• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

تفسیر ابن کثیر کے مترجم کا نام

استفتاء

”تفسیر ابن  کثیر“ کا جو اردو ترجمہ آج کل میسر ہے اس کے مترجم کا نام کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری معلومات کے مطابق تفسیر ابن کثیر کا جو اردو ترجمہ آج کل مارکیٹ میں موجود ہے  یہ محمد جونا گڑھی صاحب کا ہے۔ موصوف کا تعلق فرقہ اہلحدیث سے تھا۔ تفسیر کے مولف حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی رحمہ اللہ (متوفیٰ774ھ) چونکہ مسلکاً شافعی تھے اس لیے انہوں نے  مسائل واحکام اپنے مسلک کے مطابق لکھے ہیں اور اسی نقطہ نظر سے دلائل بھی ذکر کیے ہیں۔ مترجم موصوف (محمد جونا گڑھی صاحب)ترجمہ کرتے وقت  اگر حنفی موقف اور  مستدلات کو بھی ذکر کر دیتے تو حنفی قاری اس کے مطالعہ کے وقت تشویش میں مبتلا نہ ہوتے۔ اس لیے بغیر کسی مستند حواشی ووضاحت کے موصوف کا ترجمہ دیکھنا مضر ہے۔ دار الافتاء دار العلوم دیوبند  نے اس ترجمہ اور مترجم کے متعلق  تحریر کیا ہے:

”مولانا محمد جونا گڑھی غیرمقلد ہے، عام آدمی کو اس کا ترجمہ تفسیر ابن کثیر پڑھنے سے احتراز کرنا چاہیے۔“  (فتوی(م): 375=375-3/1433 ویب سائٹ)

امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ (متوفیٰ 1352ھ) کے فرزند حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری رحمہ اللہ (متوفیٰ 1429ھ) نے ان مقامات پر جامع ومفید حواشی تحریر فرمائے ہیں اور مسلک احناف کی عمدہ وضاحت فرمائی ہے۔ تفسیر ابن کثیر کا یہ ترجمہ مکتبہ فیض القرآن دیوبند  سے پانچ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔ ان حواشی سے اگر اس ترجمہ کا مطالعہ کیا جائے تو  بلاشبہ درست ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved