• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ملائکہ کے بجائے اللہ تعالیٰ کو واسطہ بنا کر “یا رسول اللہ” کہنا

استفتاء

اللہ تعالیٰ تو حاضر ہیں ہر جگہ موجود ہیں، اللہ تعالیٰ کو حاضر جان کر اور ہر جگہ موجود ہونے کا عقیدہ رکھ کر ملائکہ کو واسطہ بنائے بغیر ہم “یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم” پڑھیں یا درود و سلام پڑھیں تو جائز ہے یا نہیں؟ ذہن میں یہ ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ قبول کرے گا تو پہنچا دے گا، قبول نہیں کرے گا تو نہیں پہنچائے گا۔یہ طریقہ مجھے اچھا لگتا ہے، ملائکہ کے واسطے والا طریقہ مجھے صحیح نہیں لگتا، کیوں کہ ملائکہ کے ذریعے سے بھی تو درود و سلام تبھی پہنچے گا جب اللہ تعالیٰ چاہے گا، اس لیے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ کو واسطہ بنا لیا جائے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

محترم! ہم ملائکہ کو واسطہ نہیں بناتے بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو واسطہ بنایا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “إنَّ لِلّٰهِ مَلاَئِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الأَرْضِ يُبَلِّغُوْنِي عَنْ أُمَّتِي السَّلاَمَ”(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر:8797)ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے  کچھ ملائکہ متعین فرمائے ہیں جو پوری دنیا میں سیاحت کرتے ہیں، گھومتے  ہیں،  میری امت  کی طرف سے  بھیجا جانے والا درود و سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔اس لیے یہ نظریہ سراسر غلط ہے کہ ملائکہ کو ہم کیوں واسطہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کائنات کے خالق و مالک ہیں  تو اسے چلانے کا نظام بھی اسی نے بنایا ہے۔ دیکھیے! اللہ تعالیٰ براہِ راست بارش برسانے پر مکمل قدرت رکھتے ہیں لیکن اس کام کے لیے ملائکہ مقرر فرمائے ہیں، اسی طرح رزق بھی اللہ تعالیٰ براہِ راست دے سکتے ہیں لیکن ملائکہ رکھے ہیں۔ تو ملائکہ کو خود اللہ تعالیٰ نے واسطہ بنایا ہے۔اگر ایک بندہ ضد کرکے بیٹھ جائے کہ میں خود  اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاؤں  گا، میرے ہاتھوں کا حرکت کرنا اور لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالنا بھی تو اللہ تعالیٰ کی اجازت اور حکم سے ہوتاہے، اس لیے اگر  اللہ تعالیٰ کو میری زندگی منظور ہو گی  تو خود ہی  اپنی قدرت سے میرے منہ میں کھانا دے دیں گے، ورنہ میں بھوکا ہی رہوں گا۔ ایسے ہی اگر کوئی بندہ شادی کیے بغیر اولاد کی خواہش لے کر بیٹھا رہے کہ اللہ تعالیٰ بیوی  کے واسطہ اور وسیلہ کے بغیر  محض اپنی قدرت سے اولاد دیں گے، میں بھی شادی نہیں کروں گا، تو ایسے بندوں  سے متعلق آنجناب کیا نظریہ رکھیں گے؟ یقیناً آپ بھی  یہی کہیں گے کہ ایسے اشخاص  کا طرزِ عمل قطعاً غلط ہے۔محترم! حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے، کائنات کے امور کو اللہ تعالیٰ نے اسباب کے ساتھ جوڑا ہے،یہ نظامِ قدرت ہے،  اس لیے اللہ تعالیٰ کےاس  چلائے ہوئے نظام ہی کو لائک(Like)  کرنا چاہیے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved