- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
آپ کی ایک ویڈیو بعنوان ”مسئلہ معلوم کرنے کا طریقہ“ میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسئلہ پوچھنے کے بعد اپنا تعارف کرائیں جبکہ میری کم علمی کی وجہ سے یہ عمل سنت سے ذرا ہٹا ہوا محسوس ہوا۔ جیسا کہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لکھنے کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم“من محمد بن عبد اللہ الی ھرقل” لکھوا تے تھے یعنی مضمون سے پہلے اپنا تعارف کرواتے اور پھر مضمون لکھواتے جبکہ ویڈیو سے بظاہر خلافِ سنت معلوم ہو رہا ہے۔اسی طرح قرآن مجید میں بھی﴿اِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ سے اسی طرف اشارہ ملتا ہے کہ مضمون سے پہلے اپنا تعارف ہو ،نہ کہ بعد میں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
خطوط لکھنے کے سلسلے میں امت کا طرز مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ خط ما فی الضمیر کو بذریعہ تحریر دوسرے تک منتقل کرنے ذریعہ ہے۔ ما فی الضمیر کا اظہار چونکہ ہر دور میں تبدیل ہوتا رہا ہے اس لیے انداز و اسلوب مکاتبت میں تبدیلی کا رونما ہونا بھی ایک ناگزیر امر ہے۔ آسانی کی خاطر خطوط کو درجہ بدرجہ تین طرح کے اسالیب میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:[۱]: خطوط کا ایک طرز یہ بھی رہا ہے کہ کاتب اپنا نام پہلے لکھتا، پھر مکتوب الیہ کا نام لکھتا اور آخر میں نفسِ مضمون تحریر کرتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط کا طرز یہی تھا۔
صحیح البخاری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خط ان الفاظ میں موجود ہے:(مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّهِ وَرَسُوَلِهٖ إِلٰى هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْمِ․)ترجمہ: یہ خط اللہ کے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جانب سے ہرقل عظیم الروم کے نام ہے۔نیز اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی طرز تھا کہ کاتب کا نام پہلے لکھتے اور مکتوب الیہ کا نام بعد میں لکھتے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:(مَا كَانَ أَحَد أَعْظَمَ حُرْمَةً مِنْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَصْحَابُهٗ إِذَا كَتَبُوْا إِلَيْهِ كِتَابًا بَدَؤُا بِأَنْفُسِهِمْ)ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی آدمی قابل تعظیم نہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔[۲]: خط کا ایک طرز یہ بھی رہا ہے کہ مکتوب الیہ کا نام پہلے ہو، اس کے بعد کاتب کا اور آخر میں نفسِ مضمون ہو۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا جو خط حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام منقول ہے اس کی ابتداء یوں ہے:(بسم الله الرحمن الرحيم لعبد الله معاوية أمير المؤمنين من زيد بن ثابت سلام عليك أمير المؤمنين ورحمة الله فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو أما بعد فإنك تسألني عن ميراث الجد والإخوة)اس میں مکتوب الیہ نام پہلے اور کاتب کا بعد میں ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبد الملک بن مروان کو جو خط لکھا اس کا ابتدائیہ یوں ہے:(بسم الله الرحمن الرحيم لعبد الملك أمير المؤمنين من عبد الله بن عمر سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو وأقر لك بالسمع الخ)اسی لیے فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد بن احمد سمرقندی (ت375ھ) فرماتے ہیں:(ولو بدء بالمکتوب إلیہ جاز لأن الأمۃ قد اجتمعت علیہ وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لا یجتمع أمتی علی الضلالۃ)ترجمہ: کاتب اگر مکتوب الیہ کا نام پہلے لکھ دے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ امت میں اجماعی طور پر یہ طریقہ رائج ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی۔[۳]: خطوط کا ایک طرز یہ بھی ہے کہ مکتوب الیہ کا نام پہلے ہو، اس کے بعد نفسِ مضمون ہو اور آخر میں کاتب کا نام ہو۔ یہ اسلوبِ تحریر اب امت میں رائج ہو چکا ہے۔ اکابرین علماء و فقہائے امت اسی طرز کو اپنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اکابرین کے مکاتیب، علماء کے ایک دوسرے کو لکھے گئے خطوط اور استفتاءات اور عوام الناس کے طرز تحریر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خط میں مکتوب الیہ کا نام پہلے ہونا، اس کے بعد نفسِ مضمون اور آخر میں کاتب کا نام ہونا اب ایک اجماعی و اتفاقی طرز بن چکا ہے۔ حدیث نبوی کی رو سے امت کا اتفاق و اجماع حجت و دلیل ہوا کرتا ہے، اس لیے اس طرزِ تحریر کو ”خلافِ سنت“ کہنا درست نہیں ورنہ دورِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر عصرِ حاضر تک جتنے بھی طرز ہائے مکاتبت امت میں رائج چلے آئے ہیں ان سب کو ”خلافِ سنت“ کہنا لازم آئے گا -معاذ اللہ- جو کسی طرح درست موقف نہیں۔ اس لیے صحیح موقف یہی ہے کہ یہ اسلوبِ مکاتبت بلاشبہ جائز اور درست ہے، خلافِ سنت نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved