- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر حمل کے بارے میں معلوم ہو جائے کہ اس کی گروتھ نہیں ہو رہی یا یہ معلوم ہو جائے کہ بچہ بیمار ہے اور بچ نہیں پائے گا تو کتنی مدت کا حمل ہو تو ضائع کروا سکتے ہیں؟ نیز اسقاط کے بعد آنے والے خون کو نفاس شمار کیا جائے گا یا حیض یا استحاضہ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اسقاط حمل میں تفصیل ہے کہ اگر حمل ٹھہرنے کی وجہ سے پہلے بچے کا دودھ متاثر ہونے کا خطرہ ہو یا حمل کی وجہ سے ماں کی صحت اور جان کو خطرہ یقینی ہو یا گمانِ غالب ہو تو اور مستند ڈاکٹر نے حمل ضائع کرنے کی تجویز دی ہو تو اس صورت میں حمل ضائع کروانے کی گنجائش ہے بشرطیکہ حمل چار ماہ (120 دن) سے کم مدت کا ہو۔
واضح رہے کہ اگر حمل چار ماہ (120 دن) کا ہو تو اب اسے ضائع کروانا جائز نہیں ہے کیونکہ چار ماہ میں بچے کے اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہو جاتی ہے اور اس میں جان پڑ جاتی ہے۔ اب اسے ضائع کروانا ایک زندہ جان کو قتل کرنے کے مترادف ہو گا۔ اس لیے اگر ڈاکٹر الٹراساونڈ کے ذریعے بتا بھی دے کہ بچہ نارمل نہیں ہے، گروتھ نہیں ہو رہی یا اس کا کوئی عضو نہیں ہے اور بچہ معذور ہے یا بچہ بیماری کی وجہ سے بچ نہیں پائے گا تب بھی اسقاط جائز نہیں کیونکہ انسان معذور ہو یا قریب المرگ ہو تب بھی اسلام اس کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والے خون کے نفاس یا حیض واستحاضہ ہونے میں کچھ تفصیل ہے کہ اگر ضائع ہونے والے حمل کا کوئی عضو ؛ ہاتھ، پاؤں ،انگلی یا ناخن وغیرہ بنا ہوا ہو تو اس کے ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون نفاس کا خون ہے۔ حمل کے اعضاء چار ماہ مکمل ہونے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لیے چار ماہ پورے ہونے یا اس کے بعد ضائع ہونے والے حمل کے بعد آنے والا خون نفاس کا خون ہے۔
اگر ضائع ہونے والے حمل کا کوئی عضو بنا ہوا نہ ہو بلکہ وہ محض ایک لوتھڑا سا ہو تو اس کے ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون نفاس کا خون نہیں ہو گا۔ اب اس خون کا حکم یہ ہے کہ اس خاتون کی عادت جتنے دن حیض کی تھی اتنے دن حیض اور باقی زائد دنوں کا خون استحاضہ شمار ہو گا۔ استحاضہ کا حکم معذور والا ہے یعنی ہر نماز کے لیے وضو کر کے صاف کپڑے پہن کر نماز پڑھے گی، تلاوت کر سکے گی، روزہ رکھ سکے گی وغیرہ۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved