- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
انتہائی ادب و احترام سے چند سوالات پیش خدمت ہیں ۔گزارش ہے کہ قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں ان کے جوابات عنایت فرمائیں ۔
[1]: کیا الله تعالیٰ کے علاوہ کسی بھی ہستی کو غیب میں براہِ راست بلا وسیلہ غیبی مدد کے لیے پکارنا شرعی طور پر جائز ہے ؟
[2]: رسول الله صلی الله علیہ و علی آلہ و بارک سلم نے دنیا سے پردہ فرمانے سے قبل کیا امت کو اپنے لیے بہترین حکمران باہمی مشاورت سے چننے کا حکم دیا تھا یا کسی شخصیت کو باقاعدہ حکمران نامزد فرمایا تھا ؟
[3]: رسول الله صلی الله علیہ و علی آلہ و بارک و سلم خاتم المرسلین ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ اس سے کیا یہ مراد ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و علی آلہ و بارک و سلم کے بعد اب الله تعالیٰ سے یقینی ڈائریکٹ رابطہ براہ راست یقینی راہنمائی وحی کشف و الہام کا سلسلہ مکمل ختم ہو چکا ہے ؟
[4]: کیا الله وحدہ لا شریک نے ختم نبوت ختم رسالت کے بعد امت کی کامل ہدایت و رہنمائی صرف قرآن مجید اکیلے سے ہی جوڑی ہے یعنی قرآن ہی کو قیامت تک اکیلا امام بنایا یا امامت منصوص من الله کا باقاعدہ عہدہ قائم فرمایا کہ قیامت تک ہر دور میں ایک منصوص من الله امام موجود رہے گا ؟
[5]: بہت سے افراد سے ایسے واقعات سنے کہ جب ان کے بزرگوں وغیرہ کا وقت وفات آیا تو ان بزرگوں نے اپنے فوت شدہ بزرگوں سے باقاعدہ اس طرح سے گفتگو شروع کر دی کہ جس طرح وہ سامنے کرسی پر بیٹھے ہوں ۔بالخصوص بوقت وفات عام طور پر لوگ اپنی ماؤں کو پکارتے ان سے باتیں کرتے دیکھے گئے ۔اس سے بعض لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جو شخص فوت ہو رہا ہوتا ہے اس کی روح کے استقبال کے لیے اس کی والدہ اور دیگر فوت شدہ پیاروں کی ارواح کو دنیا میں بھیجا جاتا ہے ۔قرآن و صحیح احادیث میں اس کے متعلق کیا راہنمائی ملتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: اھل السنۃ والجماعۃ کا موقف یہ ہے کہ ہر وقت ،ہر جگہ سے ،ہرکسی کی پکار کو سننا اللہ تعالیٰ کی خصوصیت ہے اور مافوق الاسباب استعانت واستمداد بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے ۔غیر اللہ سے مافوق الاسباب استمدادواستعانت اور دور سے یہ سوچ کر پکارنا کہ وہ ہماری پکار بلاواسطہ سنتے ہیں جائز نہیں ۔
ہاں اگر بطور استشفاع کسی کو قریب سے دعاکی درخواست کی جائے یا دور سے اس نظریہ کے ساتھ خطاب کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ بذریعہ ملائکہ ہماری درخواست اس شخص تک پہنچاتے ہیں تو اس کی گنجائش موجود ہے۔
[2]: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد نہ تو کسی شخص کے لیے خلافت کی وصیت فرمائی کہ فلاں شخص میرے بعد خلیفہ ہوگا اور نہ صراحتا کسی شخص کو خلافت کے لئے نامزد فرمایا۔البتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق اشارات فرمائے جن میں نماز کی امامت، اپنے بعد مسائل کے حل کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کا حکم ،9ہجری میں حج کے لئے بطورامیر تقرری اور اپنے بعد زکوٰۃ کی وصولی کا حقدار قرار دینا وغیرہ شامل تھے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں اشارات کی بنیاد پر اجماعی طور پہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفۃ الرسول مقرر فرمایا۔
امام محمد بن اسماعیل البخاری (ت256ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قِيلَ لِعُمَرَ: أَلَا تَسْتَخْلِفُ؟ قَالَ: إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدْ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ وَإِنْ أَتْرُكْ فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(صحیح البخاری: بَاب الِاسْتِخْلَافِ، رقم الحدیث7218)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں حضرت عمر سے درخواست کی گئی کہ آپ اپنے بعد کسی شخص کو خلیفہ نامزد کیوں نہیں فرما دیتے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو خلیفہ بنا دوں تواس میں کوئی حرج نہیں، اس لئے کہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ جو مجھ سے بہترتھے انہوں نے وفات کے وقت اپنا خلیفہ مقرر کر دیا تھا ۔ اور اگر کسی کو خلیفہ نہ بناؤں تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا تھا۔
امام ابو بكر احمد بن الحسین بن علی البیہقی (ت458ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قِيلَ لِعَلِىٍّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا فَقَالَ: مَا اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللٰهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَخْلِفَ وَلٰكِنْ إِنْ يُرِدِ اللّٰهُ بِالنَّاسِ خَيْرًا جَمَعَهُمْ عَلٰى خَيْرِهِمْ كَمَا جَمَعَهُمْ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰى خَيْرِهِمْ.
(السنن الکبریٰ للبیہقی: ج8 ص149 باب الاِسْتِخْلاَفِ)
ترجمہ: حضرت شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے درخواست کی گئی کہ آپ کسی شخص کو ہمارا خلیفہ مقرر فر مادیں ۔ تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں فرمایا تو میں کیسے مقرر کرسکتا ہوں؟ اگراللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائیں گے تو میرے بعد لوگوں کو کسی بہترین آدمی پرمتفق کر دیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگوں کو ایک بہترین شخص یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر متفق کر دیا تھا۔
سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں ۔
1: حضور علیہ السلام نے کسی شخص کے متعلق امامت یاخلافت کی وصیت نہیں فرمائی۔
2: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل سمجھتے تھے ۔
3: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اجماعی ہے، تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پہ متفق تھے ۔
[3]: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء و رسل کی جو تعداد متعین تھی وہ تعداد حضور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پوری ہوچکی ہے ،وحی اصطلاحی یعنی جبریل امین علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کا کلام اور حکم وقت کے نبی کے پاس لانے کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے ۔البتہ ایمان اور تقوی کی بنیاد پر کشف اور الہام کا سلسلہ اب بھی باقی ہےلیکن:
1: ایک تو یہ چیزیں قطعی اور یقینی نہیں ہوتیں۔
2: ان کے ذریعہ کسی حکم شرعی کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔
3: الہام اور کشف سے ثابت شدہ چیز کو کسی دوسرے کے خلاف بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا ۔
[4]: اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا جس کی پہلی کڑی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری کڑی جناب خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شریعت کے اجتماعی نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ عامۃ المسلمین اپنے میں سے کسی اہل اور با صلاحیت فرد کو اپنا رئیس مقرر کریں جو اجتماعی طور پر احکام شریعت کو نافذ کرے۔ اس فرد منتخب کو ”امیر المومنین“ کہا جاتا ہے، یہی امام بھی کہلاتا ہے اور اس کے اس منصب اقتدار کو امامت کبریٰ اور خلافت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امیر المومنین، خلیفہ وقت اور امامت کبریٰ پر فائز یہ شخص شریعت خداوندی کو عوام پر نافذ کرتا ہے، سب کے سامنے ظاہر اور صاحب اقتدار ہوتا ہے،اس امام کا منصوص من اللہ ،معصوم ہونا ضروری نہیں بلکہ باصلاحیت اور اہل ہونا ضروری ہے ۔
اھل السنۃ والجماعۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امامت کا منصب اسی تصور کے ساتھ مانتے ہیں،جو ”خلافت“ کے لفظ تعبیر کیا جاتا ہے۔
اور شرعی مسائل کے حل کے لئے قرآن کریم ،احادیث مبارکہ،اجماع امت اور قیاس شرعی کو بنیاد سمجھ کر فقہاء اور علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔
[5]: موت کے بعد نیک لوگوں کی ارواح علیین میں اور کفار وفساق کی سجین میں ہوتی ہیں، کسی عزیز کی موت کے وقت استقبال کے لئے ارواح کا آنا اس بارے میں قرآن کریم کی کوئی آیت یا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک فرمان میرے علم میں نہیں ۔
باقی بعض لوگوں کا موت کے وقت ارواح سے کلام کرنا اس میں اس بات کا امکان ہےکہ اللہ تعالیٰ درمیان کے حجاب ہٹا کر ارواح کو سامنے فرمادیں ۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved