- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک بندہ یہ مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہے، کہ ایک شخص پر کسی نے جادو سحر کیا ہے، اور اس کے اثر سے اس کی حالت بہت خراب ہو جاتی ہے، اس شخص نے کئی مسلم عاملین سے علاج کروایا لیکن اثر ختم نہیں ہوا، اب بھی اس کا وہی حال ہے، اب وہ غیر مسلم عامل کے پاس علاج کروانے کی غرض سے جانا چاہتا ہے، تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟ اور اگر وہ غیر مسلم عامل کوئی کلمات بولنے کو کہے تو بول سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مسلمانوں کے پاس جس قدر روحانی طاقت قرآنِ کریم کی صورت میں موجود ہے، پوری دنیا کے تمام مذاہب کے پاس اس کا ذرہ بھی نہیں۔ ہمارے ایمان و یقین میں ضعف اور عمل و کردارمیں کمزوری ہوتی ہے، تبھی قرآن کی تاثیر واضح دکھائی نہیں دیتی۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کائنات کی کوئی بڑی سے بڑی شیطانی طاقت قرآنِ کریم کی روحانیت اور تاثیر کے سامنے ٹھہر سکے۔اپنے دوست سے کہیں کہ شفا تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اس لیے کسی بھی غیر مسلم عامل کے پاس ہرگز نہ جائے، اپنے ایمان و عقیدہ کو مضبوط رکھے، مسنون اعمال و اَذکار کی پابندی کرے اور نیک مسلمان متبع سنت عاملین سے اپنا روحانی علاج کرائے۔ اللہ تعالیٰ ضرور صحت یاب فرمائیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved