• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نابالغ کی تلاوت سے بالغ پر سجدہ تلاوت واجب ہونے کی وجہ

استفتاء

مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ نابالغ بچے پر شریعت کے احکام واجب و فرض نہیں تو جب وہ آیتِ سجدہ پڑھتا ہے تو اس پر سجدۂ واجب نہیں ہوتا اور سننے والا بالغ ہو تو اس پر سجدہ واجب ہوتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سجدۂ تلاوت کے واجب ہونے کے لئے بنیادی طور پر دو باتیں ملحوظ رہنی چاہییں:

[۱]:          آیتِ سجدہ کی تلاوت کوئی سمجھ دار انسان کرے۔ چنانچہ اگر کسی ایسے بچے نے تلاوت کی جو سمجھدار نہیں یا آیتِ سجدہ کو ریکارڈ شدہ تلاوت کے ذریعے سنا گیا یا آیتِ سجدہ کسی پرندے، صدائے بازگشت   (جب انسان کسی پہاڑ یا صحرا میں آواز لگائے تو اس کی آواز پلٹ کر واپس سنائی دیتی ہے۔ اسے ”صدائے بازگشت“ اور ”گونج“  کہتے ہیں۔) یا مجنوں سے سنی ہو تو اس سے سجدۂ تلاوت واجب نہ ہو گا۔

[۲]:          سجدہ ؛ نماز کے اجزاء میں سے ایک اہم جزء ہے۔ جس طرح نماز کے واجب ہونے کے لیے نماز کی اہلیت کا پایا جانا ضروری ہے اسی طرح جزءِ صلاۃ ؛ سجدہ کے وجوب کے لیے بھی اہلیت کا پایا جانا ضروری ہے۔ نماز کے لیے مسلمان کا عاقل، بالغ اور پاک ہونا ضروری ہے اسی طرح سجدۂ تلاوت کے وجوب کے لیے بھی یہ شرائط ضروری ہیں۔ اگر کوئی نابالغ  لڑکا آیتِ سجدہ سنے تو اس پر سجدۂ تلاوت واجب نہ ہو گا۔

ان دو امور کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ سمجھدار بچے کی تلاوت سجدۂ تلاوت واجب ہونے میں تو معتبر ہے لیکن یہ بچہ چونکہ مکلف نہیں اس لیے خود اس پر سجدۂ تلاوت واجب نہ ہو گا۔ جہاں تک بالغ شخص کا تعلق ہے تو اس کے حق میں سجدۂ تلاوت کے وجوب کا سبب آیتِ سجدہ کا سماع ہے۔ جب اس نے آیت کو سن لیا (اگرچہ کسی نابالغ ہی سے سنا ہو)تو چونکہ یہ شخص مکلف ہے اس لیے اس پر سجدۂ تلاوت واجب ہو جائے گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved