- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ اگر کوئی شخص پیسے محفوظ کرنے کی غرض سے پرائز بانڈ لے لے اور بوقتِ ضرورت فروخت کر دے تو کیا یہ جائز ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پرائز بانڈ کی خرید و فروخت میں دو ممنوع امور پائے جاتے ہیں؛ ۱… سود اور ۲…جوا
اور یہ دونوں چیزیں حرام ہیں اس لیے پرائز بانڈ کی خرید و فروخت بھی حرام اور ناجائز ہے چاہے جس مقصد کے لیے بھی اس کی خرید و فروخت کی جائے۔ اس میں سود اور جوا پائے جانے کی تفصیل یوں ہے کہ
- پرائز بانڈ خریدنے کے لئے جو رقم دی جاتی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہے۔ اب معاہدہ کے پیشِ نظر اس رقم پر اضافی رقم کا ملنا کبھی یقینی ہوتا ہے اور کبھی اضافی رقم ملنے کا احتمال ہوتا ہے۔ ایسا معاملہ ”سود“ ہے جو قرآن و سنت کی رو سے حرام ہے۔
- پرائز بانڈ کی خریداری میں یہ بات بھی ملحوظ ہوتی ہے کہ قرعہ اندازی میں ہمارا نام نکلے اور انعامی رقم لے۔ ایسا معاملہ جس میں کسی چیز کے ملنے یا نہ ملنے کا احتمال ہو تو یہ صورتحال Risk (علی سبیل الخطر) ہے اور یہی جوا ہے۔
ان دو وجوہات کی بناء پر پرائز بانڈ کی خرید و فروخت نا جائز ہے۔ اس لیے اپنی رقم پرائز بانڈ کے علاوہ کسی اور جائز ذریعے سے محفوظ بنائی جائے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved