• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

“الولایۃ افضل من النبوّۃ” کا صحیح مفہوم

استفتاء

ایک جملہ میں نے پڑھا ہے۔ ” الولایۃ افضل من النبوة “ کہ مقامِ ولایت مقامِ نبوت سے بالاتر ہے۔ امداد الفتاویٰ کتاب السلوک میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بھی اس جملہ کو ذکر فرمایا ہے۔ براہِ کرم آپ اس جملہ کا درست مطلب بیان فرما دیں۔ جزاکم الله خیراً۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

” الولایۃ افضل من النبوة “  کا  ظاہری معنی مراد لے کر مقامِ ولایت کو مقامِ نبوت سے افضل قرار دیناقطعاً درست نہیں، کیوں کہ مقامِ نبوت کا مقامِ ولایت سے افضل اور بالاتر ہونا  اور مقامِ ولایت کا مقامِ نبوت سے کم تر ہونا نقل و عقل  دونوں سے ثابت ہےاور یہی ہمارا عقیدہ ہے،  اس پہ امت کا اجماع ہے۔  لہٰذا  اس جملے کا ظاہری معنی مراد لینا حقیقت اور عقیدے کے خلاف ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ” امداد الفتاویٰ” میں اپنی طرف  سے یہ جملہ ذکر نہیں فرمایا  اور نہ ہی آپ اس نظریہ کےقائل تھےکہ جس پہ شبہ کیا جائے،   بلکہ کسی سائل نے یہ جملہ ذکر کر کے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ رحمہ اللہ  نے اس کی تردید میں  نہایت مختصر  اصولی جواب تحریر فرمایا کہ ” مگر اس سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ ولایت کا ہر علم، نبوت کے ہر علم سے افضل ہو”۔ اس جواب پہ سائل نے یہ شبہ کیا کہ آپ کا یہ جواب تبھی معتبر ہو گا جب یہ ثابت ہو جائے کہ ہر نبی کے لیے ولایت ضروری ہے، اس کے جواب میں حکیم الامت رحمہ اللہ نے یہ فرمایا، ” یہ یقیناً ثابت ہے، اس کے خلاف عقیدہ کسی مقبول شخص کا نہیں”۔ (امداد الفتاویٰ جلد 5ص162)بعض صوفیاء نے اگر ” الولایۃ افضل من النبوۃ” کہا ہے تو حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے ان جوابات کی روشنی میں  آسان الفاظ میں اس کی یہ تاویل ہو سکتی ہے کہ نبوت اور ولایت دو الگ الگ منصب  ہیں  اور ہر منصب کے اپنے اپنے اوصاف و کمالات ہیں، نبی نبوت اور ولایت دونوں کے اوصاف و کمالات کا جامع ہوتا ہے جب کہ ولی  فقط اوصافِ ولایت کا حامل ہوتاہے۔  ان میں سے منصبِ ولایت عام ہے اور منصبِ نبوت خاص ہے ، ان  دونوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے، اس لیے ہر نبی کے لیے ولی ہونا ضروری ہے مگر ہر ولی کے لیے نبی ہونا لازم نہیں۔ ولایت اور نبوت میں جو نسبت ہے یہی نسبت رسالت اور نبوت میں پائی جاتی ہے کہ ہر رسول کا نبی ہونا بھی ضروری ہے لیکن ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں۔  صوفیاء کرام کی مراد یہ ہے کہ جیسے اوصافِ ولایت کےبغیر کوئی وَلی نہیں بن سکتا ایسے ہی  اس کے بِنا  کوئی نبی بھی نہیں بن سکتا ، گویا نبوت کو  ولایت  لازم ہے ، جب تک کسی نبی میں اوصافِ ولایت نہ پائے جائیں تب تک وہ منصبِ نبوت پہ فائز نہیں ہو سکتا۔ نبوت کےلیےجوولایت کا لزوم ہے،اس تعلقِ لزومیت کوبعض صوفیاء نے “افضلیت” سے تعبیر  کرتے ہوئے ” الولایۃ افضل من النبوۃ” کہہ دیا، جب کہ درست تعبیر “الولایۃ لازمۃ للنبوۃ” ہے۔ بہرحال  یہ  درست مفہوم تحریر کر دیا ہے تا کہ بعض صوفیاء کرام کی طرف غلط عقیدے کی نسبت نہ کی جا سکے۔ یہ بہت پیچیدہ بحث ہے اسے بیان کرنے سے گریز کریں بالخصوص عوام الناس کے سامنے بالکل بیان نہ کریں۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved