• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غلط عقائد کے حامل شخص کی کتب مسجد میں رکھناکیسا ہے؟

استفتاء

دریافت یہ کرنا ہے کہ مسلک اہل السنۃ والجماعۃ کی مسجد میں ایک بندہ جناب مودودی صاحب کا معتقد نماز پڑھتا ہو اور اس مسجد میں جناب مودودی کی تفاسیراور دیگر کتابیں لاکررکھتا ہو اور کسی صحیح العقیدہ بندہ نے مسجد سے تفاسیر اور باقی کتابیں ہٹادی ہوں، تو اس عمل کے باعث جناب مودودی صاحب کا معتقد یہ کہتا ہے کہ ہم اس مسجد میں نماز پڑھنے نہیں آئیں گے تو کیا ایسے شخص کو مسجد سے جوڑنے کی نیت سےجناب مودودی کی کتابیں مسجد میں رکھنے کی اجازت ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سوال میں جن کتب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے انہیں اپنی مسجد میں رکھنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ باقی اس نمازی کو پیار، محبت سے سمجھایا جائے کہ جناب مودودی صاحب کے عقائد و نظریات خطرناک حد تک غلط تھے۔انہوں نے اپنی تحریرات میں سلَفِ صالحین پر کیچڑ اچھالا ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ عظام علیہم الرضوان جیسی پاکیزہ نفوس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ابوالبشرحضرت آدم ، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت یوسف ، حضرت یونس، حضرت داؤد اور حضرت موسیٰ علیہم السلام جیسی مقدس شخصیات ان کے قلم کی زد میں آئیں ۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمرفاروق ، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت امیر معاویہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ کرام ان کے قلم کا نشانہ بنے۔جناب مودودی صاحب صحابہ کرام بشمول خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کو معیارِ حق نہیں سمجھتے تھے، ان کے نزدیک تقلید گناہ کی چیز تھی، قادیانی کافر نہ تھے، اور داڑھی ایک مشت سے کم رکھنا بھی صحیح تھا۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے، ادیانِ باطلہ اور صراطِ مستقیم: ص404تا490)امید ہے کہ آپ کی طرف سے خیرخواہانہ نصیحت اور حقائق سے آگاہی ملنے کے بعد وہ صاحب سمجھ جائیں گے اور اپنے آپ کو بہتر کر لیں گے۔ اگر اس کے باوجود بھی وہ اپنی ضد پہ قائم رہے تو اسے اپنے حال پہ چھوڑ دیں، بس ان کی ہدایت کے لیے دعا کرتے رہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved