• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

تکمیل قرآن کے موقع پر فرشتوں کا آمین کہنا

استفتاء

رمضان المبارک  میں آپ کی طرف سے مختلف ویڈیوز ،تحریریں اور پوسٹیں پہنچتی رہتی ہیں جن سے الحمد للہ کافی فائدہ ہوتا ہے۔ابھی ایک پوسٹ ملی ہے جس میں ختم قرآن کے موقع پر کی جانے والی دعا پر  چار ہزار ملائکہ کے آمین کہنے کا ذکر ہے ۔ پوسٹ یہ ہے:

برائے مہربانی اس حدیث کی تخریج کے ساتھ ساتھ اس کی سندی حیثیت بھی بتا دیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تخریج:

یہ  تابعی معروف حضرت حمید الاعرج رحمہ اللہ کا قول ہے جسے حدیث مقطوع کہتے ہیں اور اسے مشہور محدث امام عبد الرحمن دارمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”سنن الدارمی “ میں ” باب فی ختم القرآن“ کے تحت نقل کیا ہے ۔ اس قول کو بعد میں آنے والے حضرات نے سنن الدارمی کے حوالہ سے نقل کیا ۔

سندی حیثیت:

اس  روایت کا ایک راوی قزعہ بن سوید مختلف فیہ ہے۔  ائمہ محدثین نے اس پر جرح بھی کی ہے اور اس راوی کی توثیق بھی منقول ہے۔ چند ائمہ کی آراء پیش ہیں:

[1]:    امام احمد بن عبد اللہ بن صالح العجلی الکوفی (ت261ھ ) لکھتے ہیں:

قزعة بن سويد بن حجير الباهلى لا بأس به وفيه ضعف.

                                        معرفۃ الثقات للعجلی: رقم الترجمہ 1521

ترجمہ قزعہ بن سوید بن حجیر الباہلی ضعیف تو ہے لیکن اس کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ۔

[2]:    امام عثمان بن سعيد بن خالد بن سعيد تمیمی الدارمی  (ت 280 ھ) فرماتے ہیں:

وسألته عن قزعة بن سويد فقال: ثقة.

تاریخ ابن معین: رقم 702،تہذیب التہذیب : ترجمہ قزعہ بن سوید

ترجمہ: میں نے امام یحی بن معین رحمہ اللہ سے اس قزعہ بن سوید کے بارے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ راوی ثقہ ہے۔

چونکہ اس راوی پہ جرح کے ساتھ ساتھ تعدیل بھی منقول ہے اس لیے یہ روایت حسن درجہ کی ہے  ۔

فائدہ1:

مشہور محدث اور شارح حدیث امام ابو زکریا یحی بن شرف النووی  رحمہ اللہ (ت767ھ) نے اس روایت  سے ختم قرآن کے موقع پر دعاکے مستحب ہونے پر استدلال کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

المسألة الرابعة: الدعاء مستحب عقيب الختم استحبابا متأكدا لما ذكرناه في المسألة التي قبلها وروى الدارمي بإسناده عن حميد الأعرج قال من قرأ القرآن ثم دعا أمن على دعائه أربعة آلاف ملك.

التبیان فی آداب حملۃ القرآن: فصل فی آداب الختم وما یتعلق بہ

ترجمہ: چوتھا مسئلہ:ختم قرآن کے موقع پر دعا کرنا تاکیداً مستحب ہے جیسا کہ ہم نے پچھلے مسئلہ میں اسے ذکر کیا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے حمید الاعرج سے بالسند  روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جس نے قرآن کریم مکمل کیا، پھر دعا کی تو اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں۔

فائدہ2:

اہل علم نے ان روایات کو حسن درجہ کی روایات قرار دیا ہے جن میں یہی راوی قزعہ بن سوید موجود ہے۔ چند حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

(1):    حافظ احمد بن  ابی بکر بن اسماعیل البوصیری  الشافعی (ت840ھ) فرماتے ہیں :

هٰذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.

اتحاف الخیرۃ المہرۃ رقم الحدیث6033

ترجمہ: یہ اسناد حسن درجہ کی ہے۔ اس روایت کے راوی قزعہ بن سوید  کی تعدیل وتضعیف میں اختلاف ہے۔

(2):    حافظ احمد بن ابی بكر بن اسماعيل كنانی (ت840ھ) فرماتے ہیں :

هذا إسناد حسن قزعة بن سويد مختلف فيه.

مصباح الزجاجۃ فی زوائد ابن ماجہ رقم الحدیث 551

ترجمہ: یہ اسناد حسن درجہ کی ہے۔ اس روایت کے راوی قزعہ بن سوید  کی تعدیل وتضعیف میں اختلاف ہے۔

(3):    حافظ محمد بن عبد الھادی سندھی  (ت1138ھ) فرماتے ہیں :

إِسْنَادُهٗ حَسَنٌ لِأَنَّ قَزَعَةَ بْنَ سُوِيْدٍ مُخْتَلَفٌ فِيهِ

حاشیہ السندھی علی سنن ابن ماجہ: باب ماجاء فی تغمیض المیت

ترجمہ: یہ اسناد حسن درجہ کی ہے۔ اس روایت کے راوی قزعہ بن سوید  کی تعدیل وتضعیف میں اختلاف ہے۔

نوٹ:

سنن ابن ماجہ کی باب ماجاء فی تغمیض المیت والی حدیث کو مشہور غیر مقلد عالم ناصر الدین البانی نے بھی ”حسن“ کہا ہے ۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved