• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

جمعہ کی مبارک باد دینے کا حکم

استفتاء

اللہ رب العزت آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔ آمین

حضرت! ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ آج کل اسلامی معاشرے میں جمعہ کے دن لوگ ایک دوسرے کو ”جمعہ مبارک“ کہتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ جمعہ مبارک کہنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ

کیا ”جمعہ مبارک“ کہنا جائز ہے ؟

اور جمعہ مبارک کہنے کو بدعت کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟

اور کیا یہ عمل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں تھا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ جمعہ کے دن کو ”جمعۃ المبارک“ کہنا یا لکھنا محض کہنے اور لکھنے کی حد تک تو درست تھا کیونکہ اس میں خیر و برکت کا وجود ہے  البتہ آج کل جس طرح اس کی مبارکباد دینے کا رواج چل پڑا ہے اس سے سخت خطرہ ہے کہ آئندہ چل کر یہ مستقل رسم کی صورت نہ اختیار کر لے۔  اس لیے مبارکباد (چاہے وہ  میسج یا پوسٹ یا ای میل کی صورت میں ہو یا کسی بھی اور طریقہ سے ہو) دینے سے احتراز کرنا چاہیے۔

ہماری معلومات کے مطابق فی الوقت لوگ اسے ”مستحب“ نہیں سمجھ رہے لیکن آئندہ چل کر اگر ایسی صورتحال پیدا ہو کہ لوگ اسے ”مستحب“ ہی سمجھنے لگیں تو اس وقت اس عمل کو ”بدعت“ ضرور کہا جائے گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں یہ عمل نہیں تھا، اس لیے اگر سائل کے علاقہ میں اس عمل کو واقعتاً ”مستحب“ سمجھا جا رہا ہے تو اسے بدعت کہا جائے گا اور  اس سے احتراز کرنے کا حکم دیا جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved