• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مؤمن بننے کے لیے تصدیق قلبی کے ساتھ التزامِ شریعت بھی ضروری ہے؟

استفتاء

میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے پہلے سبق میں”اَنْ یَقُوْلَ“ کی تفصیل میں فرمایا ہے کہ اس عبارت سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ زبان سے تلفظ کرنا اجراءِ احکامِ ایمان کے لئے شرط ہے یعنی ایمان کے دنیاوی احکام جاری کرنے کے لیے زبان سے کلمہ کہنا شرط ہے۔اس بات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دل میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی تصدیق کرے اور زبان سے اس کلمہ کا تلفظ نہ کرے تو وہ عنداللہ مومن ہو سکتا ہے، اگرچہ عند الناس مومن نہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ابو طالب اور ہرقل بادشاہ اور ان جیسے دیگر لوگ جو دل میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی تصدیق کرتے ہوں لیکن کسی عذر کی وجہ سے زبان سے اس کا اقرار نہ کرتے ہوں تو کیا وہ عند اللہ مومن ہوں گے یا نہیں؟ اگرچہ وہ عند الناس مسلم نہیں ہوں گے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایماندار بننے کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی تصدیق ضروری ہے جس میں التزامِ شریعت و طاعت بھی پایا جائے یعنی شریعتِ محمدیہ کے سامنے اس طرح سر تسلیم خم کیا جائے کہ باقی ادیان سے بیزاری کا اظہار ہو۔ابو طالب اور ہرقل بادشاہ نے التزامِ شریعت نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ملامت کے ڈر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں کرتے۔نیز انہوں نے اپنے پہلے دینوں سے بیزاری کا اعلان بھی نہیں کیا تھا اس لئے انہیں مومن نہیں کہیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved