• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بیس رکعت تراویح کے متعلق حدیث ابن عباس پر چند سوالات کے جوابات

استفتاء

بیس رکعات تراویح پر آپ کی فائل کا مطالعہ کیا الحمد للہ بہت فائدہ ہوا۔

اس فائل میں موجودسب سے پہلی حدیث مبارک کے بارے میں کچھ سوالات ہیں امید ہے آپ تشفی بخش جوابات عنایت فرمائیں گے ۔

1:      آپ نے حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے راوی ابراہیم بن عثمان کی توثیق کے لیے فرمایا کہ شعبہ نے ان سے روایت لی ہے اور پھر شوکانی صاحب کی بات ملائی کہ شعبہ کے ہاں ابراہیم بن عثمان ثقہ ہےحالانکہ امام ذھبی رحمہ اللہ  نے میزان الاعتدال جلد 1 صفحہ 47 پر صراحۃً فرمایا ہے کہ ”كَذَّبَهٗ شُعْبَةُ“ یعنی شعبہ نے ان کی تکذیب کی ہے۔

2:      امام یزید بن ھارون نے  ابراہیم بن عثمان کی قضا کے معاملہ میں مدح کی ہے تو کیا یہ مدح اس مذکورہ حدیث کے بارے میں بھی ہے؟

3:      امام ابن عدی نے جو فرمایا کہ: ”له أحاديث صالحة“

تو کیا ان احاديثِ صالحہ میں یہی روایت بھی داخل ہے؟

حالانکہ اس روایت کو حافظ ذہبی نے احاديث صالحہ سے نکال کر فرمایا :

ومن مناكيره ما رواه عن الحكم بن مقسم ، عن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في رمضان في غير جماعة عشرين ركعة والوتر.

4:      آپ نے فرمایا کہ ”اس روایت کو تلقی امت بالقبول حاصل ہے۔“

تو کیا اس ”روایت“ کو تلقی امت بالقبول حاصل ہے یا اس ”عمل“ کو تلقی امت بالقبول حاصل ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت ہے؟

5:      اس روایت کو تلقی امت بالقبول کیسے حاصل ہے حالانکہ تمام ائمہ حدیث اس روایت اور ابراہیم بن عثمان کی تضعیف پر متفق ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شق وار ہر سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

[1]:   امام شعبہ نے ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ سے  روایت لی ہے اور غیر مقلد علماء کے ہاں امام شعبہ رحمہ اللہ کا کسی راوی سے روایت لینا اس راوی کے ”ثقہ“  ہونے کی دلیل ہے ۔

(نیل الاوطارج1ص36،الحدیث شمارہ 17ص9)

باقی رہا یہ سوال کہ ”امام شعبہ رحمہ اللہ نے اس راوی کی تکذیب کی ہے “ تو اس بارے میں عرض ہے کہ …

اگر امام ذہبی رحمہ اللہ کی مکمل عبارت کو سامنے رکھ لیا جاتا تو شاید یہ سوال ختم ہوجاتا کیونکہ امام ذہبی کے ہاں شعبہ کی یہ جرح ناقابل قبول ہے ۔

امام ذہبی رحمہ اللہ کی پوری عبارت یہ ہے:

کذبہ شعبۃ لکونہ روی عن الحکم عن ابن أبی لیلٰی أنہ قال: شہد صفین من أہل بدرسبعون. فقال شعبۃ: کذب واللہ لقد ذاکرت الحکم فما وجدنا شہد صفین أحدا من أہل بدر غیر خزیمۃ. قلت: سبحان اللہ!  أما شہد ہا علی؟ أما شہد ہا عمار؟

                                               (میزان الاعتدال للذہبی: ج1ص84)

ترجمہ:امام شعبہ نے ابراہیم بن عثمان کو جھوٹا اس وجہ سے کہا ہے کہ اس نے حکم سے روایت کی کہ ابن ابی لیلیٰ نے کہا جنگ صفین میں ستر بدری صحابہ شامل تھے۔ شعبہ نے کہا: واللہ! ابراہیم بن عثمان نے تو غلط  بات کہی ہے ۔میں نے خود امام حکم سے مذاکرہ کیا تو سوائے حضرت خزیمہ کے کسی کو اہل بدر سے نہیں پایا۔ میں (ذہبی)کہتا ہوں: سبحان اللہ! کیا صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضر نہ تھے ؟کیا صفین حضرت عمار رضی اللہ عنہ حاضر نہ تھے؟

اس تفصیل سے امام شعبہ رحمہ اللہ کی تکذیب کی حقیقت واضح ہو گئی کہ انہوں نے  تکذیب صرف اس وجہ سے کی تھی کہ ابراہیم نے حکم کے واسطے سے ابن ابی لیلیٰ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ صفین میں ستر بدری صحابہ شریک تھے ۔تو اس سے ابراہیم کا جھوٹا ہونا کیسے ثابت ہوتاہے؟ بلکہ جھوٹ تو اس وقت ثابت ہوتا کہ جب شعبہ حکم کے پاس مذاکرہ کرنے گئے تو حکم سرے سے اس بیان کا انکار کردیتے لیکن حکم اس کا انکار نہیں کرتے بلکہ مذاکرہ سے صرف ایک صحابی ثابت ہوا۔معلوم ہوا کہ امام حکم نے بیان کیا تھا لیکن اب وہ ستر کا عدد ثابت نہ کرسکے۔ تو اس میں ابراہیم کا کیا قصور ہے؟!

علاوہ ازیں امام ذہبی نے بھی امام شعبہ کے اس بیان کو یوں رد کردیا کہ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی تو یقیناً شریک تھے ۔تو پھر متعین ایک ہی کیسے ثابت ہوا کم سے کم تین کہیے۔ یعنی اس طرح اور تحقیق کرلیجیے ممکن ہے اور نکل آئیں۔

معلوم ہوا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی امام حکَم رحمہ اللہ کی وجہ سے امام شعبہ رحمہ اللہ کا امام ابو شیبہ رحمہ اللہ  کی تکذیب کرنا ناقابلِ قبول  ہے۔

[2]:   امام یزید بن ھارون نے جب  ابو شیبہ کی قضاء کے معاملہ میں  مدح کی ہے اور  پھر ان سے روایت بھی لی ہے تو معلوم ہوا کہ امام یزید بن ھارون کے ہاں ابراہیم بن عثمان حدیث میں بھی عادل ہے ۔نیز امام یزید بن ھارون  نےابراہیم بن عثمان کی کسی روایت کومعلول قرار نہیں دیا تو اس عمومِ مدح میں ان کی ذات کے ساتھ ساتھ ان کی مرویات کو  صالح کہنا ثابت ہو جاتا ہے۔

[3]:   امام ابن عدی رحمہ اللہ نے جو آپ کی احادیث کو صالحہ کہا اس کے عموم میں یہ روایت بھی داخل ہے ۔

باقی رہا یہ سوال کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو منکر کہا ہے ۔تو اس بارے عرض ہے کہ اصولیین کے ہاں  حدیث منکَر کی دو تعریفیں کی گئی ہیں :

1:      راوی خود ضعیف ہو اور ثقہ کی مخالفت کرے ۔یہ مردود ہوتی ہے۔

2:      راوی خود معتبر ہو لیکن منفرد ہو یہ مقبول ہوتی ہے ۔

اگر اس حدیث مبارک کا راوی ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ خود مجروح ہوتا اور ثقات کی مخالفت کرتا تو یہ روایت مردود ہوتی ،جبکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ راوی خود حسن درجہ کا ہے اور اس نے ثقات کی مخالفت بھی نہیں کی ۔ اس لیے امام ذہبی رحمہ اللہ کے قول میں ”منکر“ ہونے سے مراد وہ منکر نہیں جو مردود ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ منفرد مقبول ہے۔مزید  تلقی بالقبول کی وجہ سے صحیح قرار پاتی ہے۔

نوٹ:   یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ  منکر؛ بمعنی مخالفتِ ثقات مراد نہیں لیا جا سکتا اس لیے کہ ثقہ راویوں سے ایک روایت بھی ایسی منقول نہیں جو تراویح کا عدد بیس کے علاوہ کوئی اور بتاتی ہو۔ رہی حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا تو اس کا تعلق نمازِ تراویح سے ہے ہی نہیں بلکہ وہ تہجد کے متعلق ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنی فائل ”بیس رکعات تراویح“ میں ذکر کر دی ہے۔

[4]:   رمضان المبارک میں بیس رکعت تراویح ، ادا کرنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے البتہ پورا مہینہ ایک امام کی اقتداء میں نماز تراویح اداکرنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے اور ان دونوں کی تلقی امت بالقبول حاصل ہے۔

لہذا اس حدیث کو اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں جاری کردہ عمل دونوں کو تلقی بالقبول حاصل ہے ۔

[5]:   یہ کہنا کہ ”ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ کے ضعف پر اتفاق ہے“قابلِ غور بات ہے ۔اس لئے کہ اگر ان پر جرح موجود ہے تو ان کی توثیق بھی منقول ہے اور کسی بھی راوی کی روایت کے قبول ہونے کے لئے دو بنیاد ی شرطیں؛ حفظ وعدالت اس راوی میں موجود ہیں۔ چنانچہ امام یزید بن ھارون نے آپ کی عدالت کی گواہی دی اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے آپ کو ”الحافظ“ قرار دیا۔  دیکھئے فتح الباری باب ذھاب الجریر الی الیمن۔

اور خود غیر مقلد عالم ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے جس میں یہی راوی ابراہیم بن عثمان موجود ہے ۔ دیکھئے سنن ابن ماجہ حدیث نمبر1495

لہذا اس حدیث مبارک کو راوی ابراہیم بن عثمان کی وجہ سے ناقابلِ عمل سمجھنا درست نہیں ۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved