• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

حاملہ کی طلاق کا حکم

استفتاء

عرض یہ تھی کہ ایک عورت کو طلاق دی گئی ہے جبکہ وہ  عورت 7سے  8   کی حاملہ ہے۔ کیا اسے طلاق ہو گئی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حالت حمل میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾. ( سورۃ الطلاق: 4)

ترجمہ: اور جو عورتیں حاملہ ہوں ان کی (عدت کی) میعاد یہ ہے کہ وہ بچہ جَن لیں۔

طلاق کے مسائل کے ضمن میں حاملہ کی عدت کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حاملہ کو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

امام ابو الحسن علی بن ابی بكر بن عبد الجلیل المرغینانی (ت593ھ) لکھتے ہیں:

وطلاق الحامل يجوز عقیب الجماع. (الہدایۃ:ج2 ص375 کتاب الطلاق. باب طلاق السنۃ)

ترجمہ: حاملہ عورت کو جماع کے بعد  طلاق دی جائے تو واقع ہو جاتی ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved