- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
خدمت میں ایک سوال عرض ہے!کیا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے کیا ایسا کچھ حدیث میں آتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس موقف کے دلائل یہ ہیں:
[۱]: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 207)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی لیکن وضوء نہیں کیا۔
[۲]: عن جعفر بن عمرو بن أمية الضمري عن أبيه قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يحتز من كتف شاة فأكل منها فدعي إلى الصلاة فقام وطرح السكين وصلى ولم يتوضأ.
(صحیح مسلم: رقم الحدیث 355)
ترجمہ: حضرت جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری اپنے والد (عمرو بن امیہ الضمری) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ بکری کے شانے کا گوشت (چھری سے) کاٹ کے کھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ کھڑے ہوئے ، چھری کو رکھا اور نماز ادا فرمائی لیکن وضوء نہیں فرمایا۔
[۳]: عن جابر بن عبد الله قال: أكل النبي صلى الله عليه و سلم وأبو بكر خبزا ولحما ولم يتوضؤا.
(سنن ابن ماجۃ: رقم الحدیث 489)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے گوشت اور روٹی کھائی لیکن (اس کے بعد) وضوء نہیں کیا۔
فائدہ:
جن روایت میں آیا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ منسوخ ہیں۔ امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں پہلے وہ احادیث نقل کی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس کے بعد ان احادیث کو لائے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہےکہ آگ پر پکی ہوئی کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ شارح مسلم علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (ت676ھ) نے ان دو قسم کی احادیث کی شرح میں لکھا ہے:
ذكر مسلم رحمه الله تعالى في هذا الباب الاحاديث الواردة بالوضوء مما مست النار ثم عقبها بالاحاديث الواردة بترك الوضوء مما مست النار فكأنه يشير إلى ان الوضوء منسوخ وهذه عادة مسلم وغيره من أئمة الحديث يذكرون الاحاديث التي يرونها منسوخة ثم يعقبونها بالناسخ.
(شرح مسلم للنووی: ج1 ص156)
ترجمہ: امام مسلم رحمہ اللہ نے اس باب میں ان احادیث کا ذکر کیا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، ان احدیث کے بعد پھر وہ احادیث لائے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ گویا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آگ پر پکی ہوئی کھانے سے وضو ٹوٹنے کا حکم منسوخ ہے۔ یہ امام مسلم اور دیگر محدثین رحمہم اللہ کی یہ عادت ہے کہ وہ پہلے ان احادیث کو ذکر کرتے ہیں جو ان کے نزدیک منسوخ ہوتی ہیں، پھر ان احادیث کو ذکر کرتے ہیں جو ان کے ہاں ناسخ ہوتی ہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved