- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
بعض عاملین تعویذ اور دم کر کے اپنے مریضوں سے پیسے مانگتے ہیں۔ اگر مریض دور ہو تو ان سے کہتے ہیں کہ اپنی تصویر بھیجو۔ عاملین حضرات اس کام کو اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یہ لوگ جنات کو مسخر کر کے اپنے کام کے فائدے کے لئے ان سے استعانت بھی كرتے ہیں۔ مثلاً جادو کو ختم کرنا، چور كو پکڑنا يا دیگر كام کرنا۔ اب جو شخص مصیبت زدہ ہو، پریشان حال ہو یا بیمار ہو تو اس کے لیے ان عاملین سے علاج کروانا شرعاً جائز ہے يا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: تعویذ اور دَم پر اجرت لینا جائز ہے۔
[۲]: جس طرح سامنے بیٹھے ہوئے آدمی پر اپنے عمل کے ذریعے اثرات معلوم کرنا درست ہے اسی طرح عاملین کا یہ طرز بھی درست معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی تصویر پر غور کر کے اثرات ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کریں۔تصویر کے ذریعے اثرات کا معلوم ہو جانا ایک واقعی امر ہے۔ تاریخ میں کئی اطباء ایسے گزرے ہیں جو تصویر کے خدوخال اور اطراف و جوانب سے مریض کے مرض اور اس کی نوعیت معلوم کر لیتے تھے۔ لہذا یہ چیز موجب اشکال نہیں۔
[۳]: جنات کو مسخر کر کے ان سے کام لینے کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے۔ اسی کے مطابق فیصلہ کر لیا جائے کہ ایسے عاملوں کے پاس علاج کی غرض سے جانا جائز ہے یا نہیں؟
1: اگر جنات اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی شخصیت کے لئے مسخر ہو جائیں اور اس کے تابع بن جائیں تو اس شخصیت کے لئے جنات سے کام لینا جائز ہے۔ نبی کے لیے یہ بطورِ معجزہ اور کسی ولی کے لیے بطورِ کرامت تابع ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جنات جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی کے تابع ہوتے ہیں تو نبی یا ولی ان سے ناجائز نہیں بلکہ جائز کام لیتے ہیں۔ یہ درست ہے۔
2: اگر جنات من جانب اللہ تابع نہ ہوں بلکہ عملیات کے ذریعے ان کو تابع کیا جاتا ہو تو اس میں دیکھا جائے گا کہ …..
۱: جنات کو تابع کرنے کا یہ عمل اگر کفریہ کلمات یا کفریہ افعال پر مشتمل ہو تو یہ عمل کفر ہے اور اس طرح تابع کرنا بھی نا جائز اور حرام ہے۔
۲: جنات کو تابع کرنے کا یہ عمل اگر محض معصیت اور گناہ پر مشتمل ہو تب بھی نا جائز اور حرام ہے۔
۳: اگر یہ عمل قرآن کریم کی آیات، اللہ تعالیٰ کے مبارک ناموں یا ایسے کلمات کے ذریعے کیا جاتا ہو جن کا معنی صحیح ہے تو ان کو تابع کرنا جائز ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس سے مقصود جنات کی ایذاء وتکلیف سے بچنا اور دوسروں کو بچانا ہو۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور مقصد ہو مثلاً جنات سے اپنی اغراض کا کام لینا ہو تو پھر جائز نہیں۔
اس تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ
1: اگر عامل نے کفریہ کلمات کہہ کر جنات کو تابع کیا ہو (جیسے غیر اللہ کو خدا کا شریک ٹھہرایا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر کے جنات کو خوش کیا ہو) یا کفریہ کام کیا ہو (جیسے قرآن مجید کو نجاست کے ساتھ لکھا ہو یا قرآن مجید کو نجاست میں ڈال کر جنات کو خوش کیا ہو) یا محض گناہ کا کوئی کام کیا ہو (جیسے زنا کیا، چوری کیا، نماز ترک کی) تو ایسے عامل کے پاس جانا جائز نہیں۔
2: اس عامل نے جائز کلمات اور اعمال کے ذریعے جنات کو تابع کیا ہو تو اس کے پاس جنات کی تکلیف سے بچنے کے لیے جانا جائز ہے۔ مثلاً کسی شخص کو جنات تنگ کرتے ہوں یا اس پر جادو کیا ہوا ہو جو عام طور پر جنات ہی سے کروایا جاتا ہے تو ایسے عامل کے پاس جا کر علاج کروانا جائز ہے۔
3: اگر عامل نے جائز کلمات اور اعمال کے ذریعے جنات کو تابع کیا ہو لیکن کام ان سے اپنا لیتا ہو یا دوسروں کے کام کرتا ہو مثلاً چوری درآمد کروانا، دوسروں کے احوال معلوم کروانا وغیرہ تو ایسے عامل کے پاس بھی جانا جائز نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved