- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا رمضان کے علاوہ وتر کی نماز کی جماعت کروائی جا سکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
دو شرائط کے ساتھ رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت کی گنجائش ہے:
(1): اس کے لیے لوگوں کو بلایا نہ جائے بلکہ لوگ اتفاقاً جمع تھے اور جماعت کروا لی گئی تو درست ہے۔
(2): اس کا معمول نہ بنایا جائے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (ت1362ھ) لکھتے ہیں:
“جماعت و تر بتداعی مخصوص بر مضان است و خارج آں مکروہ اگر تداعی نباشد احیاناً خارج رمضان ہم مکروه نیست و زیاده.”
(امداد الفتاویٰ: ج1 ص359)
ترجمہ: تداعی کے ساتھ وتر کی جماعت رمضان کے ساتھ مخصوص ہے، رمضان کے علاوہ دنوں میں مکروہ ہے؛ البتہ رمضان کے علاوہ دنوں میں بلا تداعی کبھی کبھی با جماعت پڑھ لی جائے تو یہ بھی مکروہ نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved