• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بلیڈ سے مونچھیں صاف کرنے کا حکم

استفتاء

حضرت! سوال یہ ہے کہ بلیڈ سے مونچھیں صاف کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مونچھوں کو بلیڈ کے ساتھ صاف کرنا جائز تو ہے لیکن بہتر نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ انہیں قینچی سے اس قدر چھوٹا کر دیا جائے کہ مونڈنے کے قریب ہو جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مونچھوں کے متعلق درج ذیل روایات منقول ہیں:

(1):    عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ وَفِّرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ.”

(صحیح البخاری: رقم الحدیث 5892)

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور  مونچھیں کاٹ کر باریک کرو!

(2):    عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “انْهَكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحٰى.”

(صحیح البخاری: رقم الحدیث 5893)

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  مونچھیں تراشو اور  داڑھی بڑھاؤ!

(3):    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحٰى خَالِفُوا الْمَجُوسَ.”

(صحیح مسلم: رقم  الحدیث 260)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مونچھیں تراشو اور داڑھی کو  بڑھاؤ ، اس طرح آتش پرستوں کی مخالفت کرو۔

ان روایات میں احفاء،  انهاک اور جز  کے الفاظ سے جو تراشنا اور پست کرنا معلوم ہوتا ہے اس کا مفہوم یہی ہے کہ مونچھوں کو قینچی سے  چھوٹا کیا جائے۔  البتہ بعض آثار میں مونچھوں کونڈنا منقول ہے۔

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ  قَالَ: خَرَجَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَوْمًا وَقَدْ حَلَقَ شَارِبَهٗ.

(التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ: ج1 ص267 رقم932)

ترجمہ: عبید اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک دن امام سفیان بن عیینہ  باہر تشریف لائے۔ اس وقت آپ نے اپنی مونچھوں کو مونڈا ہوا تھا۔

اس لیے مونڈنے نےمتعلق فقہائے کرام کے دونوں قسم کی آراء ملتی ہیں۔ بعض کی رائے سنت اور بعض کی رائے بدعت ہونے کی ہے۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:

وَفِيهِ حَلْقُ الشَّارِبِ بِدْعَةٌ وَقِيلَ سُنَّةٌ.

(الدر المختار مع رد المحتار: ج9 ص583 )

ترجمہ:  کتاب مجتبیٰ میں لکھا ہے کہ مونچھوں کو مونڈنا بدعت ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنت ہے۔

اس اختلاف کے پیشِ نظر مونچھوں کو مونڈنا خلافِ اولیٰ ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved