- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اجتماعی ذکر بالجہر کے متعلق چند سوالات ارسال خدمت ہیں۔ امید ہے حضرت والا اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر ان کا جواب مرحمت فرمائیں گے تاکہ عوام و خواص ان سے مستفید ہو۔سوالات یہ ہیں:(1): ذکر بالجہر ثابت ہے یا نہیں؟ یہ ذکر اگر اجتماعی طور پر کیا جائے تو اس کا بھی ثبوت ملتا ہے یا نہیں؟ اگر ملتا ہے تو اس کی مشروع صورت کیا ہو گی؟(2): ذکر بالجہر کے جواز کی کوئی شرائط ہیں یا مطلقا بلا شرائط کیا جا سکتا ہے؟(3): آج کل بعض سلاسل کے مشائخ اپنی خانقاہوں میں ذکر بالجہر کی مجالس قائم کرتے ہیں جن میں شیخ طریقت اونچی آواز میں ایک تسبیح (مثلاً لَا إلٰہَ إلَّا اللہ) کا ذکر کرتے ہیں اور مریدین و سالکین بھی ساتھ ساتھ اسی تسبیح کا ذکر اونچی آواز میں کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد شیخ دوسری تسبیح (مثلاً إلَّا اللہ) کا ذکر شروع کرتے ہیں تو مریدین بھی اسی تسبیح کا ذکر ساتھ ساتھ شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح دیگر تسبیحات (مثلاً اللہُ اللہ ، لفظ اللہ وغیرہ) بھی مکمل کی جاتی ہیں۔ بعض مجالس میں شیخ دل پر ضرب مارنا بھی سکھاتے ہیں۔ ایسی مجالس ذکر قائم کرنے کا کیا حکم ہے؟(4): بعض مرتبہ کسی خانقاہ کےانتظام نہ ہونے کے سبب یا مجمع کے زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ مجالس مسجدوں میں بھی قائم کی جاتی ہیں تو مساجد میں ان مجالس کا قائم کرنا کیسا ہے؟ اس ضمن میں اس بات کی وضاحت بھی مطلوب ہے کہ مساجد میں اجتماعی ذکر بالجہر کے منع پر حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ انہوں نے مسجد میں ایک شخص کو دیکھا جو لوگوں کو اجتماعی طور ر ذکر کرا رہا تھا جسے آپ رضی اللہ عنہ نے بدعتی کہہ کر مسجد سے نکال دیا۔اس روایت کا صحیح معنی و مفہوم کیا ہے؟(5): کیا ہمارے اکابرین نے ذکر بالجہر کی ایسی مجالس قائم کی ہیں یا ان کی ترغیب دی ہے یا انہیں جائز قرار دیا ہے؟ نیز موجودہ دور کے حضرات کی ان مجالس کے بارے میں کیا رائے ہے؟امید ہے شفقت فرماتے ہوئے ان امور کا شافی جواب عنایت فرمائیں گے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بالترتیب جوابات ملاحظہ فرمائیں:
[1]: ذکر بالجہر انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح سے ثابت ہے۔ اجتماعی ذکر کی جس شکل کا ثبوت یا فضیلت منقول ہے اس سے مراد ایسی مجالس کا ذکر ہے جن میں ذکر کرنے والے جمع تو ایک جگہ ہوں لیکن ذکر اپنا اپنا علیحدہ طور پر کریں۔ دیکھنے میں تو یہ اجتماعی ہے کہ ایک جگہ، ایک وقت اور ایک محفل میں کیا جا رہا ہے لیکن نفسِ ذکر کے اعتبار سے انفرادی ہو گا۔نوٹ: بعض مشائخ طریقت کی وہ مجالس جن میں شیخ ذکر کے کلمات بآواز بلند کہے اور باقی لوگ اس کے ساتھ ساتھ یہ کلمات کہتے جائیں یا کوئی متبع سنت شیخ طریقت کسی سالک اور مرید کو اس کے احوال کے پیش نظر جہرِ مفرط (حد اعتدال سے قدرے بلند آواز کے ساتھ) کا حکم دے تو تعلیم کی خاطر یہ بھی اپنی شرائط کے ساتھ جائز ہے (تفصیل آگے آ رہی ہے)ذکر بالجہر انفرادی اور اجتماعی کا ثبوت درج ذیل دلائل سے ملتا ہے:
(1): اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ﴾(سورۃ الاعراف: 205)ترجمہ: اور اپنے رب کا ذکر صبح و شام کیا کروعاجزی اور خوف کے ساتھ اپنے دل میں بھی اور آواز بہت زیادہ بلند کیے بغیر زبان کے ساتھ بھی، اور غفلت میں پڑے لوگوں میں شامل نہ ہوجانا۔• اس آیت کی تفسیر میں علامہ سید محمود آلوسی بغدادی (ت1270ھ) لکھتے ہیں:
واختار بعض المحققين أن المراد دون الجهر البالغ أو الزائد على قدر الحاجة فيكون الجهر المعتدل والجهر بقدر الحاجة داخلا في المامور به فقد صح ما يزيد على عشرين حديثا في أنه صلى الله عليه و سلم كثيرا ما كان يجهر بالذكر․ترجمہ: بعض محققین علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس آیت میں ”آواز بلند کیے بغیر ذکر“ کرنے سے مراد یہ ہے کہ حد درجہ بلند آواز یا ضرورت سے زائد بلند آواز سے ذکر نہ کیا جائے۔ اس صورت میں مناسب بلند آواز یا ضرورت کے مطابق بلند آواز کے ساتھ ذکر کرنا باری تعالیٰ کے حکم کی تعمیل شمار ہو گا۔ نیز بیس سے زائد احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات میں بلند آواز سے ذکر کرتے تھے۔• حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
حاصل ادب کا یہ ہےکہ دل اور ہیئت میں تذلل اور خوف ہو اور آواز کے اعتبار سے جہر مفرط نہ ہو یا تو بالکل آہستہ ہو یعنی مع حرکت لسانی کے اور یا جہر معتدل ہو، اور جہر فی نفسہ ممنوع نہیں ہے، جن حدیثوں میں اس کی ممانعت آئی ہے مراد اس سے مفرط ہے ، البتہ اگر کسی عارض کی وجہ سے مثل دفع خطرات یا دفع قساوت وتحصیل رقت وغیرہ ان شرائط کے ساتھ ہو کہ کسی شیخ محقق نے تجویز کیا ہو، کسی نائم اور مصلی کو تشویش نہ ہوورنہ بستی سے باہر چل جاوے، اس جہر کو قربت نہ جانتا ہو بلکہ علاج سمجھتا ہو تو اجازت ہے کیو نکہ جو مفاسد علل نہی کے تھے وہ اس میں نہیں ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب(تفسیر بیان القرآن: ج2 ص79)(2): اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ وَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً ۭ كُلٌّ لَّهٗٓ اَوَّابٌ ﴾(سورۃ ص: 18، 19)ترجمہ:ہم نے پہاڑوں کو اس کام پر لگا دیا تھا کہ وہ شام کے وقت اور سورج نکلتے وقت ان (حضرت داؤد علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی (اس کام پر لگایا تھا) جنہیں اکٹھا کر لیا جاتا تھا۔ یہ سب ان کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کا خوب کرتے تھے۔• حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
یؤخذ منہ أمران: الأول الإجتماع علی الذکر تنشیطا للنفس وتقویۃ للھمۃ وتعاکس برکات الجماعۃ من بعض علی بعض․(مسائل السلوک من کلام ملک الملوک: ص426)ترجمہ: یہاں سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: پہلی ؛ ذکر کرنے کے لیے جمع ہونا ثابت ہوتا ہے (جو کہ) طبیعت کی تازگی، ہمت بڑھانے اور مجمع کی برکات کے ایک دوسرے پر انعکاس ہونے کے لیے (مفید ہے)
• مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی (ت1396ھ) اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے عجیب توجیہہ فرمائی کہ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح سے ذکر وشغل کا ایک خاص کیف پیدا ہو گیا تھا جس سے عبادت میں نشاط اورتازگی اور ہمت پیدا ہوتی تھی اور اجتماعی ذکر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ذکر کی برکتوں کا ایک دوسرے پر انعکاس بھی ہوتا رہتا ہے۔ “(معار ف القرآن: ج7 ص496)(3): حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُوْنَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ “.(صحیح مسلم:ج2 ص345 کتاب الذکر والدعاء․ باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر)ترجمہ: جو لوگ اکٹھے بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے ہیں فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت الہیہ انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، سکینت ان پر نازل ہونے لگتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔• علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (ت676ھ) نے اس پر یہ باب قائم کیا ہے:
باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر[ترجمہ: قرآن کی تلاوت اور ذکر کرنے کے لیے جمع ہونے کی فضیلت کا بیان](4): عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلٰى حَاجَتِكُمْ قَالَ فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا يَقُولُ عِبَادِي قَالُوا يَقُولُونَ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ قَالَ فَيَقُولُ هَلْ رَأَوْنِي قَالَ فَيَقُولُونَ لَا وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ قَالَ فَيَقُولُ وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي قَالَ يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا وَتَحْمِيدًا وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا قَالَ يَقُولُ فَمَا يَسْأَلُونِي قَالَ يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ قَالَ يَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً قَالَ فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ قَالَ يَقُولُونَ مِنْ النَّارِ قَالَ يَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً قَالَ فَيَقُولُ فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ يَقُولُ مَلَكٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ قَالَ هُمْ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقٰى جَلِيسُهُمْ”․(صحیح البخاری: ج2 ص948 کتاب الدعوات․ باب فضل ذکر اللہ عز وجل، صحیح مسلم: ج2 ص344 کتاب الذکر والدعا․ باب فضل مجالس الذکر)ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو راستوں میں چلتے پھرتے رہتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوں تو یہ فرشتے ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ ادھر آ جاؤ! تم جس چیز کی تلاش میں تھے وہ یہاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے ان ذکر کرنے والوں کو آسمان دنیا تک اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ (جب ذکر کرنے والے واپس چلے جاتے ہیں تو یہ فرشتے بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں تو) اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے پوچھتا ہے -حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہے – کہ میرے بندے کیا کہہ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ لوگ آپ کی تسبیح بیان کر رہے تھے، آپ کی بڑائی بیان کر رہے تھے، آپ کی تعریف اور بزرگی بیان کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ پھر فرماتے ہیں: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: قسم بخدا! انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتے ہیں: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیا کریں گے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو آپ کی عبادت زیادہ کرتے، آپ کی بزرگی اور تعریف زیادہ بیان کرتے اور آپ کی تسبیح پہلے سے بڑھ کر کرتے۔ اللہ فرماتے ہیں: وہ مجھ سے کیا چیز مانگ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے ۔ اللہ فرماتے ہیں: کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: نہیں! قسم بخدا! انہوں نے جنت کو نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتے ہیں: اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی؟ وہ عرض کرتے ہیں: اگر وہ دیکھ لیتے تو اسے طلب کرنے میں اور زیادہ شوق، ذوق اور رغبت کرتے۔ اللہ فرماتے ہیں: وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ جہنم کی آگ سے پناہ مانگ رہے تھے۔ اللہ فرماتے ہیں: کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: قسم بخدا انہوں نے جہنم کو نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتے ہیں: اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو ان کی کیفیت کیا ہوتی؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو اس سے زیادہ پناہ مانگتے اور اس سے زیادہ خوف کھاتے۔ تو اللہ فرماتے ہیں: اے فرشتو! گواہ رہنا، میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے کہ ان میں فلاں بندہ بھی تھا جو ان کے ساتھ (ذکر کرنے کے لیے وہاں) نہیں بیٹھا تھا بلکہ اپنی کسی ضرورت کے لیے وہاں آ گیا تھا تو اللہ فرماتے ہیں: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والے کو بھی محروم نہیں کیا جاتا۔• علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (ت676ھ) لکھتے ہیں:
وفى هذا الحديث فضيلة الذكر وفضيلة مجالسه والجلوس مع أهله․(شرح مسلم للنووی: ج2 ص344)ترجمہ: اس حدیث میں ذکر ، مجالس ذکر اور ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔• علامہ محمد بن یوسف بن علی بن سعید الكرمانی (ت 786ھ) لکھتے ہیں:
وفيه شرف أصحاب الأذكار وأهل التصوف الذين يلازمون ويواظبون عليها․(الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری للکرمانی: ج22 ص187 باب فضل ذکر اللہ عز وجل)ترجمہ: اس حدیث میں ذکر کرنے والوں اور اہل تصوف کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے جو ان مجالس کا اہتمام کرتے ہیں اور ان کی پابندی کرتے ہیں۔• حافظ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) لکھتے ہیں:
وفي الحديث فضل مجالس الذكر والذاكرين وفضل الاجتماع علي ذلك․(فتح الباری: ج11 ص255 باب فضل ذکر اللہ عز وجل)ترجمہ: اس حدیث میں ذکر کی مجالس، ذکر کرنے والوں اور ذکر کرنے کے لیے جمع ہونے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔(5): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ ․(صحیح البخاری: ج2 ص 1101کتاب الرد علی الجہمیۃ وغیرھم التوحید․ بَاب قَوْلِ اللهِ تَعَالٰى : وَيُحَذِّرُكُمْ اللَّهُ نَفْسَهُ )ترجمہ: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھتا ہے۔میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے اکیلا یاد کرے تو میں اسے اکیلا یاد کرتا ہوں ، اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں ۔[2]: ذکر بالجہر کے جواز کی چند شرائط ہیں، انہیں ملحوظ رکھا جائے تو اس کی اجازت ہے۔ شرائط یہ ہیں:
۱: ریاء یعنی لوگوں کو دکھانا مقصود نہ ہو۔۲: سونے والے کی نیند میں خلل نہ آتا ہو۔۳: نماز پڑھنے والے کی نماز میں خلل نہ آتا ہو۔۴: تلاوت کرنے والے کی تلاوت میں خلل نہ آتا ہو۔۵: اونچی آواز اور خاص کیفیات کو بذات خود مقصود نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں مقصد اصلی (یعنی تزکیہ نفس) کے لیے ذریعہ اور وسیلہ سمجھا جائے۔۶: جو اس طرز کا ذکر نہ کرے اس پر طعن و تشنیع نہ کی جائے۔• علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی (ت1231ھ) لکھتے ہیں:
ونص الشعراني في “ذكر الذاكر للمذكور والشاكر للمشكور” ما لفظه: وأجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الله تعالى جماعة في المساجد وغيرها من غير نكير إلا أن يشوش جهرهم بالذكر على نائم أو مصل أو قارىء قرآن كما هو مقرر في كتب الفقه․ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ص318 کتاب الصلاۃ․ فصل فی صفۃ الاذکار)ترجمہ: علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے ”ذكر الذاكر للمذكور والشاكر للمشكور“ میں فرمایا ہے: سلف و خلف تمام علماء کا مساجد اور مساجد کے علاوہ دیگر مقامات میں اجتماعی ذکر کے استحباب پر بغیر کسی نکیر کے اجماع ہے بشرطیکہ ذکر بالجہر کی وجہ سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے کو تکلیف نہ ہو، جیسا کہ کتب فقہ میں یہ بات موجود ہے۔
نوٹ: امام شعرانی کا پورا نام ” ابو المواہب عبد الوہاب بن احمد بن علی الانصاری الشعرانی“ ہے۔ 898ہجری میں مصر کے ایک شہر ”قلقشندہ “ میں پیدا ہوئے۔ آپ فقیہ، محدث زاہد اور طریقت کے بہت بڑے شیخ تھے۔ مشائخ طریقت کے ہاں آپ کا لقب ”قطب ربانی“ ہے۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ الاسلام زکریا الانصاری، جلال الدين السيوطی، شمس الدين الدواخلی، ملا علی العجمی، شمس الدين الدمياطی الواعظ، شهاب الدين الحنبلی وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کے مشائخ طریقت علي المرصفی، محمد الشناوی اور علي الخواص تھے۔ آپ نے مختلف موضوعات پر 300 سے زائد کتب تحریر فرمائیں جن میں سے مشہور کتب الفتح المبین فی جملۃ من اسرار الدين، الانوار القدسیۃ في معرفۃ قواعد الصوفیۃ، البحر المورود فی المواثیق والعہود، كشف الغمۃ عن جمیع الامۃ، المختار من الانوار فی صحبۃ الاخيار، المقدمۃ النحویۃ فی علم العربیۃ، المیزان الكبرىٰ، اليواقیت والجواهر فی بيان عقائد الاكابر، الكبريت الاحمر فی بيان علوم الشیخ الاكبر ہیں۔ 75 سال کی عمر میں 973ھ میں وفات پائی۔• علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارىء الخ(رد المحتار مع الدر المختار: ج2 ص525 مطلب فی رفع الصوت بالذکر)ترجمہ: حاشیہ حموی میں امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان موجود ہے کہ: سلف و خلف تمام علماء کا مساجد اور مساجد کے علاوہ دیگر مقامات میں اجتماعی ذکر کے استحباب پر بغیر کسی نکیر کے اجماع ہے بشرطیکہ ذکر بالجہر کی وجہ سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے کو تکلیف نہ ہو۔• حضرت مولانا مفتی عبد الستار (رئیس دار الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان) ان شرائط کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”البتہ ذکر بالجہر میں یہ شرط ہے کہ بطور ریاء نہ ہو، کسی نائم یا مصلی کو اذیت نہ ہو، بلا تجویزِ شیخ جہرِ مفرط نہ ہو، پھر اس جہرِ مفرط اور اس کی ہیئات خاصہ کو قربت مقصودہ نہ سمجھے، تارک پر نکیر نہ ہو۔“(خیر الفتاویٰ: ج2 ص715)[3]: طریقت کے بعض سلاسل کے مشائخ اپنی خانقاہوں میں جن مجالس ذکر کا انعقاد کرتے ہیں تو ان کا مقصد تعلیمِ ذکر ہوتا ہے تاکہ مریدین وسالکین ذکر و شغل کا وہ طرز سیکھ لیں جو مطلوبہ کیفیات کے حصول میں مفید ہوتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ تصوف و طریقت کا مقصود اور غرض اصلی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، خشیتِ الٰہی ، یقین و استحضار ، اخلاق و احسان وغیرہ کا حصول ہے۔ رہے اشغال و اعمال تو ان کی حیثیت ذرائع اور وسائل کی ہے۔ مقاصد کے حصول کے لیے ذرائع اور وسائل زمانے اور افراد کے لحاظ سے جدا جدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ بعض مشائخ طریقت مجاہدات، ریاضات اور تجربات سے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مذکورہ مقاصد (اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، خشیتِ الٰہی ، یقین و استحضار ، اخلاق و احسان وغیرہ) کے حصول کے لیے ذکر بالجہر کو چند مخصوص کیفیات اور خاص تعداد کے ساتھ کیا جائے تو مفید ثابت ہو گا۔ مثلاً بعض حضرات اپنے سر کو دائیں جانب سے بائیں جانب ہلا کر قلب پر ضرب لگاتے ہیں، بعض کے ہاں سانس بند کر کے ”اللہ ھو“ کہنے کا طریقہ رائج ہے تو مشائخ طریقت کا مجالس ذکر منعقد کرنے سے مقصد ان کیفیات کی تعلیم اور ذکر کا عادی و خوگر بنانا ہوتا ہے۔ تعلیم و تعلم کے لیے ایسی مجالس جائز ہوا کرتی ہیں بشرطیکہ خود انہی مجالس کو مقصود نہ سمجھ لیا جائے اور افراط و تفریط سے بھی بچا جائے۔• حضرت مفتی محمد نظام الدین اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (سابق صدر مفتی دار لافتاء دار العلوم دیوبند) اس قسم کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں، سوال وجواب دونوں ذکر کیے جاتے ہیں:
سوال:بعض صوفیاء و مشائخ حلقہ کراتے ہیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ ذاکرین شیخ کے پاس حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں، پھر شیخ ذکر ”لا الہ الا اللہ“ کہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سب ذاکرین ایک آواز سے ذکر کرتے ہیں، گاہ بگاہ وہ شیخ ان پر توجہ ڈالتا ہے جس کی وجہ سے ان کے اوپر ایک خاص حالت و کیفیت طاری ہوتی ہے۔ کیا اس طریقہ پر ذکر کرنا اور کرانا ثابت ہے؟ اگر سلف سے ثابت نہیں تو اس صورت میں ایسا کرنا مفید اور جائز ہے یا نہیں؟الجواب وباللہ التوفیق:اور اشغال و اذکار کی طرح یہ بھی ایک طریقہ ذکر وعلاج ہے، اس سے بھی ایسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ عز اسمہ کی محبت مطلوبہ کی تحصیل آسان ہو، ذکر منفرداً ومجتمعاً خواہ سراً یا جہراً اور توجہ کا القاء ثابت و جائز ہے، اس لیے اس کا مجموعہ بھی جائز ثابت ہونے میں کلام نہ ہو گا، البتہ اس کو واجب یا سنت کہنا یا قرار دینا یا اسی میں حصر کرنا درست نہ ہو گا۔پس اگر شیخ کامل جو مکائد نفس سے اور طریق اصلاح سے واقف ہو اور اس کی محبت مطلوبہ کی تحصیل کے لیے یہ طریقہ استعمال کرے تو کوئی وجہ اعتراض نہیں۔ رہ گیا ذکر منفرداً و مجتمعاً و القاء توجہ کا ثبوت تو اس کے لیے مندرجہ ذیل روایات بھی کافی ہیں [اس کے بعد مفتی صاحب نے چند روایات ذکر کی ہیں جن سے ذکر انفرادی، اجتماعی اور توجہ کاالقاء کرناثابت کیاہے](منتخبات نظام الفتاویٰ: ج3 ص437، 438 ناشر ایفا پبلیکشنز نئی دہلی)• قلب پر ضرب لگانے کے جواز کے متعلق فتاویٰ حقانیہ میں ہے:
شرعی اعتبار سے ذکر میں ضرب برائے تصفیہ باطن اور بطور علاج کیا جاتا ہے کوئی ضروری عمل نہیں مگر جائز ہے ۔علماء راسخین نے ضر ب مع الذکر کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے کما قال شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ: فمنہ اسمُ الذات إما بضربۃٍ واحدۃٍ وصفتُہ ان یقولَ: “أَللہ” بالشدِّ والمدِّ والجھرِ بقوۃ القلب والحلق جمیعاً ثم یلبثَ حتی یعودَ إلیہ نفسہ ثم یفعل ھٰکذا وھٰکذا․[جیسا کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اذکار میں سے ایک ذکر اسم ذات یک ضربی ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ ذکر کرنے والا شخص لفظ ”اللہ“ کو شد، مد اور اونچی آواز کے ساتھ دل اور گلے دونوں کی قوت سے ادا کرے، پھر کچھ دیر رک جائے یہاں تک کہ سانس اپنی جگہ آ جائے، پھر اسی طرح بار بار کرے](فتاویٰ حقانیہ: ج2 ص250 )[4]: مجالس ذکر کا قیام مساجد میں بھی جائز ہے بشرطیکہ مذکورہ شرائط کی پابندی کی جائے۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے سلف وخلف علماء کا اس بات پر اجماع ذکر کیا ہے کہ مساجد میں ایسی مجالس کا قیام مستحب ہے:وأجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الله تعالى جماعة في المساجد وغيرها من غير نكير إلا أن يشوش جهرهم بالذكر على نائم أو مصل أو قارىء قرآن كما هو مقرر في كتب الفقه․(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ص174 فصل فی صفۃ الاذکار)ترجمہ: سلف و خلف تمام علماء کا مساجد اور مساجد کے علاوہ دیگر مقامات میں اجتماعی ذکر کے استحباب پر بغیر کسی نکیر کے اجماع ہے بشرطیکہ ذکر بالجہر کی وجہ سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے کو تکلیف نہ ہو، جیسا کہ کتب فقہ میں یہ بات موجود ہے۔باقی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اثر کے بارے میں محققین حضرات کی آراء یہ ہیں:
[۱]: علامہ جلال الدین عبد الرحمٰن بن ابی بکر السیوطی الشافعی (ت911 ھ) فرماتے ہیں:
قلت: هذا الأثر عن ابن مسعود․․․ على تقدير ثبوته فهو معارض بالأحاديث الكثيرة الثابتة المتقدمة وهي مقدمة عليه عند التعارض.(الحاوی للفتاویٰ :ج1ص380 اسم الرسالۃ: نتیجۃ الفکر فی الجہر فی الذکر)ترجمہ: میں (جلال الدین سیوطی) کہتا ہوں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اثر اگر ثابت بھی ہو تب بھی یہ بہت سی احادیث کے خلاف ہے جو پہلے ذکر کر دی گئی ہیں اور تعارض کے وقت وہ احادیث ہی مقدم ہوں گی۔[۲]: علامہ ابو الحسنات محمد عبد الحئی لکھنوی (ت1304ھ) لکھتے ہیں:
وفی تعالیق الانوار حاشیۃ الدر المختار قولہ ورفع صوتہ بالذکر روی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ انہ رأی قومایھللون برفع الاصوات فی المسجد فقال ما اراکم الا مبتدعین وامر باخراجہم لکن قال العلامۃ الحَفْنِی فی رسالۃ “فضل التسبیح والتھلیل”: ما نقل عن ابن مسعود غیر ثابت بدلیل ما فی کتاب الزہد بالسند الی ابی وائل انہ قال ھؤلاء الذین یزعمون ان عبد اللہ بن مسعود کان یَنْھَیٰ من الذکر ما جالستہ مجلسا الا ذکر اللہ ای جھر.(سباحۃ الفکر فی الجہر بالذکر :ص50)ترجمہ: تعالیق الانوار حاشیہ درمختار میں ہے :قولہ مساجد میں اونچی آواز سے ذکر کرنا حرام ہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ کچھ لوگ مسجد میں اونچی آواز سے ذکر کررہے تھے تو انہو ں نے فرمایا: میں تو تمہیں بدعتی ہی سمجھتا ہوں اور ان کو مسجد سے نکلوادیا لیکن علامہ حفنی (محمد بن سالم بن احمد الحَفْنِی) اپنے رسالہ ”فضل التسبیح والتہلیل “ میں فرماتے ہیں کہ یہ جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا جاتا ہے یہ ثا بت نہیں ہے دلیل اس کی یہ ہے کہ کتاب الزہدمیں سند کے ساتھ حضرت ابو وائل کا ارشاد منقو ل ہے کہ یہ لوگ جو گمان کر بیٹھے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ذکر سے منع کیا کرتے تھے (یہ صحیح نہیں کیونکہ) میں جب بھی کسی بھی مجلس میں ان کے ساتھ کہیں بیٹھا تو آپ رضی اللہ عنہ ہمیشہ ذکرکرتے تھے یعنی جہر کے ساتھ الخ اس توجیہہ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انکار ذکر بالجہر پر نہیں تھا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ تو خود اس کے قائل تھے بلکہ یہ انکار کسی اور وجہ سے تھا مثلاً افراط یا تفریط وغیرہ۔[۳]: شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی (ت1377ھ) اپنے مکتوبات میں اجتماعی ذکر کی تین احادیث مرفوعہ صحیحہ نقل کر کے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس اثر کے متعلق یہ تحریر فرماتے ہیں:
یہ روایات اور ان کے ہم معنی شیخین وغیرھما کی مرفوعات صحیحہ ہیں ان کے مقابلہ میں دار می کی وہ روایت جو آپ نے ذکر فرمائی ہے کیا حیثیت رکھتی ہے ؟جب کہ وہ موقوف ہے اس کے روات متفق علیہ نہیں ہیں اگرچہ ثقات ہیں، اس لیے اگر معارضہ کیا جائے گا تو احا دیث مذکورہ بالا ہی کو ترجیح ہو گی خصوصاً جب کہ اطلاقِ آیات ِذکر ان کی مؤید ہیں ”فَاذْكُرُوا اللّهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِكُمْ“ (سورۃ النساء) ” يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا وَّسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا“ (الاحزاب) وغیرہ جن سے اجتماع اور انفراد سب کا ثبوت ہوتا ہے ۔ اور اگر کوئی صورت جمع کی نکالی جائے تو یہ کہنا ممکن ہے کہ کوئی چیز ہر دو صاحبوں نے اس جماعت میں ایسی مشاہدہ کی جو کہ زمانہ سعادت میں نہیں پائی گئی اور اس میں افراط تفریط کا شائبہ تھا ، اس بنا پر اس کو منع کیا ، نہ کہ نفس اجتماع بالذکر اور اس کی مباح کیفیات کو۔(مکتوبات شیخ الاسلام :ج2 ص52)[۴]: حضرت مولانا مفتی عبد الستار (رئیس دار الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان) اس اثر کی یہ توجیہہ لکھتے ہیں:
”حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انکار کرنا کسی ہیئت خاصہ کی بناء پر تھا، نفس اجتماعی ذکر پر نہیں تھا۔ اجتماعی ذکر کی ایک شکل یہ ہے کہ سب ذاکرین قصداً آواز ملا کر ذکر کرنے کا التزام کریں، ایک کہلائے اور باقی مجمع اس کے پیچھے اسی کلمے کو دہرائے جیسے بچوں کو گنتی یا پہاڑے یاد کرائے جاتے ہیں۔ اجتماعی ذکر کی یہ دونوں صورتیں محل کلام ہیں اور تیسری شکل یہ ہے کہ ذاکرین ایک جگہ مجتمع ہوں اور سب اپنا اپنا ذکر کریں، کسی دوسرے کے ذکر کی طرف قطعاً متوجہ نہ ہوں، وقت محل کی وحدت کے اعتبار سے یہ اجتماعی ذکر ہے لیکن نفسِ ذکر کے لحاظ سے انفرادی ہے، یہ درست ہے۔ پس ممکن ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انکار پہلی دوسری قسم کے بارے میں ہو، اس کا آپ نے وہاں مشاہدہ کیا ہو۔“(خیر الفتاویٰ: ج2 ص709)[5]: ذکر بالجہر کی مجالس کے متعلق اکابرین اور موجودہ حضرات کا موقف یہ ہے کہ اپنی شرائط کے ساتھ ایسی مجالس منعقد کرنا جائز ہے خصوصاً جہاں شیوخ طریقت علاج اور تعلیم کے لیے ایسی مجالس کاا نعقاد کرتے ہوں تو ان مجالس کی تو سب تائید کرتے ہیں اور اصلاحِ نفس کے لیے انہیں مفید جانتے ہیں۔ چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
• شیخ عبد الحق محدث دہلوی الحنفی (ت1052ھ) کے موقف کے متعلق مولانا عبد الحئی لکھنوی فرماتے ہیں:
ومنھم الشیخُ عبد الحق الدِّھْلَوِی حیث أورد فی رسالتہ المسمَّاۃ ب “توصیل المُرِید إلی المُراد ببیان ِأحکام الأحزابِ والأوراد” کلاماً طویلاً بالفارسیۃ فی جوازہ وأنا أذکرُہُ مُعَرَّباً فنقول:الجھرُ والإعلانُ بالذکرِ والتلاوۃِ والإجتماعُ للذکر فی المجالسِ والمساجدِ جائز و مشروع لحدیث: “من ذَکَرنی فی مَلإ ذکرتُہُ فی مَلَإ خیر منہ”․(سباحۃ الفکر فی الجہر بالذکر: ص63)ترجمہ: ذکر بالجہر کو جائز کہنے والوں میں شیخ عبد الحق دہلوی بھی ہیں، آپ نے اپنے رسالہ “توصیل المُرِید إلی المُراد ببیان ِأحکام الأحزابِ والأوراد” میں ذکر بالجہر کے جواز پر فارسی زبان میں ایک طویل کلام فرمایا ہے۔ میں (مولانا عبد الحئی لکھنوی) اس کا ترجمہ پیش کرتا ہوں کہ شیخ عبد الحق دہلوی فرماتے ہیں: جہراً اور علانیہ طور پر ذکر اور تلاوت کرنا اورمجالس کی صورت میں اور مساجد میں ذکر کرنے کے لیےجمع ہونا جائز ہے اور شریعت میں ثابت ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے: “من ذَکَرنی فی مَلإ ذکرتُہُ فی مَلَإ خیر منہ” (جو بندہ مجمع میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مجمع میں اس کو یاد کرتا ہوں)• حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) فرماتے ہیں:
راقم کی رائے ناقص میں قول مجوزین کا صحیح اور ان میں سے مفصلین کا قول راجح معلوم ہوتا ہے کہ سب آیات واحادیث واقوال علماء کے جمع ہو جاتے ہیں ع ان خیر الامور اعدلہا۔ پس بعدثبوت مشروعیت جہر کسی طور وہیئت کے ساتھ مقید نہیں بلکہ بوجہ اطلاق ادلہ مطلق ہے خواہ منفرد ہو یا مجتمع، حلقہ باندھ کر ہو یاصف باندھ کر یا کسی اور صورت سے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ہر طور سے جائز ہے۔(امداد الفتاویٰ: ج5 ص169)• مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی (ت1372 ھ) ذکر جلی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
جواب: ذکر جلی جائز ہے اور مشائخ صوفیہ کا معمول ومتوارث ہے، احادیث کثیرہ سے اس کا ثبوت ہوتا ہے، جن مواقع میں کہ شریعت نے خود ذکر جلی مقرر فرمایا ہے اس کے اندر تو کوئی کلام ہی نہیں کر سکتا جیسے اذان،تکبیر، تلبیہ ،حج ،تکبیرتشریق وغیرہ کہ یہ سب اذکار ہیں اورجہر سے ثابت ہیں۔ ہاں جن مواقع میں کہ شریعت سے ثبوت نہیں وہاں اگر کوئی وجہ عارضی مانع نہ ہو تو نفس حکم تو یہی ہے کہ جائز ہے اور اگر کوئی عارضی منع موجود ہو تو نا جا ِئز ہو جائے گا۔ موانع عارضیہ کہ مثال یہ ہے کہ ذاکر کے جہر سے کسی سونے والے کو تکلیف ہو یا کسی نماز پڑھنے والے کی نماز میں خلل پڑتا ہو یا ذکر کرنے والا جہر کو ضروری یا لازم سمجھے وغیرہ اور جہا ں یہ موانع موجود نہ ہوں وہاں ذکر جلی جا ئز مگر ذکر خفی اولی ٰ ہے۔(کفایت المفتی: ج 2 ص77 کتاب السلوک والطریقۃ)• حضرت مولانا خیر محمد جالندھری (ت1390ھ) ذکر بالجہر کے متعلق ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
الجواب: ذکر جہر ہر طور سے جائز ہے، کسی کو کسی طور سے منع نہیں کرنا چاہیے۔ ذکر کسی ہیئت کے ساتھ مقید نہیں بلکہ بوجہ اطلاق ادلہ مطلق ہے خواہ منفرد ہو یا محتمع، حلقہ باندھ کر یا کسی اور صورت سے، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر، غرضیکہ کوئی ہیئت ہو جائز ہے․․․․ البتہ اس میں اس بات کا خیال ضرور رہے کہ یہ جواز اس شرط کے ساتھ ہے کہ کسی نائم یا نمازی کو اذیت نہ ہو اور جہر نہایت مفرط نہ ہو۔ نیز کسی طریقہ کو لازم نہ سمجھا جائے۔(خیر الفتاویٰ: ج1 ص349، 350)• مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ (ت1396ھ) روایات ذکر بالجہر اور ذکر بالسر میں تطبیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
روایت حدیث ذکر جہر کے متعلق بظاہر متعارض ہیں اور یہی سبب علماء ومشائخ کے اختلاف کا ہوا ہے اور اہل تحقیق نے روایات مختلفہ کی تطبیق اس طرح فرمائی ہے کہ اگر ریاء کا اندیشہ ہو یا سونے والوں کے آرام میں خلل یا نمازیوں کی تشویش کا سبب ہو تو ذکر جہر ممنوع ہے اور روایا ت منع ایسے ہی مواقع پر محمول ہیں اور جس کسی نے ذکر جہر کو بدعت کہا ہے وہ بھی مطلق نہیں بلکہ خاص قسم کے التزامات کے ساتھ ہو تو وہ بدعت ہے۔ مطلق جہر بالذکر کو بدعت کہنے کے کوئی معنی نہیں جب کہ روایات صحیح میں اس کا جواز و استحسان ثابت ہے۔ جیسے حدیث”وان ذکرنی فی ملاء“ (الحدیث) اور جب ذکر جہر ان غوائل ریاء وتشویش مصلین و نائمین وغیرہ سے خالی ہو تو وہ جائز ہے اور نصوصِ جواز اسی صورت پر محمول ہیں۔( فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: ج2ص223)• شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید (ت1413ھ) ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
جواب: ذکرِ بالجہر جائز ہے، بزرگوں کے بعض سلسلوں میں بطورِ علاج ذکر بالجہر کی تعلیم ہے، تا ہم جہر خود مقصود نہیں، بلکہ آواز ضرورت سے زیادہ بلند نہ کرے ۔نیز کسی نمازی کی نماز میں اور سونے والے کی نیند میں اس سے خلل نہ آئے ۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ج8 ص237 )• فقیہ الامت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی (ت 1416 ھ) لکھتے ہیں:
اصل یہ ہے کہ ذکراللہ خواہ انفراداً ہو خواہ اجتماعاً بالاجماع امر مستحسن ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔نصوصِ قرآنیہ اور احادیث ِ صحیحہ سے ثابت ہے ۔البتہ عوارض کی وجہ سے بعض اوقات ممانعت کی جاتی ہے مثلاً کسی خاص ہیئت ،وضع وتاریخ وغیرہ جن کا ثبوت شرعی نہیں ہے ان کا التزام کرنا ،تارک پر ملامت سب وشتم کرنایا ریا کا پایا جانا یا جہر مفرط کا ہونا جس سے نائم ،مصلی ،قاری وغیرہ کو تشویش ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ممانعت ان عوارض پر ہی محمول ہے۔(فتاویٰ محمودیہ: ج4 ص439 ، 440کتاب السلوک والاحسان)• حضرت مولانا مفتی عبد الستار (رئیس دار الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان) لکھتے ہیں:
” تیسری شکل یہ ہے کہ ذاکرین ایک جگہ مجتمع ہوں اور سب اپنا اپنا ذکر کریں، کسی دوسرے کے ذکر کی طرف قطعاً متوجہ نہ ہوں، وقت محل کی وحدت کے اعتبار سے یہ اجتماعی ذکر ہے لیکن نفسِ ذکر کے لحاظ سے انفرادی ہے، یہ درست ہے۔“(خیر الفتاویٰ: ج2 ص715)• حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں (سوال و جواب دونوں پیش ہیں):
(مسئلہ نمبر٢٢٨) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ(١) ذکر بالجہر (٢) ذکر بیک آواز (٣) ذکر بیک لفظ (٤) ذکر اجتماعی (٥) تداعی کے ساتھ جائز ہے یانہیں ؟مفصل ومدلل جواب مرحمت فرمائیں ۔الجواب باسم الملک الوہاب: ذکر کی مذکورہ صورتیں ذکر بالجہر ،ذکر اجتماعی اور تداعی کے ساتھ ذکر جائز ہے اور اس کے جواز کے لیے چند شرائط ہیں :
(١)جہر مفرط نہ ہو(٢)کسی نمازی کی نماز میں اس کی وجہ سے خلل واقع نہ ہوتاہو(٣)تلاوت کرنے والے کی تلاوت متاثر نہ ہو(٤)سونے والے کی نیند خراب نہ ہوذکر بیک آواز کا نہ کوئی اہتمام کرتاہے اور نہ اس کو ضروری سمجھتاہے۔ اگر اتفاقاً ایساہوجائے تو اس پر اعتراض کرنا تعصب پر مبنی ہے ۔(ارشاد المفتین: ج1 ص375)• مفتی سعید احمد پالنپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند فرماتے ہیں:
مسلمانوں کا جمع ہو کر شوق و رغبت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا، سبق پڑھنا، تقریر سننا، تلاوت کرنا اور ذکر جہری یا سری کرنا رحمت خداوندی کو کھینچتا ہے، ملائکہ ان کو گھیر لیتے ہیں، ذاکرین کے انوار ایک دوسرے پر منعکس ہوتے ہیں (پلٹتے ہیں) اور ایک کو دوسرے سے حوصلہ ملتا ہے، اس لیے اجتماعی ذکر میں انفرادی ذکر سے زیادہ فوائد ہیں۔ چنانچہ سالکین عموماً اجتماعی ذکر کرتے ہیں مگر بعض حضرات جوش میں آ کر چلانے لگتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں۔
(تحفۃ الالمعی شرح سنن الترمذی: ج8 ص51 باب ما جاء فی القوم یجلسون فیذکرون اللہ ما لھم من الفضل؟)
• دار العلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر یہ فتویٰ (# 149906، Published on: Apr 23, 2017) موجود ہے۔
سوال : حضرت! کیا ذکر بالجہر شرائط کے ساتھ مسجد میں کرنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کس طرح اور کن شرائط سے؟جواب : بسم الله الرحمن الرحيم، ذکر بالجہر جائز اور احادیث سے ثابت ہے، اس لیے مسجد میں ذکر بالجہر کی گنجائش ہے، بشرطیکہ جہر کی وجہ سے نمازیوں کی نماز میں یا سونے والوں کی نیند میں خلل نہ ہو، جہاں تک ہیئت کا تعلق ہے تو حدیث میں کوئی ہیئت مذکور نہیں ہے، البتہ متأخرین صوفیاء خاص طور پر سرہلاکر ذکر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جس کی وجہ سے قلب میں حرارت پیدا ہوتی اور ذکر کے اثرات اعضا وجوارح پر ظاہر ہوتے ہیں؛ اس لیے اگر کوئی متبع سنت بزرگ اس طور پر ذکر کرنے کو بتلائے تو اس طریقہ پر ذکر کرنے کی گنجائش ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
• دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کے ایک فتویٰ میں ایک سوال (کہ مسجد میں ذکر بالجہر اجتماعی جائز ہے؟) کے جواب میں یہ لکھا ہے:اگر کوئی متبع شریعت شیخِ کامل اپنے مریدوں کی اصلاح وتربیت کے لیے کسی ایسی جگہ پر ذکر کی مجلس منعقد کرے جہاں دیگر عبادت کرنے والوں کی عبادت میں خلل نہ پڑتا ہو تو اس کی اجازت ہے۔ (ویب سائٹ، فتوی نمبر : 143909202026)• دار الافتاء والقضاء جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
ذکر جہری اور سری چاہے تنہا ہو یا جماعت کے ساتھ دونوں طرح جائز اور درست ہے، شریعت نے اس کو کسی خاص کیفیت کے ساتھ مقید نہیں کیا ہے، البتہ تربیت اور اصلاح کی غرض سے اگر کوئی مصلح اپنے مریدوں کو ذکر کا عادی بنانے کے لیے کسی مخصوص ذکر کے ورد پر مامور کرے تو ایسا کرنے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں مگر ذکر کو اس خاص طریقہ میں منحصر اور محض اس طرز کو حکم شرعی اور مقصود نہ سمجھا جائے۔(فتویٰ نمبر 23262، تاریخ: 8 جون 2014ء)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved