- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
(1): ایک شخص نے نماز میں آیتِ سجدۂ تلاوت کی اور قیام سے سیدھا سجدے میں چلا گیا۔ سجدے میں بھول گیا اور یہ سمجھا کہ یہ نماز کا سجدہ ہے اس لیے اس نے دوسرا سجدہ بھی کر لیا۔ دوسرے سجدے کے بعد اسے یاد آیا کہ میں نے تو سجدۂ تلاوت کرنا تھا، اس لیے وہ پھر قیام کے لیے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اس پر سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ اگر سجدۂ سہو واجب ہو اور اس نے نہ کیا ہو تو اب نماز کا کیا حکم ہے؟
(2): ایک شخص نے نماز میں آیتِ سجدہ پڑھی، پھر سجدۂ تلاوت کیا۔ سجدے کے بعد قیام کے لئے کھڑا ہوا تو قیام میں بھول کر سورۃ الفاتحہ اور اس کے بعد ایک سورت بھی پڑھ لی۔ اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟ آیا اس پر سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ اگر سجدۂ سہو واجب ہو اور اس نے نہ کیا ہو تو اب نماز کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سجدۂ سہو کے متعلق قاعدہ سمجھ لیجئے کہ اگر نماز کے فرائض میں تقدیم و تاخیر ہو جائے یا فرض میں اضافہ ہوجائے جیسے دو سجدوں کے بجائے تین سجدے کر لیے یا واجبات میں تقدیم و تاخیر ہو جائے یا کوئی واجب رہ جائے یا کسی واجب میں اضافہ ہوجائے تو ان تمام صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔ نیز اگر نماز میں کسی وجہ سے سجدۂ سہو واجب تھا لیکن نماز میں اسے ادا نہیں کیا، بعد میں یاد آیا تو وقت کے اندر اندر اس نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔ اگر وقت گزر جائے تو اب اس نماز کا اعادہ مستحب ہے، واجب اور ضروری نہیں۔
اب آپ کے سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں:
(1): اس صورت میں نماز کا ایک سجدہ زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے سجدۂ سہو واجب ہے۔
(2): اس صورت میں واجب (سورت فاتحہ اور بعد والی سورت) میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس لیے اس صورت میں بھی سجدۂ سہو واجب ہے۔
مذکورہ دونوں صورتوں میں وقت کے اندر اندر اعادہ لازم ہے، بعد میں لازم نہیں۔ نیز دونوں صورتوں میں اگر یہ نماز ؛ تراویح کی نماز ہو تو پڑھے ہوئے قرآن مجید کا اعادہ لازم نہیں ہے چاہے نماز ؛ وقت کے اندر لوٹائی جائے یا وقت گزرنے کے بعد بلکہ گزشتہ پڑھا ہوا قرآن کافی سمجھا جائے گا۔
علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی (ت1231ھ) لکھتے ہیں:
وكذا في السهو ان لم يسجد له وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقا آثما … والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره ويندب إعادتها لترك السنة.
(حاشیۃ الطحطای علی مراقی الفلاح: ص165)
ترجمہ: جب نماز میں کوئی سہو پیش آئے اور نمازی سجدہ سہو نہ کر سکے تو یہی حکم ہے (کہ نماز کا اعادہ واجب ہے) اگر کسی نے نماز کا اعادہ نہ کیا یہاں تک کہ نماز کا وقت ختم ہو گیا تو اب اعادہ کرنا ساقط ہو جائے گا لیکن نماز میں یہ کمی باقی رہی، یہ فعل مکروہِ تحریمی رہا اور یہ شخص گناہ گار بھی ہوا… تو صحیح بات یہی ہے کہ واجب چھوڑنے کی وجہ سے نماز کا جو اعادہ کیا جاتا ہے اس کی حیثیت نفل نماز کی ہے جس نے فرض کی کمی کو پورا کرنا ہے کیونکہ فرض تو پہلی پڑھی ہوئی نماز سے ہی ادا ہو گیا تھا اور ایک ہی فرض دو بار نہیں ادا کیا جاتا جیسا کہ در مختار وغیرہ میں مذکور ہے۔ وقت گزرنے کے بعد اعادہ کرنا مستحب ہے کیونکہ یہ نماز مسنون طریقہ سے ادا نہیں ہوئی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved