- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کئی بار سنا کہ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی روح اللہ نے خود قبض کی۔ میں نے مسجد کے امام صاحب سے پوچھا توانہوں نے کہاکہ پکا پتا نہیں ہے تو آپ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مختلف کاموں کے لیے مختلف فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی ہے، ان میں ایک فرشتہ حضرت عزرائیل علیہ السلام [ملک الموت ] کی ذمہ داری یہ ہے کہ جن کی وفات کا وقت آ جائے ان کی ارواح کوقبض کرتے ہیں۔قُل يَتَوَفّىٰكُم مَلَكُ المَوتِ الَّذى وُكِّلَ بِكُم ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم تُرجَعونَ سورةالسجدة:11ترجمہ:
“آپ ان سے کہہ دیں کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے تمہاری روح قبض کر لے گا پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا ئے جاؤ گے۔”ملک الموت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والوں کی روح نکالنے کے لیے متعین ہیں ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق جو کہا گیا ہے کہ”ان کی روح حضرت عزرائیل علیہ السلام نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے نکالی تھی۔اس واقعہ کا کہیں مستند کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔350رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے بالیقین افضل و اعلی ہیں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک بھی عام قانون کے مطابق قبض ہوئی۔لہذا حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کی روح بھی عام قانون کے مطابق حضرت عزرائیل علیہ السلام نے قبض کی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved