- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک شخص کے ساتھ مل کر Investment کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ہم یہ Investment زمین میں کرنا چاہ رہے ہیں اور زمین کسی دوسرے ملک میں ہے۔ اس زمین کی قیمت مثلاً ایک لاکھ روپے ہے۔ جس شخص کے ساتھ ہم کام کر رہے ہیں وہ ایک لاکھ روپے ہم سے لے گا اور اس کے بدلے میں سیکیورٹی کے طور پر اتنی مالیت کے مکان یہاں عجمان میں ہمارے نام پر ٹرانسفر کرے گا۔ مکانات کی مالیت طے کرنے میں ہمیں اختیار ہوتا ہے کہ بازار کی قیمت کے اعتبار سے طے کریں یا اس سے کچھ کم طے کریں۔ بہرحال جو مناسب ہو ان مکانات کی مالیت طے کر لیتے ہیں۔جتنی رقم ہم Invest کی ہو گی اتنی مالیت کے مکانات سیکیورٹی کے طور پر ہمارے پاس ہوں گے۔
جو زمین دوسرے ملک میں خریدی گئی ہے اس پر تقریباً اڑھائی سے تین سال لگتے ہیں اور منافع شروع ہو جاتا ہے یعنی زمین بیچ کر نفع حاصل کیا جاتا ہے اور اس رقم سے مزید زمین خریدی جاتی ہے۔ یوں یہ کاروبار چلتا رہتا ہے۔ اب جس شخص نے رقم Invest کی ہو گی اسے یہ لوگ 80 فیصد منافع دیں گے۔ اسی طرح جو مکانات سیکیورٹی کے طور پر ہمارے نام کیے جاتے ہیں ان اڑھائی سے تین سال کے عرصہ کا جو کرایہ وصول ہو گا وہ کرایہ بھی ہمیں دیا جائے گا۔ یہ معاملات باہمی رضا مندی سے طے پاتے ہیں کہ Invest کی گئی اس رقم کے عوض آپ کو 80 فیصد نفع بھی ملے گا اور ان مکانات کا کرایہ بھی ملے گا۔
اب اگر یہ کام نہیں چلتا تو پھر ہمیں اختیار ہو گا کہ ہم نے جو رقم انویسٹ کی ہے اس کے بجائے مکانات لے لیں جو کہ بطور سیکیورٹی ہمارے نام کیے گئے تھے۔ مکانات کی قیمت اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کو دیکھ کر طے کی جائے گی۔
اس تمام تر صورتحال میں ہم نفع میں تو 80 فیصد شریک ہوں گے لیکن نقصان میں ہماری کوئی شراکت نہیں ہو گی بلکہ ہمارا نفع ہی نفع ہے۔ ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم سیکیورٹی کے طور پر جو مکان آپ کو دیں گے اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ آپ نے زمین نہیں دیکھی بلکہ ہمارے بھروسہ پر ہی آپ رقم لگا رہے ہیں تو یہ مکانات بطور اعتماد کے آپ کے پاس رہیں گے تاکہ آپ اطمینان سے رقم Invest کر سکیں اور کاروبار ناکام ہونے کی صورت میں اپنی رقم کی تلافی ان مکانات سے کریں۔
کاروبار کی مذکورہ صورت شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
Investment کی یہ صورت جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ باہمی رضامندی سے آپ نے جو نفع طے کیا ہے کہ کل منافع کا 80 فیصد آپ کا اور 20 فیصد دوسرے فریق کا ہو گا تو اس حد تک تو جائز ہے لیکن نقصان ہو جانے کی صورت میں آپ کچھ نقصان بھی نہیں اٹھا رہے تو یہ شق نا جائز ہے ۔
صحیح صورت یہ ہے کہ کام کرنے والا دوسرا شخص اگر صرف کام کر رہا ہو اور اس نے سرمایہ کچھ بھی نہ لگایا ہو تو نفع کا کوئی فیصد حصہ دونوں فریق کے لیے متعین کیا جائے جیسے آپ کے لیے 80 فیصد اور دوسرے فریق کے لئے 20 فیصد کا تناسب مقرر ہوا ہے۔ اسی طرح یہ بھی طے کیا جائے کہ نقصان ہونے کی صورت میں تمام تر نقصان سرمایہ لگانے والے کا ہو گا کیونکہ نقصان ہمیشہ سرمایے کے تناسب سے شرکاء کے ذمہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں چونکہ کام کرنے والے نے سرمایہ نہیں لگایا اس لیے نقصان اس کے ذمہ نہیں ڈالا جائے گا بشرطیکہ نقصان اس کی کوتاہی کی وجہ سے نہ ہوا ہو۔ نیز اگر صورت حال یہ ہو کہ کام کرنے والا دوسرا شخص کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا بھی کچھ سرمایہ اس کاروبار میں لگاتا ہے تو نفع کے بارے میں کوئی تناسب آپس میں طے کر لیا جائے اور نقصان ہونے کی صورت میں دونوں فریق اپنے اپنے سرمایہ کے بقدر نقصان برداشت کریں گے۔ مثلاً آپ نے ایک لاکھ روپے لگائے اور دوسرے فریق نے بھی ایک لاکھ روپے لگائے تو نقصان ہو جانے کی صورت میں دونوں فریق پچاس پچاس فیصد نقصان اٹھانے کے ذمہ دار ہوں گے۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کام کرنے والا شخص جو مکانات سیکیورٹی کے طور پر دے رہا ہے اور کام کے اس عرصہ کے دوران ان سے آنے والا کرایہ بھی دینے کا کہہ رہا ہے تو یہ معاملہ درست نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ فریقِ اول جو سرمایہ ؛ شراکت یا مضاربت (”شراکت“ کا معنی ہے کہ دونوں فریق نے سرمایہ لگا کر کاروباری کیا ہو اور ”مضاربت“ کا معنی ہے کہ ایک فریق کا سرمایہ ہو اور دوسرے کی محنت ہو۔) کی صورت میں فریقِ ثانی کو دیتا ہے تو یہ رقم دوسرے فریق کے پاس امانت ہوتی ہے۔ شرعاً امانت کے بدلے میں رہن یعنی سیکیورٹی نہیں ہوتی بلکہ سیکیورٹی؛ دینِ مضمون (”دینِ مضمون“ کو سمجھنے کے لیے یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ زید نے عمرو سے 5000 روپے کی گھڑی خریدی۔ عمرو کے ذمہ زید کو 5000 روپے دینا لازم ہے۔ یہ ”دین مضمون“ ہے جو کسی خرید وفروخت کی وجہ سے عمرو کے ذمہ واجب ہوا ہے۔ عمرو کے پاس 5000 روپے نہیں تھے تو اس نے اپنی بکری زید کے حوالے کی کہ جب میں 5000 روپے دوں گا تو اس وقت یہ بکری واپس لوں گا۔ یہ بکری بطورِ سیکیورٹی دینا اس صورت میں دینا جائز ہے کیونکہ یہ دینِ مضمون کے بدلے میں ہے۔) کے بدلے میں ہوتی ہے۔ اس لیے سیکیورٹی کے طور پر مکانات یا کوئی اور چیز لینا دینا جائز نہیں۔ نیز اس میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ رہن اور سیکیورٹی کے طور پر جو چیز رکھی جاتی ہے اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہوتا اور اس معاملے میں سیکیورٹی کے طور پر رکھے گئے ان مکانات سے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ یوں اس معاملہ میں خرابی در خرابی لازم آ رہی ہے۔
اس لیے اگر آپ کو فریقِ ثانی پر اعتماد ہے تو رقم اسے دیں اور اس پر گواہ قائم کر لیں یا کوئی اشٹام وغیرہ ثبوت کے طور پر لکھوا لیں۔ اگر اعتماد نہ ہو تو ان سے معاملہ کرنے سے احتراز کریں۔ اس معاملہ میں سیکیورٹی کے طور پر مکانات لینا درست نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved