- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
زکوٰۃ کے حوالے سے دو سوالوں کے جواب مطلوب ہیں:
۱: ایک شخص نے ایک اپارٹمنٹ قسطوں پر خریدا ہے۔ اس کی نیت یہ ہے کہ جب یہ اپارٹمنٹ میرے قبضہ میں آ جائے گا تو میں اسے رینٹ پر دوں گا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ جب یہ اپارٹمنٹ اس کے قبضہ میں آئے گا تو اس کے رینٹ پر ہی زکوٰۃ واجب ہو گی کیونکہ اس کی نیت اپارٹمنٹ کو فروخت کرنے کی نہیں بلکہ اسے کرایہ پر دینے کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تک یہ اپارٹمنٹ اس کے حوالے نہیں ہوتا اور یہ اس کی قسطیں ادا کر رہا ہے (مثلاً اپارٹمنٹ ایک کروڑ کا ہے اور اس نے 20 لاکھ اس کی قسط ادا کی ہے) تو ان ادا شدہ قسطوں پر زکوٰۃ ہو گی یا نہیں؟
۲: ایک شخص نے اپنے بچوں کے نام پر پلاٹ خریدے ہیں کہ ایک پلاٹ بیٹے کو اور دوسرا بیٹی کو دوں گا۔ اگر یہ پلاٹ قسطوں پر لیے ہوں یا نقد لیے ہوں تو دونوں صورتوں میں زکوٰۃ کا کیا حکم ہو گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: قسطوں پر خریدی جانے والی چیز کا جب معاہدہ مکمل ہو جائے تو وہ چیز خریدار کی ملکیت میں آ جاتی ہے چاہے قسطیں مکمل ادا کی ہوں یا نہ کی ہوں۔ اس لئے اس شخص نے جو قسطیں ادا کی ہیں وہ اس اپارٹمنٹ کا عوض ہیں، ان قسطوں کا حکم ڈیپازٹ کا نہیں ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب عوض دے کر کوئی چیز خریدی جائے تو اس عوض پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ لہذا اس شخص نے جو قسطیں ادا کی ہے ان پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
[۲]: اس بارے میں یہ دیکھ لیا جائے کہ اگر اس شخص کی نیت یہ تھی کہ بعینہ یہی پلاٹ بیٹے اور بیٹی کو دوں گا تب تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ اگر نیت یہ تھی کہ ان پلاٹس کو بیچ کر بچوں کی ضروریات میں لگاؤں گا تب ان پلاٹس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ نیز اگر دونوں نیتیں ہوں کہ بعینہ یہی پلاٹ دوں گا یا ان کو بیچ کر رقم ان کی ضروریات میں لگاؤں گا یا کسی جانب رجحان نہ ہو تو اب ان پلاٹس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ یہ پلاٹس قسطوں پر لئے جائیں یا نقد لیے جائے دونوں صورتوں کا یہی حکم ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved