• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں فدیہ کا حکم

استفتاء

(1):    اگر کوئی شخص ایسا بیمار ہو کہ فی الحال روزہ نہیں رکھ سکتا اور آئندہ کے لیے بھی یہ امید نہیں کہ اس کی بیماری ختم ہو گی اور وہ روزہ رکھ سکے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اتنا بوڑھا ہو کہ اب بھی روزہ نہیں رکھ سکتا اور آئندہ کے لیے بھی یہ امکان نہیں کہ وہ روزہ رکھ پائے گا۔  تو اس بیمار اور بوڑھے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ آیا کہ یہ دونوں فدیہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

(2):    کوئی شخص بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سےفی الحال تو روزہ نہیں رکھ سکتا لیکن آئندہ کے لیے امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا اور ان روزوں کی قضاء رکھ سکے گا۔ تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ یہ بھی فدیہ دے سکتا ہے یا قضاء رکھنا ہی لازم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ترتیب وار جوابات ملاحظہ ہوں:

[۱]:          یہ دونوں اشخاص ان روزوں کا فدیہ دیں گے۔ جب رمضان المبارک شروع ہو جائے تو ہر روزے کا فدیہ ساتھ ساتھ دیتے رہیں یا رمضان کی ابتداء میں پورے مہینے کے روزوں کا فدیہ دے دیں۔ دونوں صورتیں جائز ہیں۔

[۲]:          اس بیمار یا بوڑھے شخص کو چونکہ آئندہ صحت ملنے کی امید ہے اس لیے فی الحال فدیہ دینا جائز نہیں بلکہ قدرت حاصل ہونے پر روزوں کی قضاء کرنا لازم ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved