّيْثِ : الْمُخْتَارُ عِنْدِي أَنَّهُ يُتِمُّ التَّشَهُّدَ وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَجْزَأَهُ. ( رد المختار مع الدر المختار: ل2 ص244)
ترجمہ: اس بات کا (جو علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے) تقاضا یہ ہے کہ مقتدی اپنا تشہد مکمل کرے گا، پھر کھڑا ہو گا لیکن میں نے اس بات کی صراحت کہیں نہیں دیکھی تھی۔ پھر میں نے کتاب ”ذخیرہ“ میں ابو اللیث رحمۃ اللہ علیہ سے منقول یہ بات دیکھی کہ وہ فرماتے ہیں: میرے ہاں مختار و پسندیدہ بات یہ ہے کہ یہ مقتدی اپنا تشہد مکمل کرے لیکن اگر اس نے تشہد مکمل نہیں کیا تب بھی نماز ہو جائے گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved