• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

معتکف کے لیے دوائی لینے کے لیے مسجد سے باہر جانے کا حکم

استفتاء

حضرت! ایک مسئلہ کی وضاحت فرما دیں کہ اگر کوئی شخص اعتکاف میں ہو   اور اتنا بیمار ہو جائے کہ ڈاکٹر گلوکوز چڑھانے کو کہے تو کیا معتکف گلوکوز چڑھانے کے لیے باہر نکل سکتا ہے؟ کیا اس کی وجہ سے اعتکاف ٹوٹے گا یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مرض کی شدت کے پیشِ نظر اگر معتکف مسجد سے باہر نکلے گا تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ معتکف نے یہ کام چونکہ عذر کی بناء پر کیا ہے اس لیے گناہ تو نہیں ہو گا البتہ صحت یاب ہونے  پر اس کی قضاء لازم ہو گی۔

یہ بات واضح رہے کہ جس دن اعتکاف ٹوٹا ہے صرف اسی دن کی قضاء لازم ہوتی ہے، پورے عشرے کی قضاء لازم نہیں ہوتی۔ قضا  کا طریقہ یہ ہےکہ ایک دن رات  مسجد میں اعتکاف  کیا جائے۔  رمضان میں ہی ممکن ہو تو بہتر ورنہ رمضان کے بعد کسی دن  سورج غروب ہونے سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں چلے جائیں۔ رات کو مسجد میں قیام کریں۔ اگلے دن روزہ رکھیں  اور پھر   غروب آفتاب کے بعد واپس آ جائیں۔  اگر اعتکاف کی قضاء رمضان کے بعد کرنی ہو تو ان پانچ دنوں؛ عید الفطر،عید الاضحیٰ اور عید الاضحیٰ کے بعد تین دن، کے علاوہ کسی اور دن قضاء کی جائے کیونکہ ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہوتا جبکہ اعتکاف میں روزہ رکھنا لازم ہے۔

ہاں اگر یہ ممکن ہو تو ڈاکٹر صاحب مسجد میں آ کر ہی اس مریض کو ڈرپ لگا دیں اور دوائی دے دیں تو بہتر ہو گا۔ علاج بھی ہو جائے گا اور اعتکاف بھی نہیں ٹوٹے گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved