• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

روضہ رسول علی صاحبھا لسلام جنت ہے

استفتاء

[1]:    ہم نے آپ کا ایک بیان سنا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر  سےلے کرحجرہ  تک یہ جگہ جنت ہے ۔ حضرت اس کی دلیل کیا ہے؟

[2]:    اگر یہ جگہ واقعی جنت ہے تو پھر اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال بھی ہوا حالانکہ جنت میں تو موت نہیں آتی ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]:          نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے منبر  سے لے کر حجرہ  مبارکہ تک کی  جگہ جنت ہے۔ اس پہ دلیل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مبارک فرمان ہے ۔

مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ.

(صحیح البخاری: باب فضل مابین القبر والمنبر رقم الحدیث 1195)

ترجمہ: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

اس جگہ کے جنتی ہونے پر محدثین کی تصریحات موجود ہیں۔ چند ایک ملاحظہ فرمائیں:

مشہور شافعی محدث امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ (ت676ھ) نے اس حدیث کی شرح میں دو قول نقل کیے۔ ان میں سے پہلا قول یہ ہے:

إِنَّ ذَالِکَ الْمَوْضِعَ بِعَیْنِہٖ یُنْقَلُ إِلَی الْجَنَّۃِ.

(شرح مسلم للنووی:  باب فضل مابین قبرہ صلی اللہ علیہ وسلم)

ترجمہ : قیا مت کے دن حضور ﷑کی قبر والی جگہ کو بعینہ جنت میں شامل کر دیا جائے گا۔

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی رحمہ اللہ (ت855ھ) فرماتے ہیں:

وَحَمَلَ كَثِيْرٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ الْحَدِیْثَ عَلٰی ظَاہِرِہٖ فَقَالُوْا: یُنْقَلُ ذَالِکَ الْمَوْضِعُ بِعَیْنِہٖ إِلَی الْجَنَّۃِ. (عمدۃ القاری باب فضل مابین القبر والمنبر)

ترجمہ : اکثر علماء نے اس حدیث کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبروالی جگہ کو جنت میں شامل کیا جائے گا۔

سلطان المحدثین ملاعلی قاری رحمہ اللہ (ت 1014ھ) فرماتے ہیں:

وقال مالك: الحديث باق على ظاهره والروضة قطعة نقلت من الجنة وستعود إليها وليست كسائر الأرض تفنى وتذهب. قال ابن حجر: وهذا عليه الأكثر وهي من الجنة الآن حقيقة.

(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)

ترجمہ: امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث اپنے ظاہر پر محمول ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر والی جگہ جنت سے آئی تھی اور جنت میں ہی منتقل کی جائے گی، زمین کا یہ حصہ باقی زمین کی طرح فنا نہیں ہوگا۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اکثر علماء کا یہی نظریہ ہے کہ قبر مبارک والی جگہ آج بھی حقیقی جنت ہے۔

[۲]:    جب کوئی مسلمان حشر کے بعد بطورِ جزا جنت میں داخل ہو گا تو پھر اسے جنت میں موت نہیں آئے گی۔روضہ اقدس اگرچہ جنت کاٹکڑا ہے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ دنیا میں تھے اور بطورِ مکلف تھے اس لئے دنیا کے احکام یہاں پہ لاگو ہوتے تھے ۔

چنانچہ ملاعلی قاری  رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں:

وإن لم تمنع نحو الجوع لإتصافها بصفة دار الدنيا.

(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح:، باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)

ترجمہ: (اگرچہ یہ  جگہ جنت ہے) تاہم بھوک وغیرہ جیسی دنیوی صفات اس جہان فانی سے اتصال کی وجہ سے ہیں۔

جیسے حجر اسود؛ جنت سے آنے والا ایک پتھر ہے جسے مشرک ہاتھ لگاتے تھے حالانکہ جنت کی کسی چیز کو بھی مشرک  چھو نہیں سکتا۔ مشرکین کے حجرِ اسود کو چھونے اور بوسے دینے  کی وجہ یہ ہے کہ حجرِ اسود اگرچہ جنت کا ایک پتھر ہے لیکن وہ اس وقت دنیا میں موجود ہے، اس لئے غیر مسلم بھی اسے چوم لیتے تھے ۔جب حشر کے بعد بطورِ جزاء جنت کا فیصلہ ہوگا تو اس وقت جنت کی اشیاء غیر مسلموں پہ حرام ہوں گی ۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved