• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فطرانہ کا مصرف

استفتاء

حضرت! آپ سے ایک مسئلہ  پوچھنا تھا کہ فطرانہ کس شخص کو دیا جا سکتا ہے؟  اس کے کوئی شرائط ہیں تو آگاہ فرما دیں کہ کس شخص کو دینا جائز ہے اور کس کو نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

الحمد للہ! بندہ خیریت سے ہے۔ درج ذیل تفصیل ملاحظہ ہو۔ اس سے واضح ہو جائے گا فطرانہ کن لوگوں کو دینا جائز ہے اور کن کو دینا نا جائز؟

[1]:    اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا (87.48 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.36 گرام)  یا سونے یا چاندی کی مذکورہ مقدار نہ ہو یا ہو لیکن اس مذکورہ مقدار سے کم ہو تو اب دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی ملکیت میں یہ پانچ چیزیں  سونا ، چاندی ، نقدی ، مالِ تجارت گھر کا زائد از ضرورت سامان  موجود ہوں یا ان میں سے بعض موجود ہوں اور ان کی مجموعی قیمت  ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ں تو اس شخص کو فطرانہ دینا جائز نہیں! ہاں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو ایسے شخص کو فطرانہ دینا جائز ہے۔

فائدہ:   زائد از ضرورت سامان سے مراد وہ سامان ہے جس کے بغیر انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں۔ اس تعریف کی رو سے کھانے پینے کا سامان، رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے اور زیورات، گھریلو ضروری اشیاء (مثلاً سلائی اور دھلائی کی مشین، فریج، کھانا پکانے کے برتن وغیرہ)، تاجروں اور مزدور طبقہ کے آلاتِ صنعت و حرفت (مثلاً مشینری، فرنیچر وغیرہ) ضرورت کا سامان کہلائے گا، اور ایسا سامان، برتن اور کپڑے وغیرہ جو بنیادی ضرورت و حاجت کے نہ ہوں اور سال بھر میں ایک بار بھی استعمال نہ ہوتے ہوں تو وہ زائد از ضرورت سامان شمار ہوں گے۔

[2]:    فطرانہ اپنے اصول (ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی) اور فروع (بیٹا بیٹی، پوتا پوتی اور نواسا نواسی) کو دینا جائز نہیں ہے۔

[3]:    بیوی ؛ شوہر کو اور شوہر ؛ بیوی کو فطرانہ نہیں دے سکتا ۔

[4]:    بھابھی،  بھائی، بھتیجا، بہن اگر وہ نصاب کے مالک نہیں اور مستحق بھی ہیں  اور ان کا کھانا  پینا الگ ہو تو ان سب کو فطرانہ دینا جائز ہے۔

[5]:    سادات  کو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ  (فطرانہ وغیرہ) دینا جائز نہیں ہے۔  سادات سے مراد خاندانِ بنو ہاشم ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو  حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ،  حضرت عباس رضی اللہ عنہ،  حضرت جعفر رضی اللہ عنہ، حضرت عقیل رضی اللہ عنہ  اور  حضرت حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی اولاد اور ان کے نسب سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس لیے ان کی مدد زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ دیگر صدقات سے کی جائے۔

[6]:    اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک بنی ہاشم سے ہو اور دوسرا غیر بنی ہاشم سے ہو تو جو غیر بنی ہاشم سے ہو اس کو فطرانہ کی رقم  دی جا سکتی ہے۔ اگر باپ بنی ہاشم سے ہو تو اس کی اولاد بھی بنی ہاشم سے شمار ہو گی۔ اگر باپ غیر بنی ہاشم سے ہو، بیوی بنی ہاشم سے ہو تو اولاد غیر بنی ہاشم شمار ہوگی کیونکہ نسب میں باپ کا اعتبار ہوتا ہے، ماں کا نہیں۔

[7]:    اگر استاذ غریب ہے  اور نصاب کا مالک نہیں تو شاگرد کے لیے استاذ کو فطرانہ دینا جائز بلکہ مستحق استاذ کو فطرانہ دینے کا ثواب زیادہ ملے گا ۔

[8]:    مسجد میں فطرانہ کی رقم نہیں دے سکتے۔

[9]:    مستحق ملازمین کو بطور تنخواہ فطرانہ کی رقم دینا جائز نہیں۔ ہاں تنخواہ کے عنوان کے علاوہ  انہیں فطرانہ کی رقم دی جا سکتی ہے۔

[10]:  ایسی NGO’s اور ادارے جو شرعی حدود کا لحاظ نہیں کرتے، انہیں بھی فطرانہ دینا جائز نہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved