- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
صدقہ فطر میں اجناس نکالنا تو واضح ہے اور اس کے وزن کی قیمت کے مطابق پیسے نکالنے کے سلسلے میں رہنمائی فرما دیجیے کہ قیمت کیوں نکالتے ہیں اور اس کو پیسے میں ادا کیوں کرتے ہیں؟ اور کیا اس کی قیمت کے مطابق کسی اور ضرورت کی چیز سے بھی ادا کر سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: صدقہ فطر کی ادائیگی میں جہاں ان چار اجناس؛ کھجور، جَو، کشمش اور گندم کا ذکر ملتا ہے وہیں خیر القرون میں ان اجناس کی قیمت کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس لیے جس طرح مذکورہ اجناس سے صدقہ فطر ادا ہو جاتا ہے اسی طرح ان کی قیمت دینے سے بھی ادا ہو جاتا ہے۔
نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ صدقہ فطر کی ادائیگی کا اصل مقصد فقراء کی امداد کرنا ہے۔ امداد جس طرح ان چار اجناس سے ہوتی ہے اسی طرح ان کی قیمت سے بھی ہو جاتی ہے بلکہ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو قیمت کی ادائیگی سے ان کی ضروریات کامل طریقے سے پوری ہوتی ہیں کہ وہ ضرورت کی جو چیز خریدنا چاہیں خرید سکیں گے۔ اس لیے اجناس کے بجائے قیمت دینے سے بھی ادائیگی ہو جاتی ہے اور بہترین طریقے سے ہوتی ہے۔
چند آثار ملاحظہ ہوں:
1: حضرت زہیر بن معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
أَدْرَكْتُهُمْ وَهُمْ يُعْطُونَ فِي صَدَقَةِ رَمَضَانَ ، الدَّرَاهِمَ بِقِيمَةِ الطَّعَامِ.
(مصنف ابن ابی شیبۃ: رقم الحدیث 10472)
ترجمہ: میں نے صدقہ رمضان (یعنی صدقہ فطر) کی ادائیگی میں لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ) کو کھانے کی قیمت ادا کرتے ہوئے پایا ہے۔
2: حضرت وکیع نے امام قرہ بن خالد رحمہما اللہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ : نِصْفُ صَاعٍ عَنْ كُلِّ إنْسَانٍ ، أَوْ قِيمَتُهُ نِصْفُ دِرْهَمٍ.
(مصنف ابن ابی شیبۃ: رقم الحدیث 10470)
ترجمہ: ہمارے پاس خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی تحریر پہنچی جو صدقہ فطر کے بارے میں تھی کہ ہر انسان کی طرف سے آدھا صاع (گندم) ہے یا ا س کی قیمت ادا کرنا ہے۔
3: حضرت ہشام سے روایت ہے کہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:
لَا بَأْسَ أَنْ تُعْطِيَ الدَّرَاهِمَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ.
(مصنف ابن ابی شیبۃ: رقم الحدیث 10471)
ترجمہ: اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آپ صدقہ فطر کی ادائیگی درہم سے کریں (یعنی اجناس دینے کے بجائے ان کی قیمت دیں)۔
4: علامہ علاء الدین ابو بكر بن مسعود بن احمد الکاسانی الحنفی (ت587ھ) لکھتے ہیں:
وَلَنَا أَنَّ الْوَاجِبَ فِي الْحَقِيقَةِ إغْنَاءُ الْفَقِيرِ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “أَغْنُوهُمْ عَنْ الْمَسْأَلَةِ فِي مِثْلِ هٰذَا الْيَوْمِ” ، وَالْإِغْنَاءُ يَحْصُلُ بِالْقِيمَةِ بَلْ أَتَمَّ وَأَوْفَرَ؛ لِأَنَّهَا أَقْرَبُ إلٰى دَفْعِ الْحَاجَةِ وَبِهِ تَبَيَّنَ أَنَّ النَّصَّ مَعْلُولٌ بِالْإِغْنَاءِ وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي تَجْوِيزِ الْقِيمَةِ يُعْتَبَرُ حُكْمُ النَّصِّ فِي الْحَقِيقَةِ.
(بدائع الصنائع للکاسانی: ج 2 ص 273)
ترجمہ: ہمارے موقف (کہ صدقۃ الفطر میں اجناس کے بجائے قیمت دینا بھی جائز ہے) کی دلیل یہ ہے کہ صدقہ فطر کے وجوب کی بنیاد فقیر کی معاونت کرنا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ان جیسے دنوں میں فقراء کو سوال کرنے سے بے نیاز کر دو! فقراء کو سوال کرنے سے بے نیاز کرنا ان اجناس کی قیمت سے بھی ہو جاتا ہے بلکہ قیمت دینے میں ان کا استغناء زیادہ کامل طریقے سے ہوتا ہے کیونکہ جب ان کے پاس رقم ہو تو ان کی ضروریات اچھے طریقے سے پوری ہو جاتی ہیں۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حدیث میں چند اجناس کا ذکر ہے تو ان سے مقصود فقراء کی امداد کرنا ہے، بعینہ یہی اجناس دینا مقصود ولازم نہیں۔
[۲]: صدقہ فطر اگر ان چار اجناس کے علاوہ کسی اور جنس سے دینا چاہیں تو ان چار اجناس میں سے کسی جنس کی قیمت کا اعتبار کر کے اس قیمت کے بقدر دوسری جنس دی جائے تو بھی صدقہ فطر ادا ہو جائے گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved