• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

تراویح کی نماز فاسد ہو جائے اور دوسرے دن معلوم ہو تو اب کیا حکم ہے؟

استفتاء

حضرت! تراویح کی نماز کے متعلق ایک مسئلہ کی تحقیق مطلوب ہے۔ اگر تراویح کی نماز میں امام صاحب سے کوئی ایسی غلطی ہو جائے جس سے نماز فاسد ہو جائے اور اس وقت پتا نہ چلے، بعد میں دوسرے دن احساس ہو کہ نماز فاسد ہو چکی  تھی تو کیا اس نماز کو دو بارہ لوٹانا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر لوٹانا ہے تو  با جماعت لوٹانا ہے یا بغیر جماعت کے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]:    تراویح کی نماز کسی وجہ سے فاسد ہو جائے اور طلوعِ فجر  سے پہلے پہلے معلوم ہو جائے تو اس کی قضاء کرنا ضروری ہے۔ اگر طلوعِ فجر   کے بعد معلوم ہو تو اب حکم یہ ہے کہ جتنی رکعات فاسد ہوئی تھیں اتنی رکعات پڑھنا لازم ہے۔ واضح رہے کہ ان رکعات کی حیثیت نفل کی ہو گی، تراویح کی نہیں کیونکہ بتصریحِ فقہاء تراویح کی قضاء نہیں ہوتی، اور  نفل نماز کا قاعدہ یہ ہے کہ اسے انفراداً ادا کیاجاتا ہے اس لیے فاسد ہونے والی یہ رکعات بھی انفراداً   ادا کی جائیں، جماعت کے ساتھ نہیں!

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

وَإِذَا تَذَكَّرُوا أَنَّهُ فَسَدَ عَلَيْهِمْ شَفْعٌ مِنَ اللَّيْلَةِ الْمَاضِيَةِ فَأَرَادُوا الْقَضَاءَ بِنِيَّةِ التَّرَاوِيحِ يُكْرَهُ.

                                                   (فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص117)

ترجمہ: اگر نمازیوں کو یاد آیا کہ پچھلی رات کی دو رکعات تراویح فاسد ہوئی  ہے اور وہ (اگلے دن) تراویح  کی نیت سے اس کی قضاء کرنا چاہیں تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:

( فَإِنْ قَضَاهَا كَانَتْ نَفْلًا مُسْتَحَبًّا وَلَيْسَ بِتَرَاویْحٍ ) كَسُنَّةِ مَغْرِبٍ وَعِشَاءٍ.

(الدر المختار مع رد المحتار: ج2 ص598 مبحث صلاۃ التراویح)

ترجمہ: اگر کسی نے تراویح کی قضا کی تو یہ نفل اور مستحب شمار ہو گی، یہ تراویح شمار نہیں ہو گی جیسے مغرب اور عشاء کی سنتیں ہیں۔

[۲]:    تراویح کی جتنی رکعات فاسد  ہوئی ہیں ان میں جو قرآن کریم پڑھا گیا ہے اس کا اعادہ آئندہ دن کی تراویح میں کر لیا جائے تاکہ  ختم قرآن میں کوئی کم باقی نہ رہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

وَإِذَا فَسَدَ الشَّفْعُ وَقَدْ قَرَأَ فِيْهِ لَا يَعْتَدُّ بِمَا قَرَأَ فِيْهِ وَيُعِيدُ الْقِرَاءَةَ لِيَحْصُلَ لَهُ الْخَتْمُ فِي الصَّلَاةِ الْجَائِزَةِ.

(فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص118)

ترجمہ: اگر  نماز تراویح  کا شفع (یعنی دو رکعات) فاسد ہو گئیں تو ان میں پڑھا ہوا قرآن شمار نہیں ہو گا۔ اس لیے امام صاحب کو چاہیے کہ جتنا قرآن کریم ان رکعتوں میں پڑھا ہے اس کا  اعادہ کر لیں تاکہ  درست نماز میں ان کا ایک ختم قرآن مکمل ہو جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved