• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شوال کے چھ روزے؛ فضائل ومسائل

استفتاء

حضرت! میرا سوال یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں کا کیا حکم ہے؟ رکھنا درست ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ وہ ان روزوں کو ”مکروہ“ کہتے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوال کے جواب میں چند باتیں پیش کی جاتی ہیں:

[1]: شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

احادیث مبارکہ میں  شوال کے یہ چھ روزے رکھنے کی بڑی فضیلت  آئی ہے۔ دو احادیث پیش کی جاتی ہیں:

۱:      امام ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل البغدادی (  ت241ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَاَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا.”

(مسند احمد: رقم الحدیث14302)

ترجمہ: حضرت جابر بن عبدا للہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے بھی رکھے تو  گویا اس نے پورا سال روزے رکھے۔

۲:      امام ابو الحسن مسلم بن حجاج القشیری النیشاپوری (ت 261ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ الْخَزْرَجِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُ أَنَّهٗ حَدَّثَهٗ أَنَّ رَسُولَ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، ثُمَّ أَتْبَعَهٗ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْرِ.”

(صحیح مسلم:  رقم الحدیث  1164)

ترجمہ: حضرت عمر بن ثابت بن حارث الخزرجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:  جس نے رمضان کے روزے رکھے، اس کے بعد شوال کے چھ  روزے بھی رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔

فائدہ:  ان روزوں کی سال بھر بلکہ عمر بھر کے روزوں کے برابر ہونے کی وجہ

پہلی حدیث میں شوال کے چھ روزے رکھنے کو ”پورے سال کے  روزے“ اور  دوسری حدیث میں ”پورے زمانے کے روزے“  رکھنے کی مانند قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جب رمضان المبارک کے پورے مہینے کے روزے رکھتا ہے تو ”اَلْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا“ (کہ ایک نیکی کا کم از کم اجر دس گنا ہے)  کے قاعدہ کی رو سے اس ایک مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے جائیں تو یہ دو مہینے کے  روزوں برابر ہو جاتے ہیں،گویا رمضان اور اس کے بعد شوال میں چھ روزے رکھنے والا شخص پورے سال کے روزوں کا مستحق بن جاتا ہے۔  نیز اگر مسلمان کی زندگی کا یہی معمول بن جائے کہ وہ رمضان کے ساتھ ساتھ شوال کے روزوں کو بھی مستقل رکھتا رہے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزار دی ہو۔

امام ابوبكر محمد بن عبدالله بن محمد ابن العربی المالکی  (ت543ھ) لکھتے ہیں:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتَّۃَ أَیَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ لَہٗ صَوْمُ الدَّھْرِ قَطْعًا بِالْقُرْآنِ ﴿مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا﴾ شَھْرٌ بِعَشْرٍ وَسِتَّۃُ أَیَّامٍ بِشَھْرَیْنِ فَھٰذَا صَوْمُ الدَّھْرِ.

(عارضۃ الاحوذی شرح سنن الترمذی: ج3 ص290، 291)

ترجمہ: حدیث مبارک کا یہ مضمون کہ ”جو شخص رمضان کے روزے رکھے، پھر عید الفطر کے بعد چھ روزے مزید رکھے تو اسے پورے زمانے کے روزے رکھنے کا ثواب ملے گا“ قرآن پاک کی آیت سے ثابت ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا تو اسے دس گنا بدلہ دیا جائے گا۔ تو ایک ماہ (رمضان) کے روزے دس ماہ کے برابر ہوئے اور چھ دن کے روزے دو  ماہ کے برابر ہوئے (یوں ایک ماہ کے روزے ایک سال کے برابر ہوئے۔ تو ہمیشہ رکھنے سے) یہ پورے زمانے کے روزے شمار ہوں گے۔

لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ اس فضیلت کو حاصل کر لیا جائے۔

[2]: شوال کے چھ روزے فقہاء وعلمائے امت کی نظر میں

(1):    امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ(ت189ھ)

امام قاسم بن قُطلُوبُغا الحنفی رحمہ اللہ نے شوال کے چھ روزوں کو ثابت ماننے والوں میں امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔

(تحریر الاقوال فی صوم الست من شوال للقطلوبغا: ص36)

(2):    امام حسن بن زیاد اللؤلؤی الکوفی رحمہ اللہ (ت204ھ)

امام قاسم بن قُطلُوبُغا الحنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

عَنِ الْحَسَنِ  بْنِ زَیَّادٍ أَنَّہٗ کَانَ لَا یَرٰی بِصَوْمِھَا بَاْسًا وَیَقُوْلُ: کَفٰی بِیَوْمِ الْفِطْرِ مُفَرِّقًا بَیْنَھُنَّ وَبَیْنَ رَمَضَانَ.

(تحریر الاقوال فی صوم الست من شوال للقطلوبغا: ص36)

ترجمہ: امام حسن بن زیاد رحمہ اللہ یہ روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے روزوں اور شوال کے ان چھ روزوں کے درمیان عید الفطر کا وقفہ کافی ہے۔

(3):    فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد بن ابراہیم سمرقندی الحنفی رحمہ اللہ(ت375ھ)

امام قاسم بن قُطلُوبُغا الحنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

وَقَالَ أَبُو اللَّیْثِ السَّمَرْقَنْدِیُّ فِی کِتَابِ ((النَّوَازِلِ)): صَوْمُ السِّتِّ بَعْدَ الْفِطْرِ مُتَتَابِعًا ، مِنْھُمْ مَنْ کَرِھَہٗ ، وَالْمُخْتَارُ أَنَّہٗ لَا بَأْسَ بِہٖ.

(تحریر الاقوال فی صوم الست من شوال للقطلوبغا: ص36، 37)

ترجمہ:امام ابو اللیث سمرقندی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”النوازل“ فرماتے ہیں: عید الفطر کے بعد (شوال کے) چھ روزے لگاتار رکھنے کے متعلق بعض حضرات کہتے ہیں کہ ایسا کرنا مکروہ ہیں لیکن مختار (و راجح)  بات یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔

(4):    امام ابو الحسن علی بن ابی بكر بن عبد الجلیل المرغینانی (ت593ھ)

علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں:

قَالَ صَاحِبُ الْهِدَايَةِ فِي كِتَابِهِ التَّجْنِيسِ: إنَّ صَوْمَ السِّتَّةِ بَعْدَ الْفِطْرِ مُتَتَابِعَةً ، مِنْهُمْ مَنْ كَرِهَهٗ وَالْمُخْتَارُ أَنَّهٗ لَا بَأْسَ بِهٖ.

(ردا لمحتار للشامی: ج3 ص485)

ترجمہ: صاحبِ ہدایہ اپنی کتاب ”التجنیس“ میں فرماتے ہیں: عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے پے در پے رکھنے کے متعلق بعض حضرات کی رائے ہے کہ اس طرح رکھنا مکروہ ہے لیکن مختار (اور راجح) بات یہ ہے کہ اس طرح رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

(5):    علامہ زین الدین قاسم بن قُطلُوبُغا السودونی الجمالی  الحنفی(ت879ھ) نے ان روزوں کے ثبوت پر مستقل ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام ”تحریر الاقوال فی صوم الست من شوال“ رکھا ہے۔ اس رسالہ میں انہوں نے فقیہ امام رسولا بن احمد بن یوسف التَّبَّانی الحنفی (ت793ھ)  کا رد کیا ہے جنہوں نے ان روزوں کے متعلق امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف مطلقاً کراہت کا قول منسوب کیا ہے۔ یہ رسالہ دار البشائر الاسلامیہ بیروت سے طبع ہو چکا ہے۔

(6):    علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:

(وَنُدِبَ تَفْرِيقُ صَوْمِ السِّتِّ مِنْ شَوَّالٍ ) وَلَا يُكْرَهُ التَّتَابُعُ عَلَى الْمُخْتَارِ.

(الدر المختار للحصکفی:ج3 ص485)

ترجمہ: شوال کے چھ روزے الگ الگ کر کے رکھنا مستحب ہے البتہ مختار (وراجح) قول کے مطابق یہ روزے لگاتار رکھنا بھی مکروہ نہیں ہے۔

(7):    علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (ت1252ھ)  نے ”درمختار“ کی عبارت ” عَلَى الْمُخْتَارِ “ پر عمدہ تعلیق لکھتے ہوئے مختلف کتبِ فقہ سے ثابت کیا ہے کہ احناف کے مختار اور راجح مذہب کے مطابق یہ روزے ثابت ہیں۔ اسی ضمن میں علامہ شامی رحمہ اللہ نے علامہ زین الدین قاسم بن قُطلُوبُغا السودونی الجمالی  الحنفی رحمہ اللہ کے مذکورہ رسالہ ”تحریر الاقوال فی صوم الست من شوال“ کا بھی حوالہ دیا ہے۔

(رد المحتار لابن عابدین: ج 3ص485)

(8):    شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی(ت1369ھ) لکھتے ہیں:

قَالَ أَصْحَابُنَا: وَالْأَفْضَلُ أَنْ تُصَامَ السِّتَّۃُ مُتَوَالِیَۃً عَقْبَ یَوْمِ الْفِطْرِ ، فَاِنْ فَرَّقَھَا أَوْ أَخَّرَھَا عَنْ أَوَائِلِ شَوَّالٍ اِلٰی أَوَاخِرِہٖ حُصِلَتْ فَضِیْلَۃُ الْمُتَابَعَۃِ.

(فتح الملہم شرح صحیح مسلم للعثمانی: ج6 ص258)

ترجمہ: ہمارے اصحاب (احناف) کا کہنا ہے کہ افضل یہی ہے کہ یہ چھ روزے عید الفطر کے متصل بعد مسلسل رکھنا شروع کر دیے جائیں۔ اگر کسی نے متصل نہیں رکھے یا شوال کی ابتداء میں رکھنے کےبجائے شوال کے آخر میں رکھے تب بھی متابعت (رمضان کے بعد رکھنے) کی فضیلت حا صل ہو جائے گی۔

(9):    شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ (ت1394ھ) نے اپنی کتاب ”اعلاء السنن“ میں ان روزوں کے استحباب کو ثابت کیا اور باقاعدہ عنوان قائم کیا ہے:

بَابُ اسْتِحْبَابِ صِیَامِ سِتَّۃٍ مِنْ شَوَّالٍ وَصَوْمِ عَرَفَۃَ.

( اعلاء السنن: کتاب الصوم ، رقم الحدیث 2541)

ترجمہ: باب، شوال کے چھ روزوں اور عرفہ کے دن کے روزے کے استحباب کا بیان

(10):  حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید  رحمہ اللہ(ت1413ھ) لکھتےہیں:

”عید کے مہینے [یعنی شوال میں] میں جب بھی چھ روزے رکھ لیے جائیں خواہ لگاتار رکھے جائیں یا متفرق طور پر پورا ثواب ملے گا“

(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ج4 ص644)

(11):  دار العلوم دیوبند کی ویب سائٹ پہ ایک سوال کے جواب میں یہ تحریر ہے:

”رمضان کے روزے رکھنے کے بعد عید کے دن کے علاوہ شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھنے کی حدیث شریف میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: من صام رمضان ثم أتبعہ ستًا من شوال کان کصیام الدہر ، ترجمہ: جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سال بھر روزے رکھے۔“

(فتویٰ نمبر: Fatwa:506-439/D=5/1439)

(12):  دار الافتاء علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کی ویب سائٹ پہ آویزاں فتویٰ میں ہے:

” شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے، احادیثِ مبارکہ میں  اس کی  فضیلت وارد ہوئی ہے، چناں چہ رسول ﷲصلی ﷲعلیہ وسلم کاارشادِ گرامی صحیح سندکے ساتھ حدیث کی مستندکتابوں میں موجودہے:

عن أبي أیوب عن رسول اللہ ﷺ قال: من صام رمضان ثم أتبعه ستًّا من شوال فذاک صیام الدهر. رواه الجماعة إلا البخاري والنسائي. ( اعلاء السنن لظفر احمد العثمانی -کتاب الصوم – باب استحباب صیام ستۃ من شوال وصوم عرفۃ -رقم الحدیث ۲۵۴۱- ط: ادارۃ القرآن کراچی )

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے  رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے۔

(فتویٰ نمبر: 144008201675)

[3]: بعض اہلِ علم کا شبہ

بعض اہلِ علم کو  فتاویٰ عالمگیری کی درج ذیل عبارت سے شبہ ہوا جس سے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ان روزوں کی کراہت کے قائل ہیں۔

فتاویٰ عالمگیری کی عبارت درج ذیل ہے:

وَيُكْرَهُ صَوْمُ سِتَّةٍ مِنْ شَوَّالٍ عِنْدَ أَبِيْ حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالٰى مُتَفَرِّقًا كَانَ أَوْ مُتَتَابِعًا.

(فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص201)

ترجمہ:  امام ابو حنیفہ         رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہیں؛ چاہے الگ الگ رکھے جائیں یا اکٹھے رکھے جائیں۔

اس شبہ کا ازالہ

(1):    امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف مطلقاً کراہت کی جو نسبت کی گئی ہے یہ درست نہیں۔ چنانچہ خود فتاویٰ عالمگیری کی محوّلہ عبارت کے آگے یہ عبارت مرقوم ہے جس میں ان روزوں کے متعلق اصح قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ ان روزوں کو کسی بھی طرح رکھا جائے تو درست ہے، ان میں کوئی حرج کی بات نہیں!  عبارت یہ ہے:

لٰكِنَّ عَامَّةَ الْمُتَأَخِّرِينَ لَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا هٰكَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ.

                                                   (فتاویٰ عالمگیری: ج1 ص201)

ترجمہ: لیکن تمام متاخرین حضرات ان روزوں کو رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ البحر الرائق (شرح کنز الدقائق لابن نجیم المصری) میں اسی طرح لکھا ہے۔ صحیح تر بات یہی ہے کہ ان روزوں کو رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ محیط سرخسی میں اسی طرح لکھا ہے۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف جو کراہت کا قول منسوب ہے اس کے بارے میں محدث جلیل علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ (ت1397ھ)  تحقیقی بات فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:

نُسِبَ إِلٰى أَبِي حَنِيفَةَ وَمَالِكٍ كَرَاهَتُهَا وَإِلَى الشَّافِعِيّ وَأَحْمَدَ اسْتِحْبَابُهَا ، وَالنُّقُوْلُ الَّتِيْ حَكَاهَا الْمُتَأَخِّرُوْنَ مِنَ ابْنِ نُجَيْمٍ وَالْكَمَالِ وَابْنِ الْكَمَالِ وَغَيْرِهِمْ مِنْ عُلَمَائِنَا مُضْطَرَبَةٌ وَلٰكِنْ أَفَرَدَ هٰذَا الْمَوْضُوعَ الْمُحَقِّقُ الْعَلَّامَةُ الْحَافِظُ قَاسِمُ بْنُ قُطْلُوْبُغَا بِرِسَالَةٍ خَاصَّةٍ سَمَّاهَا “تَحْرِيْرُ الْأَقْوَالِ فِي صَوْمِ السِّتِّ مِنْ شَوَّالٍ” وَحَقَّقَ مِنْ نُصُوصِ الْمَذْهَبِ اسْتِحْبَابَهَا عِندَ أَبِيْ حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوْسَفَ.

(معارف السنن للبنوری: ج5 ص443)

ترجمہ: امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کی طرف کراہت کی اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کی طرف ان روزوں کے مستحب ہونے کی نسبت کی گئی ہے۔ ہمارے متاخرین علماء مثلاً ابن نجیم، کمال الدین (ابن الہمام)، ابن کمال (پاشا) وغیرہ نے جو نقول (اس کراہت کی نسبت کے متعلق) پیش کی ہیں وہ خود اضطراب کا شکار ہیں۔ ہاں البتہ  محقق علامہ حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ نے خاص اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ  لکھا ہے جس کا نام ”تحریر الاقوال فی صوم الست من شوال“  رکھا ہے۔ اس رسالہ میں انہوں نے مذہب حنفی کی نصوص پیش کی ہیں کہ یہ روزے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک مستحب ہیں۔

(2):    شوال کے یہ روزے اس وقت مکروہ ہیں جب انہیں اس طرح رکھا جائے کہ پہلا روزہ یکم شوال (عید الفطر) کے دن رکھا جائے  اور باقی پانچ روزے اس کے بعد ہوں۔ یہ تتابع (پے در پے ہونا) مکروہ ہے۔

چنانچہ علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی  الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:

وَالاِتْبَاعُ الْمَكْرُوهُ أَنْ يَصُومَ الْفِطْرَ وَخَمْسَةً بَعْدَهُ فَلَوْ أَفْطَرَ الْفِطْرَ لَمْ يُكْرَهْ بَلْ يُسْتَحَبُّ وَيُسَنُّ ابْنُ كَمَالٍ.

(الدر المختار للحصکفی:ج3 ص486)

ترجمہ: چھ روزے پے در پے رکھنے کی وہ صورت مکروہ ہے کہ عید الفطر کا بھی روزہ ہو اور اس کے بعد بھی پانچ روزے رکھے ہوں۔ ہاں اگر عید کا روزہ نہ رکھا ہو تو اب مکروہ نہیں بلکہ اب یہ روزے مستحب اور مسنون ہوں گے۔ ابن کمال پاشا کا یہی کہنا ہے۔

[4]:  شوال کے چھ روزوں کے متعلق چند مسائل

1:      اگر رمضان کے روزے  کسی وجہ سے رہ گئے ہوں (سستی کی وجہ سے، بیماری کی وجہ سے، عورت کے حیض ونفاس کی وجہ سے وغیرہ) تو  احتیاطاً پہلے ان روزوں کی قضاء کی جائے، بعد میں شوال کے بقیہ دنوں میں ان چھ روزوں کو رکھا جائے۔

2:      شوال کے یہ چھ روزے عید کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں بلکہ عید کے دن کے بعد جب  بھی چاہے رکھ  سکتے ہیں۔ بس اس بات کا اہتمام کر لیا جائے کہ ان چھ روزوں کی تعداد شوال میں مکمل ہو جانی چاہیے۔

3:      شوال کے یہ چھ روزے؛ نفلی روزے ہیں۔ ان کی نیت کرنے کے وقت کے متعلق افضل تو یہی ہے کہ ان کی نیت صبحِ صادق سے پہلے پہلے کر لی جائے۔ اگر صبح صادق سے پہلے یہ روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں تھا اور صبح صادق کے بعد ارادہ ہوا تو اگر کچھ کھایا پیا نہیں تھا تو روزہ رکھنے کی نیت درست ہے۔  نصف النہار شرعی سے کچھ پہلے تک اس روزے کی نیت کر سکتے ہیں۔ نصف النہار شرعی یہ ہے کہ طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک کے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے۔ تو ہر حصہ نصف النہار شرعی ہے۔ پہلے حصے سے پہلے پہلے نیت کر لی جائے۔

4:      اگر کسی نے عید الفطر کے بعد قضاء کی نیت سے روزہ رکھا اور ساتھ ساتھ شوال کے ان نفلی روزوں کی نیت بھی کی تو یہ روزہ قضاء کا شمار ہو گا، شوال کی مخصوص فضیلت والا روزہ شمار نہیں ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved