- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اللہ تعالیٰ کی صفت ”ارادہ “کی تکوین اور تشریع کی تقسیم کرنا درست ہے یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اھل السنۃ والجماعۃ کی کتبِ عقائد میں ارادہ کی تقسیم ہمیں نہیں ملی البتہ قرآن کریم آیات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ کی دو قسمیں بنانا درست ہے ۔
1: ارادہ شرعیہ
2: ارادہ کونیہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿تُرِيدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ وَاللهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴾
(الانفال :67)
ترجمہ: تم سامانِ دنیا کو حاصل کرنا چاہتے ہو لیکن اللہ آخرت چاہتا ہے (کہ تم آخرت کی نعمتوں کے حصول میں کوشش کرو) اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
اس آیت کریمہ میں ”ارادہ شرعیہ“ کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
﴿وَ لَا یَنفَعُکُمْ نُصْحِیٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغوِیَکُمْ﴾
( ھود:34)
ترجمہ:اگر اللہ تعالیٰ تمہاری گمراہی کا فیصلہ فرما لیں تو میرا تمہاری خیر خواہی کرنا اور تمہیں نصیحت کرنا تمہارے حق میں مفید نہ ہو گا۔
اس آیت کریمہ میں ”ارادہ کونیہ“ کی طرف اشارہ ہے۔
نیز مفتی بغداد علامہ شہاب الدین سید محمود بن عبد اللہ آلوسی رحمہ اللہ (ت1270ھ) کی ایک عبارت سے بھی اس تقسیم کا اشارہ ملتا ہے۔ چنانچہ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فخطأ كل فرقة منهم الفرقة الأخرى ولم يميزوا بين الإرادة الكونية والإرادة الشرعية.
(تفسیر روح المعانی :سورۃ البقرۃ آیت 113)
ترجمہ:یہود ونصاری میں سے ہر گروہ دوسرے کو گمراہ کہتا ہے اور وہ لوگ ارادہ کونیہ اور ارادہ شرعیہ میں فرق نہیں کرتے ۔
حاصل یہ کہ ارادہ کی اس تقسیم کی گنجائش موجود ہے ۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved