• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

دہی کی ملائی کو بیچنا اور گاڑھا کرنے کے لیے پاوڈر استعمال کرنا

استفتاء

عرض یہ ہے کہ دہی کے اوپر جو ملائی جم جائےکیا اس کو علیحدہ بیچنا جائز ہے یا نہیں؟اکثر دہی کا کاوبار کرنے والے حضرات دہی گاڑھا کرنے کے لیےایک قسم کا پاوڈر (ہلہ روڑ)استعمال کرتے ہیں۔کیا اس کےاستعمال کی اجازت ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دہی پر جو ملائی جمی ہوتی ہے اس کو علیحدہ بیچنا جائز ہے کیونکہ وہ دہی سے بنی ہے جیسے اس دہی کو بیچنا درست ہے اسی طرح ملائی بیچنا بھی جائز ہے۔باقی دہی میں پاوڈر ملا کر بیچنا اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر دہی کو گاہک خریدتا ہے اور اس کو اس بات کا علم ہے کہ اس میں پاوڈر ملا ہوا ہے اور اس کے باوجود بخوشی اس کو خریدتا ہے تو ایسی صورت میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ۔لیکن اگر پاوڈر ملے دہی کو بغیر بتلائے بیچی یا خالص کہہ کر بیچی تو ایسی صورت میں یہ دھوکہ اور جھوٹ شمار ہوگا ۔اس طرح بیچنا درست نہیں ۔‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ.سنن ابن ماجہ۔رقم الحدیث : 2246
ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو عیب بیان کر دےواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved